حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں فی لیٹر 5،5 روپوں کی کمی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ایک سال میں کتنے ارب ڈالر خرچ کیے گئے؟
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت اب 409 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے جبکہ ڈیزل 409 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پیٹرول فی لیٹر 14 روپے 92 پیسے مہنگا کردیا گیا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اس طرح پیٹرول کی قیمت 414 روپے 78 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے کردی گئی تھی جس میں اب 5،5 روپے کی کمی کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے مالی سال 26-2025 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں ماہانہ اربوں روپے وصول کیے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) یکم جولائی 2024 سے بدستور ختم ہے۔
قومی اسمبلی میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک پیٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 1205 ارب 18 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد وصول کیے گئے۔
مزید پڑھیے: سینیٹ کمیٹی کا پیٹرول بحران، گیس لوڈشیڈنگ اور ایل پی جی قیمتوں میں اضافے پر سخت نوٹس
دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 میں 145 ارب 6 کروڑ روپے، اگست میں 115 ارب 9 کروڑ روپے، ستمبر میں 111 ارب 45 کروڑ روپے اور اکتوبر میں 142 ارب 57 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے پیٹرول، ڈیزل اور خام تیل کی درآمد پر کھربوں روپے خرچ کیے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ استعمال کیا۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ ایک سال میں 53 لاکھ 53 ہزار 23 میٹرک ٹن پیٹرول درآمد کیا گیا جس کی مالیت 3 ارب 989 ملین امریکی ڈالر ہے۔ یہ رقم قریباً ایک ہزار 116 ارب پاکستانی روپے بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پیٹرول فی لیٹر 14 روپے 92 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 15 روپے مہنگا
مزید برآ اسی عرصے میں 19 لاکھ 96 ہزار 377 میٹرک ٹن ڈیزل درآمد کیا گیا جس پر ایک ارب 352 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے جو پاکستانی کرنسی میں قریباً 378 ارب 56 کروڑ روپے بنتے ہیں۔














