خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے میں کفایت شعاری مہم کا آغاز کردیا گیا ہے، صوبابی کابینہ کے وزرا اور ارکان اسمبلی اپنی 2 ماہ کی تنخواہیں کفایت فنڈز میں دیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا پہلا ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ حالات کے پیش نظر صوبے میں کفایت شعاری مہم کے باقاعدہ آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزرا، ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جس کا مقصد سفری اخراجات میں کمی اور حکومتی وسائل کی بچت قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کفایت شعاری مہم کا دائرہ وسیع، وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی منظوری دیدی
کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت خود کفایت شعاری اپناتے ہوئے وسائل عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت مشکل حالات میں عام آدمی پر بوجھ کم کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے اور کفایت شعاری کا آغاز حکومتی سطح سے کیا جا رہا ہے۔
کفایت شعاری مہم کے تحت صوبائی کابینہ ارکان، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکرٹریز اپنی دو ماہ کی تنخواہیں وزیراعظم کفایت فنڈ میں جمع کرائیں گے، جبکہ پنجاب اسمبلی کے ارکان رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاؤنسز کا 25 فیصد فنڈ میں دیں گے۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران بھی دو دن کی بنیادی تنخواہ کفایت فنڈ میں جمع کرائیں گے۔
اجلاس میں رمضان نگہبان پروگرام کی کامیاب تکمیل پر اظہار تشکر کیا گیا اور ضلعی انتظامیہ، پولیس، پنجاب بینک اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ کابینہ نے ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بروقت انتظامات اور مظاہرین کو افطاری فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ: کفایت شعاری مہم جاری رکھنے کی منظوری، عوام کی ایک ایک پائی کی حفاظت کروں گا، وزیراعظم
کابینہ نے متعدد ترقیاتی اور انتظامی منصوبوں کی منظوری دی جن میں پنجاب بھر میں الیکٹرک بس اسٹاپ شیلٹرز کی تعمیر، اعلیٰ عدلیہ کیلئے 10 سرکاری گاڑیوں کی خریداری، قصور میں میاں نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام کیلئے اراضی کی فراہمی اور سرگودھا میں قائداعظم انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کے چارٹر کی منظوری شامل ہے۔
راولپنڈی کیلئے واٹر ڈسٹری بیوشن منصوبہ اور چرڈ ڈیم کی تعمیر، کندیاں میں سپورٹس کمپلیکس، سائبر سکیورٹی پراجیکٹ، مری میں خصوصی بچوں کیلئے جدید سپیشل ایجوکیشن مڈل سکول، اور شیخ زید ٹو ٹیچنگ ہسپتال رحیم یار خان کی تکمیل کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کیلئے پولیس باڈی کیمز اور پینک بٹن تنصیب کیلئے فنڈز، پنجاب ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول میں ایس ایس جی تربیت یافتہ انسٹرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے، اور کرائم سین یونٹ پی ایف ایس اے رولز 2025 کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت کا بڑا کفایت شعاری پیکج، اخراجات میں نمایاں کمی کے لیے اہم فیصلے
کابینہ نے صحت، تعلیم اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد فیصلے بھی کیے جن میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عمر کی حد 65 سال تک بڑھانا، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں بھرتیاں، چائلڈ پروٹیکشن کورٹ لاہور کیلئے پریزائیڈنگ آفیسر کی نامزدگی اور پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2024 میں آن لائن بڈنگ ترامیم شامل ہیں۔
اسی طرح سیالکوٹ میں گورنمنٹ کمپلیکس کیلئے 120 ایکڑ اراضی کی منتقلی، فیروزپور روڈ سے سپیشل اکنامک زون تک ساڑھے 4 کلومیٹر سڑک کی توسیع، سیلابی پانی سے بچاؤ کیلئے بندوں کی تعمیر اور سرحدی علاقوں میں دفاعی بندوں کی مرمت کیلئے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے انسداد منشیات پالیسی، پنجاب کریمنل پراسکیوشن سروس رولز، پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی ایکٹ 2024، انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی ایکٹ 2025 میں ترامیم اور مختلف اداروں کیلئے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں: کفایت شعاری مہم: حکومت نے وزرا اور سرکاری افسران پر کون سی سفری پابندیاں عائد کی ہیں؟
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وہ صرف عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتی ہیں اور عوامی مفادات کے خلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری، ترقی اور عوامی سہولتوں کا عمل بیک وقت جاری رکھا جائے گا تاکہ وسائل کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔












