افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (NDS) کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کے پاکستان پر الزامات بے بنیاد پراپیگنڈا اور داخلی افغان سیکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی بدنما کوشش ہے۔
مزید پڑھیں:کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
عالمی رپورٹس کے مطابق افغانستان کا خفیہ ادارہ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس (GDI) داعش خراسان کی سرگرمیوں کو بدنیتی سے پاکستان سے جوڑ رہا ہے۔ رحمت اللہ نبیل نے حالیہ کابل بم دھماکے کے بارے میں کہا تھا کہ اس کی منصوبہ بندی نوشہرہ میں کی گئی اور کابل کے مقامی بانشدوں کو استعمال کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رحمت اللہ نبیل کے الزامات بھارت اثر رسوخ والے افغان ادارے GDI کے بیانیے سے مماثلت رکھتے ہیں، اور ان کا مقصد صرف افغانستان میں بڑھتے ہوئے ISKP خطرے سے توجہ ہٹانا ہے، جس سے غیر ملکی مفادات، بشمول چین کی موجودگی، متاثر ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، چینی شہری سمیت 7 افراد ہلاک
عالمی رپورٹس اور اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق ISKP کی موجودگی افغان سرزمین پر حقیقی اور خطرناک ہے، اور افغان بیانات حقیقت کو بدل نہیں سکتے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چینی حکام کو واضح ہے کہ کس نے حملوں میں سہولت فراہم کی اور حملوں میں کون ملوث ہے۔














