وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کی تاریخ کی پہلی ای ٹیکسی سکیم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ یہ منصوبہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی گرین ای ٹیکسی اسکیم کیا ہے، کون اپلائی کرسکتا ہے؟
پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک وہیکلز تقسیم کی جا رہی ہیں جو لاہور سمیت صوبے کے بڑے شہروں میں ٹیکسی سروس کے طور پر چلیں گی۔
اسکیم میں خواتین کے لیے 30 فیصد کوٹہ مخصوص کیا گیا ہے جبکہ خواتین ڈرائیوروں کی گاڑیوں کا رنگ الگ ہوگا تاکہ مسافر آسانی سے پہچان سکیں۔
یہ منصوبہ ٹرانسپورٹ ویژن 2030 کا حصہ ہے اور اس کا مقصد صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا اور الیکٹرک وہیکلز کی عوامی سطح پر رسائی بڑھانا ہے۔
حکومت پنجاب نے اس اسکیم کے لیے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے جو ڈاؤن پیمنٹ، سود کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کو پورا کرے گی۔
ابتدائی مرحلے میں آن لائن درخواستوں کی آخری تاریخ اکتوبر 2025 مقرر کی گئی تھی اور ہزاروں درخواستوں میں سے قرعہ اندازی (بیلوٹنگ) کے ذریعے امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔
مزید پڑھیے: لاہور میں مرد و خواتین کو ای ٹیکسیاں بلاسود قرضوں پر دی جائیں گی، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان
اسکیم کے تحت مرد ڈرائیوروں کے لیے 50 فیصد جبکہ خواتین ڈرائیوروں کے لیے 60 فیصد ڈاؤن پیمنٹ حکومت ادا کرے گی۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن، فٹنس ٹیسٹ اور ٹوکن ٹیکس کی فیس بھی حکومت برداشت کرے گی۔
باقی رقم 5 سالہ آسان اور بلاسود اقساط میں ادا کی جائے گی جس سے یہ منصوبہ مالی طور پر قابل رسائی بنے گا۔
ڈرائیوروں اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر گاڑی میں پینک بٹن نصب کیا جائے گا جو پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سے منسلک ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
ای ٹیکسی اسکیم کی گاڑیاں معروف رائیڈ شیئرنگ کمپنیوں ان ڈرائیو اور ینگو کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گی جس سے ڈرائیوروں کو مستحکم کمائی کے مواقع میسر آئیں گے۔
مزید برآں، شاپنگ مالز، ریلوے اسٹیشنز، بس اڈوں اور پارکس جیسے عوامی مقامات پر فاسٹ چارجرز نصب کیے جائیں گے تاکہ چارجنگ کی سہولت آسانی سے دستیاب ہو۔
حکومت کے مطابق یہ اسکیم نہ صرف بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گی بلکہ خواتین کی محفوظ اور بااختیار نقل و حرکت کو بھی یقینی بنائے گی۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد
اس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی گاڑیوں کی قیمت 60 سے 65 لاکھ روپے کے درمیان رکھی گئی ہے جس پر حکومتی سبسڈی دی جائے گی۔












