ٹی20 ورلڈ کپ، پاکستان کا سری لنکا کے خلاف اہم میچ آج، قومی ٹیم کس طرح سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہے؟

ہفتہ 28 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے ایک سخت لیکن بالکل واضح مساوات کا سامنا ہے۔ پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو آج سری لنکا کے خلاف نہ صرف فتح درکار ہے بلکہ بڑی برتری سے جیتنا بھی لازمی ہے۔

گروپ مرحلے کے اختتامی مرحلے میں ایک بار پھر رن ریٹ کے پیچیدہ حساب کتاب نے صورتحال کو سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ یہ فیصلہ کن میچ آج سری لنکا کے پالے کیلے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ 1.390 ہے جبکہ پاکستان کا منفی 0.461 ہے۔

ایسی صورتحال میں سلمان آغا کی قیادت میں گرین شرٹس کو یا تو تقریباً 64 رنز سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی، یا پھر سری لنکا کا کوئی بھی ہدف لگ بھگ 13.1 اوورز میں حاصل کرنا ہوگا۔ پالے کیلے میں پاکستان کے لیے یہی اعداد و شمار فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ سپر 8 مرحلہ: انگلینڈ نے سری لنکا کو 51 رنز سے شکست دے دی

ٹورنامنٹ میں اب تک پاکستان کی مڈل اوورز میں محتاط حکمت عملی تنقید کی زد میں رہی ہے۔ بابر اعظم کی جگہ اور اسٹرائیک ریٹ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ کپتان سلمان آغا بھی بیٹنگ اور قیادت دونوں شعبوں میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر پاکستان معمولی انداز میں باہر ہوا تو قیادت میں تبدیلی کی بازگشت بھی سنائی دے سکتی ہے۔

دوسری جانب سری لنکا پہلے ہی سپر ایٹ مرحلے سے باہر ہو چکا ہے، تاہم وہ اعزاز کی خاطر کھیلتے ہوئے پاکستان کے راستے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ نوجوان اسپنر دونیتھ ویلالاگے پاکستانی ٹاپ آرڈر کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں کسی بڑی ٹیم کے خلاف شاذ ہی اتنے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی ہے، تاہم آئی سی سی ایونٹس میں غیر متوقع کارکردگی پاکستان کی پہچان رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا گرین شرٹس دباؤ میں تاریخ رقم کر پاتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈکپ سپر8: نیوزی لینڈ کو انگلینڈ کے ہاتھوں 4 وکٹوں سے شکست، پاکستان کی سیمی فائنل کے لیے امیدیں برقرار

یہ مقابلہ پالے کیلے میں اسی وکٹ پر کھیلا جائے گا جہاں انگلینڈ اور پاکستان کا میچ ہوا تھا۔ اس پچ پر فاسٹ بولرز کو خاصی مدد ملی تھی اور ابتدائی اوورز میں گیند میں ہلکی سی موومنٹ بھی دیکھی گئی تھی۔ کینڈی میں گزشتہ ہفتے موسم خشک رہا ہے اور امکان ہے کہ اختتامِ ہفتہ تک بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی، جس کے باعث پچ خشک رہنے اور ابتدا میں رفتار ساز بولرز کو معاونت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان کی متوقع ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان آغا (کپتان)، بابر اعظم یا خواجہ نافع، فخر زمان، شاداب خان، عثمان خان (وکٹ کیپر)، محمد نواز یا فہیم اشرف، شاہین آفریدی، سلمان مرزا یا نسیم شاہ اور عثمان طارق شامل ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزادکشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں کیوں ضروری ہیں اور آئین کیا کہتا ہے؟

پیراگوئے میں پہلی بار میٹھے پانی میں حیران کردینے والی نئی نسل کی جیلی فش دریافت

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا امرتسر کے بعد بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

ایران امریکا ممکنہ معاہدہ: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا پیشرفت پر اطمینان کا اظہار

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں