مبصرین اور دینی حلقوں نے کہا ہے کہ فتنہ پرور عناصر ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت دین، خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر اپنے جرائم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہی عناصر معصوم بچوں، عورتوں اور نمازیوں کو مساجد، امام بارگاہوں، جمعہ کی نماز اور جنازوں کے اجتماعات میں بے دردی سے نشانہ بناتے ہیں اور مذہبی جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کر کے دہشت گردی کو تقدس کا لبادہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا
اسلام میں مسجد کی حرمت مسلم ہے، تاہم فقہائے کرام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی مقام کو فساد، قتل و غارت اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ اپنی اصل حیثیت کھو دیتا ہے۔ مسجد وہی ہے جہاں اللہ کی عبادت ہو، نہ کہ وہاں سے معصوم شہریوں کے قتل کی منصوبہ بندی کی جائے۔
مبصرین کے مطابق جو عناصر مساجد اور مدارس کو اسلحہ گاہ اور دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل کرتے ہیں، وہ درحقیقت ان مقدس مقامات کی خود بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں فساد فی الارض کی سخت مذمت کی گئی ہے اور انسانی جان کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں کارروائی سے دہشتگردی کی نذر ہونے والے معصوموں کا بدلہ لیا، طارق فضل چوہدری
علما کے مطابق اگر ریاست ایسے مراکز کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو یہ حرمتِ دین کے خلاف نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ اور حقیقی تقدس کے قیام کے لیے اقدام ہے۔













