تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 8 فروری کو احتجاج کے اعلان کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پورے ملک میں شٹر ڈاؤن احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے پی ٹی آئی پہلے سے سرگرم ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس سے قبل ہی اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کر چکے ہیں۔ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے علاوہ لاہور، سندھ میں کراچی اور حیدرآباد کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
پشاور پر خصوصی توجہ، مکمل شٹر ڈاؤن کی تیاری
پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں حکومت ہے، اور پارٹی کے احتجاج یا جلسوں کی کامیابی کا انحصار بھی زیادہ تر خیبر پختونخوا پر رہا ہے۔ اسی بنا پر اس بار خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور، پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی اجلاس، 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مشعل بردار ریلیوں کا اعلان
پارٹی قائدین کے مطابق صوبائی وزرا اور صوبائی و ضلعی قیادت اس حوالے سے سرگرم ہے۔ ان کے مطابق مختلف اپوزیشن جماعتوں سے بھی ملاقاتیں ہو رہی ہیں تاکہ وہ اس احتجاج میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیں۔
گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ایک وفد نے سیاسی مخالف جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکز کا دورہ کیا، جہاں پارٹی قیادت سے ملاقات کی گئی۔ پی ٹی آئی وفد نے جے یو آئی (ف) کو مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی، جس پر جے یو آئی نے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا۔
ٹرانسپورٹرز سے ملاقات، پہیہ جام کی اپیل
صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے ایک وفد نے پشاور کے سب سے بڑے ٹرانسپورٹ اڈے، حاجی کیمپ اڈے، کا دورہ کیا اور ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر عہدیداران سے ملاقات کی۔

مینا خان کے مطابق 8 فروری کو پورے صوبے میں احتجاج ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کے پاس آنے کا مقصد انہیں 8 فروری کے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج میں شرکت کی دعوت دینا اور پہیہ جام کی اپیل کرنا تھا۔ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہو گا، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سب سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 8 فروری کو پورے پاکستان میں احتجاج ہو گا۔ پشاور میں نشترآباد چوک میں ورکرز جمع ہوں گے، جہاں احتجاج کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے۔
سہیل آفریدی کی پارٹی قیادت اور یوتھ سے مشاورت
گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی قیادت اور ورکرز کے ساتھ مشاورت کی اور 8 فروری کے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے ہدایات دیں۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کس پی ٹی آئی رہنما کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں؟
وہاں موجود ایک یوتھ عہدیدار نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے اراکین اسمبلی اور قائدین کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنے اور انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ احتجاج کی کال محمود خان اچکزئی نے دی ہے، لیکن فیصلہ عمران خان کا ہے، اور اسے کامیاب بنانے کی ذمہ داری بھی پی ٹی آئی کی ہی ہے۔
بلوچستان سے خیبر تک احتجاج ہو گا؟
شفیع جان نے بتایا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں احتجاج ہو گا اور پی ٹی آئی کے ورکرز بڑی تعداد میں اپنے اپنے شہروں میں نکلیں گے۔ پورے ملک میں احتجاج ہو گا، بلوچستان سے لے کر خیبر تک احتجاج ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج کی تیاریاں مکمل ہیں اور ورکرز مبینہ دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف یوتھ کے رہنما اور سابق مشیر وزیراعلیٰ ڈاکٹر شفقت ایاز نے بھی بتایا کہ 8 فروری کو ملک گیر احتجاج ہو گا۔
کیا اسلام آباد مارچ کا ارادہ ہے؟
پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنما 8 فروری کو خیبر پختونخوا کے بجائے اسلام آباد میں احتجاج کے خواہشمند ہیں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ احتجاج کے کچھ خاص فوائد سامنے نہیں آ رہے، جس کی وجہ سے ورکرز بھی مایوس ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس بار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسٹریٹ موومنٹ کے تحت ورکرز کو بڑی حد تک متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہر بار احتجاج ہوتا ہے، یہاں پارٹی کی حکومت ہے، رکاوٹ نہیں۔ اصل چیلنج دوسرے صوبوں میں احتجاج کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:میں اور بھائی والد سے ملنے آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ویزا نہیں دے رہی، عمران خان کے بیٹےکا شکوہ
انہوں نے بتایا کہ پارٹی میٹنگز میں کچھ رہنماؤں نے اسلام آباد یا راولپنڈی میں احتجاج کا مشورہ دیا تھا، تاہم اس پر اتفاق نہیں ہو سکا اور موقف اپنایا گیا کہ احتجاج کہاں اور کب ہو گا، اس کا فیصلہ محمود خان اچکزئی کریں گے۔
تاہم شفیع جان نے بتایا کہ اس بار اسلام آباد مارچ یا اسلام آباد میں احتجاج کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
‘ملک کے تمام شہروں میں احتجاج ہو گا۔’
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ورکرز پر تشدد ہوتا ہے اور گولیاں چلائی جاتی ہیں، جس سے ورکرز کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ پہلے بھی ورکرز پر گولیاں چلائی گئیں اور اس بار بھی چلائی جا سکتی ہیں، اس لیے اسلام آباد کا رخ نہیں کیا جائے گا۔
‘مکمل شٹر ڈاؤن احتجاج ہو گا’
پی ٹی آئی یوتھ کے رہنما ڈاکٹر شفقت ایاز نے بتایا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہو گا۔ پورا ملک جام ہو گا، جو کہا جائے گا وہی احتجاج کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کو یومِ سیاہ کے طور پر منائے گی۔
پی ٹی آئی کے ایم این اے شہرام ترکئی نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 8 فروری کو ہر چوک ڈی چوک بنے گا، اور ملک کے ہر کونے میں احتجاج ہو گا۔
پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی اپنے فیصلے خود نہیں کر رہی بلکہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی طرف دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ دھاندلی پی ٹی آئی کا مسئلہ ہے اور پی ٹی آئی ہی اس سے متاثر ہوئی ہے، جبکہ محمود خان اچکزئی کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ تیاریاں ہم کریں گے، ورکرز ہمارے ہوں گے، تشدد ہمارے ورکرز پر ہو گا، لیکن اعلان اور مرضی دوسروں کی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اندرونی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ورکرز کو کسی پر بھی بھروسہ نہیں رہا۔ علی امین گنڈاپور کے اقدامات کے بعد سہیل آفریدی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ 8 فروری کو ورکرز نکلیں گے اور احتجاج بھی ہو گا، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔













