آزاد کشمیر: الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کو نئے امتحان کا سامنا، پارٹی کے 2 دعویدار سامنے آگئے

پیر 16 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات سے قبل ایک نئی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر چیپٹر کے حوالے سے 2 دعویدار سامنے آ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت آزاد کشمیر کا وفاقی حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کو اپنانے کا فیصلہ

پیر کے روز پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر کو پی ٹی آئی پاکستان کے نام سے رجسٹر کرانے کے لیے باضابطہ طور پر نئی درخواست جمع کرا دی گئی۔

یہ درخواست الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر میں جمع کرائی گئی ہے جس میں جماعت کو مقامی انتخابی قوانین کے تحت بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست کے مطابق مظفرآباد کے علاقے گوجرا کے رہائشی شیراز خان ولد حاجی اکبر خان نے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو تحریری طور پر مؤقف پیش کیا ہے کہ جماعت کو آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کے سیکشن 128 اور آزاد جموں و کشمیر الیکشن رولز 2020 کے تحت باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کیا جائے تاکہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکے۔

مزید پڑھیے: آصف زرداری کی زیرصدارت اہم اجلاس، آزاد کشمیر میں جیالا صدر لانے کا فیصلہ

درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے بانی اکبر ایس بابر ہیں جنہوں نے تحریری اختیار نامہ جاری کرتے ہوئے شیراز خان کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں پی ٹی آئی پاکستان کی رجسٹریشن کے تمام مراحل مکمل کریں اور جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابی عمل میں حصہ لیں۔ اس ضمن میں ایک اتھارٹی لیٹر بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق پارٹی اپنے نظریاتی مؤقف میں پاکستان کے نظریے اور ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اسی بنیاد پر آزاد جموں و کشمیر کے آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہے۔

درخواست کے ساتھ جماعت کا آئین، مقاصد، تنظیمی ڈھانچہ، مرکزی اور مقامی عہدیداران کی فہرست اور رکنیت کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہیں۔

علاوہ ازیں پارٹی کے مالیاتی معاملات اور فنڈنگ سے متعلق معلومات بھی جمع کرائی گئی ہیں تاکہ انتخابی قوانین کے مطابق شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری سے پی پی پی خیبرپختونخوا کے رہنماؤں اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی ملاقات

الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق درخواست کے ساتھ دیگر ضروری دستاویزات بھی جمع کرائی گئی ہیں جن میں عہدیداران کے شناختی کارڈز کی نقول، حلف نامے، مالی تفصیلات اور یہ ثبوت شامل ہیں کہ پارٹی نے کسی بھی ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل نہیں کیے۔

درخواست میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فراہم کی گئی تمام معلومات درست اور مستند ہیں اور پارٹی آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 اور متعلقہ قوانین کی مکمل پابندی کرے گی، جس میں مالی حسابات کی شفافیت، انتخابی اخراجات کی تفصیلات اور دیگر قانونی تقاضوں پر عمل شامل ہے۔

شیراز خان نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت پی ٹی آئی پاکستان کو جلد از جلد بطور سیاسی جماعت رجسٹر کیا جائے اور آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی کو انتخابی نشان بھی الاٹ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو کسی وضاحت یا اضافی معلومات کی ضرورت ہو تو وہ ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: علما کرام شہریوں کی سادگی سے شادی کے لیے رہنمائی کریں، حکومت آزاد کشمیر کی اپیل

واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں کسی نئی جماعت یا نئے نام سے رجسٹریشن کی درخواست انتخابی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہے کیونکہ انتخابات سے قبل سیاسی صف بندی اور اتحادوں میں تبدیلیاں اکثر دیکھنے میں آتی ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ الیکشن کمیشن اس درخواست پر کیا فیصلہ کرتا ہے اور آیا پی ٹی آئی پاکستان کو باضابطہ رجسٹریشن ملتی ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات: نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان یا ترکی بھیجنے کی قیاس آرائیاں

قاسم خان کا جنیوا میں بی این ایم رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب، پاکستان مخالف حلقوں سے روابط پر سوالات

ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے، امریکا کا انتباہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو دورہ چین کا اعلان، صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ