رنویر سنگھ کی ایکشن سے بھرپور بالی ووڈ فلم دھُرندھر اب نیٹ فلکس پر دستیاب ہے تاہم جشن کی بجائے فلم کی اسٹریمنگ ریلیز پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ فلم کے کچھ سینز میں ترمیم کی گئی ہے اور ڈائیلاگز کاٹ دیے گئے ہیں۔
ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے یہ دعویٰ کیا کہ تقریباً دس منٹ کی فوٹیج تراش دی گئی ہے اور کچھ ڈائیلاگز کو ایڈیٹ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر بھارت میں مداحوں نے اس اقدام پر اعتراض کیا کیونکہ OTT پلیٹ فارمز بالغ ناظرین کے لیے مواد فراہم کرتے ہیں اور عام طور پر بغیر سنسر مواد پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دھُرندھر میں بڑی تبدیلیاں کردی گئیں، یہ سب کس کے دباؤ میں ہوا؟
فینز نے فوراً اس تضاد کی نشاندہی کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ فلم کو ‘A’ سرٹیفائیڈ کیا اور پھر بھی الفاظ کو خاموش کر دیا؟ کیا ہم پانچ سال کے بچے ہیں؟ اس ایپ پر ہر ناظر 18 سال سے بڑا ہے۔ فلم کے اصل ماحول کو کٹوتی اور سنسر کرنے سے خراب کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔
ایک اور ناظر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں واقعی امید کر رہا تھا کہ یہ بغیر کٹوتی کے ورژن آئے گا لیکن انہوں نے دھوکہ دہی والے الفاظ کو تھیٹر ورژن کی طرح خاموش کر دیا۔ ایک تیسرے صارف نے بس یہ سوال پوچھا کہ یہ الفاظ سنسر کیوں کیے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: تنقید کے باوجود بھارتی فلم ’دھرندر‘ کی کامیابی، ایجنڈا کیا ہے؟
اب تک نیٹ فلِکس نے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا کہ ترمیم کی وجہ کیا ہے یا سنسر شدہ مواد کیوں دکھایا گیا۔














