اخباری مالکان کی قصیدہ گوئی کرتے ہوئے بڑے بڑے نامورانِ صحافت نے قلم توڑا ہے۔ ماضی میں زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں، ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہے، ایک اخبار کے مالک نے کتاب لکھ ماری تو بس پھر کیا تھا، اخبار میں رنگ برنگ کالم نویسوں نے اس کی دانش کے اتنے گُن گائے کہ خدا کی پناہ۔
اس رطب و یابس کو جمع کر لیا جائے تو اصل کتاب سے موٹی تصنیف وجود میں آجائے گی۔ کئی روز تک معاملہ افتخار عارف کے مصرعے کے مصداق ہی رہا:
روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
ایک قلم کار نے کتاب پر کالم میں ابراہیم ذوق کے اس مصرع کو سرخی بنایا:
مؤذن مرحبا بروقت بولا
اور متن میں شعر کا دوسرا مصرع ٹانکا:
تری آواز مکے اور مدینے
اخباری مالکان کا اخبار کو ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنانا اب تو بہت عام ہے لیکن اس قبیح صحافتی رسم کو مجید نظامی نے نوائے وقت میں بہت فروغ بخشا جہاں ان کی تقریروں کو نمایاں کرکے شائع کیا جاتا تھا اور ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے تھے۔
یہ ہھی پڑھیں: عمران خان سے ظہیر عباس تک: بڑا ہے درد کا رشتہ
مالکان کی طرف سے صحافتی امور میں مداخلت بھی اردو صحافت کے زوال کی بڑی وجہ ہے۔ اس روش کو ایڈیٹروں نے خوش دلی سے قبول کر کے اپنے منصب کو بے توقیر کیا اور وہ محض ‘یس مین’ بن کر رہ گئے۔ اس لیے صحافیوں کے حقوق کی بات کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔ طاقت کے حقیقی مراکز کے سامنے کھڑے ہونے کا مالکوں میں بوتا ہے نہ ہی ایڈیٹروں کو اس کا یارا ہے۔
پاکستانی صحافت کی تاریخ کے طالب علم کے طور پر میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اخباری مالکان میں سب سے بلند قامت شخصیت پروگریسو پیپرز لمیٹیڈ کے مالک میاں افتخار الدین (1907 – 1962) کی نظر آتی ہے۔
میاں افتخار الدین کی تحسین ان کے اپنے اخبارات میں چھپ کر دنوں میں ہوا نہیں ہوئی بلکہ اس نے کتابوں میں جگہ پا کر دوام پایا۔
ان کے مداحین، بہار کی ہوا کی طرح آپ اپنا تعارف ہیں: فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی، سبط حسن، مظہر علی خان اور آئی اے رحمان ۔ ان سب نے میاں افتخار کو اپنے اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کیا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ پاکستان ٹائمز ، امروز اور لیل ونہار کے مالک تو کیا ہوتے اس دنیا میں بھی نہیں تھے۔
ان حضرات کی آراء کا ذکر کرنے سے پہلے لیجنڈری فوٹو گرافر ایف ای چودھری کی بات کرتے ہیں جن میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے انصاف کی خاطر مالک اور ایڈیٹر کے حکم سے سرتابی کی جرأت رندانہ موجود تھی۔
معروف صحافی اور صاحب اسلوب کالم نویس خالد حسن نے ’پاکستان ٹائمز‘ کے بارے میں طویل مضمون میں میاں افتخار الدین سے ایف ای چودھری کی جھڑپوں کے بارے میں لکھا ہے۔ ایک دن دونوں میں تلخی اس قدر بڑھی کہ اجیر نے آجر سے صاف صاف کہہ دیا:
’او میاں جا میں تیری نوکری نئیں کرنی’
اس سے اگلے دن میاں افتخار الدین ایف ای چودھری کے گھر گئے اور معذرت کرنے کے بعد ان سے کہا:
’لے فیر چودھری میں وی ویکھنا واں تو کیویں چھڈ کے جانا ایں‘۔
ایف ای چودھری نے معروف صحافی منیر احمد منیر کو انٹرویو میں اپنی ناراضی کی کتھا کچھ یوں سنائی تھی:
’میں نے کہا میں تو پاکستان ٹائمز کا Glorified فوٹو گرافر ہوں۔ میں تو سمجھتا تھا پاکستان ٹائمز میرا اخبار ہے، آج پتا چلا کہ اس کے مالک آپ ہیں۔ میں چلا جاتا ہوں۔ آپ میرا حساب میرے گھر بھیج دینا۔ سویرے سویرے میاں صاحب خود میرے گھر آئے اور مجھے واپس لے گئے۔ چنگے لوگ تھے۔ آج کل کہیں گے میاں چھٹی کر‘۔
اس انٹرویو میں ایف ای چودھری نے بتایا ہے کہ میاں افتخار الدین نے صدر اسکندر مرزا سے کہا تھا کہ خان عبدالغفار خان بے قصور ہیں، انہیں چھوڑ دیں، جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔
میاں افتخار الدین کے اخبارات نے بھی خان عبدالغفار خان کو قید کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اس بات کی تصدیق کے لیے ایک تو پاکستان ٹائمز کے لیے مظہر علی خان کے اداریوں کا مجموعہ ’پاکستان فرسٹ ٹویلیو اییرز‘ دیکھا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیے: منٹو کا ادب اور اشفاق احمد کا ’زاویہ‘
دوسرے احمد ندیم قاسمی نے سنہ 2004 میں روزنامہ جنگ میں اپنے کالم ’پاکستانی صحافت کے ایک اہم حصے پر قیامت گزر جانے کی کہانی‘ میں لکھا تھا کہ خان عبدالغفار خان سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند ہوئے تو امروز اور پاکستان ٹائمز نے اس زیادتی کے خلاف اداریے لکھے اور عرض کیا کہ ’اتنے بڑے سیاسی رہنما کو اتنے معمولی اور بدنام ایکٹ کے تحت نظر بند کرنا حکومت کی صریح عاقبت نا اندیشی ہے۔ آخر حکومت نے محترم لیڈر کو رہا کیا‘۔
خان عبدالغفار خان مہذب اور شائستہ انسان تھے، کڑے وقت میں جن لوگوں نے ان کے لیے آواز اٹھائی تھی،رہا ہونے کے بعد وہ ان کا شکریہ ادا کرنے بنفس نفیس امروز کے دفتر میں آئے اور ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے بعد پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مظہر علی خان کے پاس اظہارِ تشکر کے لیے تشریف لے گئے۔ اس موقع پر تینوں کی مشترکہ تصویر بھی اتاری گئی ۔ اس دن احمد ندیم قاسمی اپنے کام نمٹا کر گھر چلے گئے تو رات نو بجے دفتر سے فون آیا کہ میاں صاحب نے ضروری کام کے سلسلے میں دفتر آنے کو کہا ہے۔ قاسمی صاحب نسبت روڈ پر دیال سنگھ لائبریری کے عقب میں رہتے تھے۔ یہ جگہ پاکستان ٹائمز کے دفتر سے قریب تھی سو انہوں نے سائیکل نکالی اور فٹا فٹ دفتر پہنچے تو میاں صاحب کو ناراض پایا جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پریس میں اخبارات کے صفحہ اول پر اپنے ایڈیٹروں کے ساتھ خان عبدالغفار خان کی تصویر دیکھ لی تھی۔ اس پر انہیں اعتراض تھا کیونکہ ان کے خیال میں صرف خان صاحب کی تصویر چھپنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’میں دستور ساز اسمبلی کا ممبر ہوں اور جب پروگریسیو پیپرز کے دونوں اخباروں میں آپ میری وہ تقریر شائع کرتے ہیں جو میں نے اسمبلی میں کی تو میری چھنگلیا کے ناخن کے برابر میری تصویر درج ہوتی ہے اور آج یہاں میرے دونوں ایڈیٹروں کی پورے قد کی تصاویر اور وہ بھی اخباروں کے پہلے صفحے پر شائع ہو رہی ہیں۔ کیا ہم ایسی گھٹیا صحافت پر اتر آے ہیں؟‘
میاں صاحب نے وہ تمام صفحات جو چھپ چکے تھے انہیں ضائع کروایا اور پھر اس تصویر کی جگہ ایک خبر وہاں شائع ہوئی۔ احمد ندیم قاسمی کے بقول ’صرف اس ایک مثال سے واضح ہوتا ہے کہ میاں صاحب کتنے بلند صحافتی معیار کے علم بردار تھے‘۔
باچا خان کی تصویر کا تذکرہ ہے تو سبط حسن کی ادارت میں لیل و نہار میں چھپی ان کی تصویر بھی میرے ذہن کی تختی پر ابھرتی ہے جس میں وہ لاہور میں گوالمنڈی چوک میں جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ سنہ 1986 میں مظہر علی خان کے ویو پواینٹ میں بیگم نسیم ولی خان کی موچی دروازے میں جلسہ عام سے خطاب کی تصویر ملا کر دیکھتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ گزرے برسوں میں لاہور عوامی جگہوں پر سیاسی سرگرمیوں سے ہی نہیں دوسرے صوبوں کی بڑی سیاسی شخصیات کی بصیرت سے بھی محروم ہوا ہے۔
میاں افتخار الدین کے اخبارات نے باچا خان ایسے بڑے لیڈر سے روا رکھی جانے والی زیادتی پر ہی آواز نہیں اٹھائی ، مشرقی پاکستان کے نوجوان سیاست دان شیخ مجیب الرحمٰن کی مرکز سے ناراضی کی وجوہات کو بھی اپنے اخبار میں جگہ دی تھی ۔ سنہ 1949 کے جاڑوں میں شیخ مجیب نے لاہور میں میاں افتخار الدین سے اپنی ملاقات کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ ان سے محبت و شفقت سے پیش آے تھے ۔ شیخ مجیب نے انہیں بتایا کہ حکومت کس طریقے سے اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔
اپنی یادداشتوں میں شیخ مجیب الرحمٰن نے لکھا ہے:
’کیمبل پور جانے سے پہلے میں نے ایک اخباری بیان جاری کیا تھا جس میں مشرقی بنگال کی صورت حال ، مولانا بھاشانی اور شمس الحق کی گرفتاری اور قید ، سیاسی کارکنوں ہراساں کرنے اور صوبے میں غذائی بحران کا ذکر کیا تھا۔ روزنامہ پاکستان ٹائمز اور امروز نے یہ بیان نمایاں طور پر شائع کیا کیونکہ دونوں اخبارات میاں افتخار الدین کی ملکیت تھے ۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان ٹائمز کے مدیر اور معروف شاعر فیض احمد فیض اور ان کے رفیق کار مظہر صاحب ساتھ میرا تعارف ہوا ۔ یہ دونوں حضرات صاحبِ علم ، دانشور اور انتہائی ذہین تھے۔ میاں افتخار الدین کے ساتھ ساتھ یہ دونوں حضرات بھی اس بات کے حامی تھے کہ بنگلہ کو بھی پاکستان کی سرکاری زبان ہونا چاہیے۔ وہ اس بات سے بھی اتفاق کرتے تھے کہ ہمارے مطالبات جائز تھے‘۔ ( بنگلہ سے ترجمہ: یاور امان)
باچا خان اور شیخ مجیب الرحمٰن کی مثالوں سے یہ بتانا مقصود تھا کہ پروگریسیو پیپرز لمیٹیڈ کے مالک اور اڈیٹروں کی اہلِ سیاست میں قدر کا دائرہ کس قدر وسیع تھا۔
احمد ندیم قاسمی امروز میں ’پنجدریا‘ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے۔ اس میں ایک معاصر اخبار کے فکاہیہ کالم میں جب یہ لکھا گیا کہ پنجدریا کے فادر لینڈ روس میں تو ایسا نہیں ہوتا تو جواب میں قاسمی صاحب نے یہ لکھ دیا کہ معاصر روزنامے کے مدر لینڈ امریکا میں ایسا ہوتا ہو گا۔
میاں افتخار الدین کو اپنے مدیر کا یہ سوقیانہ اسلوب پسند نہیں آیا اور انہوں نے کہا: ’نہیں ندیم صاحب۔ میرے اخبار میں ماں باپ کی گالی نہیں چھپے گی۔ میں نے یہ اخبار اس مقصد کے لیے نہیں نکالا۔ آپ کو آئندہ اس طرز گفتار سے اجتناب کرنا ہو گا‘۔
آئی اے رحمان نے اپنی یادداشتوں کی کتاب ’اے لائف ٹائم آف ڈیسنٹ‘ میں پاکستان ٹائمز میں کام کے لیے دوستانہ ماحول کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہاں پروفیشنل ازم کو سب سے بڑھ کر اہمیت حاصل تھی۔
اخباری معاملات میں صحافیوں کو میسر آزادی کے بارے میں انہوں نے 2 ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن سے ان کا براہ راست تعلق تھا۔ ایک دن وہ مڈ شفٹ کے انچارج تھے تو میاں صاحب کا سیکریٹری کچھ افراد کے ساتھ ان کے پاس آیا اور کسی واقعے کے بارے میں ایک رپورٹ انہیں دی جس کی اشاعت میں اس کے ساتھی دلچسپی رکھتے تھے۔
رحمان صاحب نے سیکریٹری سے کہا کہ وہ اسے رپورٹرز کو پہنچا دیں گے اور پھر وہ دیکھیں گے اس کے ساتھ کیا کرنا ہے لیکن سیکرٹری رحمان صاحب سے رپورٹ اخبار میں نمایاں طور پر شائع ہونے کی یقین دہانی حاصل کرنے پر مصر تھا ۔ اس پر رحمان صاحب نے اسے کہا کہ وہ انہیں تنگ کرنا بند کرے اور دفتر سے چلتا بنے۔
اسی طرح پاکستان ٹائمز پر ایوب خان کی فوجی حکومت کے قبضے سے چند ماہ پہلے ایک دن رات کو شفٹ انچارج صفحات کی تیاری کے سلسلے میں سیٹ پر نہیں تھے اور رحمان صاحب ڈیسک پر موجود تھے۔ میاں افتخار الدین کی کال آئی تو وہ بولے کہ انہیں براہ راست بات نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن مظہر علی خان( ایڈیٹر) کا فون خراب ہے ۔اس کے بعد انہوں نے مدعا بیان کیا : ’عبدالغنی گمھن ایک کیس سے بری ہوا ہے وہ اس خبر کی نمایاں طور پر اشاعت کو یقینی بنانے کے لیے میرے پیچھے پڑا ہے۔ میں نے اس سے پاکستان ٹائمز کے دفتر فون کرنے کا وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کر دیا ہے ۔ اب تم خبر کو میرٹ پر ٹریٹ کر سکتے ہو‘۔
رحمان صاحب نے آزاد پاکستان پارٹی کے لیڈر سید قسور گردیزی کے حوالے سے یہ دلچسپ قصہ بھی لکھا ہے کہ ایک دفعہ کراچی میں پارٹی کی میٹنگ میں پارٹی لیڈروں نے شکایت کہ پاکستان ٹائمز میں پارٹی کو مناسب کوریج نہیں ملتی۔ اس پر میاں صاحب سے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض سے فون پر بات کرنے کی درخواست کی گئی ۔ مالک نے چیف ایڈیٹر سے لاہور کے موسم اور شہر کے بارے میں گپ شپ کے بعد فون رکھ دیا۔ اس پر پارٹی رہنماؤں نے احتجاج کیا کہ جس مقصد کے لیے فون کیا تھا وہ تو پورا نہیں ہوا۔ اس پر میاں افتخار الدین اور فیض نے دوبارہ گفتگو کی تو اس کا نتیجہ بھی پہلے سے مختلف نہیں تھا۔ اس سے پارٹی لیڈروں کو پیغام مل گیا کہ اخبار پارٹی کا ترجمان نہیں بنے گا۔
میاں افتخار الدین کبھی کبھار موڈ میں ہوتے تو کہتے:
’او مظہر یار کدے میری پارٹی دی خبر وی چھاپ دیا کر‘
خالد حسن نے یہ فقرہ نقل کرنے کے بعد لکھا: ’آج کے پاکستان میں ایسی دانشورانہ فیاضی اور پاکیزگی کا تصور بھی عنقا ہے۔ آج ہم مالک ایڈیٹر کے دور میں جی رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ اخبار سے وہ کچھ چاہتے ہیں جو ان کی بساط سے بڑھ کر ہوتا ہے اور اسے انتہا درجے کی بدذوقی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔“
سبط حسن نے لکھا ہے کہ میاں افتخار نے اخبارات کو کبھی اپنی ذاتی شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا اور کبھی کبھی مذاق میں کہا کرتے تھے کہ یارو کبھی ہمارے بارے میں بھی دو چار سطریں لکھ دیا کرو۔ آخر ہم دولتانہ اور فیروز خان نون سے گئے گزرے تو نہیں۔
رحمان صاحب نے لکھا ہے کہ میاں صاحب نے اخبار سے جو ذاتی فائدہ لیا وہ بس یہ تھا کہ جلسوں میں ان کی تقریروں کو مکمل کوریج مل جاتی تھی اور اس کے لیے چیف رپورٹر سید افتخار احمد کو خاصی محنت کرنی پڑتی تھی۔
ایوب خان کا مارشل لا لگا تو میاں صاحب لندن میں زیر علاج تھے، ان سے کہا گیا کہ حالات ٹھیک ہونے پر وطن واپس آئیں لیکن انہوں نے پاکستان آ کر دم لیا۔
سبط حسن نے لکھا ہے: ’ہم لوگوں سے ملاقات ہوئی تو میاں صاحب خلاف معمول بے حد سنجیدہ نظر آئے۔ کہنے لگے آپ لوگ جس طرح مارشل لا کا ساتھ دے رہے ہیں اس پر تو آپ کو ستارۂ خدمت ملنا چاہیے۔ مجبوریاں بیان کی گئیں تو میاں صاحب کا چہرہ تمتما اٹھا۔ بولے اگر ایسی ہی مجبوری تھی تو پرچوں کو بند کیوں نہ کردیا۔ مارشل لا سے سمجھوتے بازی کرکے اپنے اور میرے منہ پر سیاہی کیوں مل رہے ہو۔ ہم لوگوں نے بہیترا دلیلیں دیں کہ پرچوں کا زندہ رہنا ملک اور قوم کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے پڑھنے والوں کو ہماری دشواریوں کا احساس ہے، جبھی تو ہماری اشاعت گھٹنے کے بجاے بڑھ رہی ہے ۔ بڑے تلخ لہجے میں بولے اگر آپ ننگے ہو کر اخبار بیچنے نکلیں تو اشاعت اور بڑھے گی‘۔
اس طرح کی سوچ کے حامل فرد کو یہ سزا تو ملنی تھی کہ جھوٹے الزامات اور جعلی مقدمات کے ذریعے ان کے ادارے پر فوجی حکومت قبضہ کرلے جو اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کی تاک میں تھی۔ سنہ 1959 میں پروگریسو پیپرز لمیٹیڈ پر قبضہ پاکستان میں آزادیِ اظہار اور روشن خیالی پر پہلا منظم حملہ تھا جس کے اثرات سے پھر ہماری صحافت اور معاشرہ کبھی باہر نہ آسکے۔
ممتاز صحافی ضمیر نیازی نے مارشل لا سے پہلے پروگریسو پیپرز لمیٹیڈ کی 12 برس کی کارگزاری کو سراہتے ہوے ’صحافت پابندِ سلاسل‘ میں لکھا ہے کہ پاکستان ٹائمز اور امروز ملک میں آزاد اور بے خوف صحافت کے نمونے تھے۔ان کے بقول ’میاں افتخار الدین کی متحرک شخصیت ان جریدوں کی روح و رواں تھی۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان ٹائمز جس کی پیشانی پر بانی قوم کا نام درج تھا (جن کے ایما پر اسے جاری کیا گیا تھا) ، ان کے آدرشوں اور تعلیمات کے شایان شان ثابت ہو۔ پی پی ایل کے اخباروں نے حکمراں طبقے یا اشرافیہ کے کسی اور گروہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی اور عوام کے مفاد کی خدمت کی۔‘ (اردو ترجمہ: اجمل کمال)
افتخار الدین کی جگہ چودھری ظہور الٰہی اخبار کے مالک اور مظہر علی خان کی جگہ زیڈ اے سلہری ایڈیٹر بن جائیں تو صحافت کی منزل تو کھوٹی ہو کر رہتی ہے۔
میاں افتخارالدین اپنے ادارے پر کاری وار سہہ نہ سکے۔ قبضے کا غم، اوپر سے مقدمات کا سامنا، غداری کا الزام ، اس سب نے انہیں لبِ گور تک پہنچا دیا اور سنہ 1962 میں ان کا انتقال ہو گیا۔
سبط حسن کے بقول ’میاں صاحب اپنی موت نہیں مرے بلکہ ایوبی مارشل لا نے ان کا کام تمام کر دیا ۔ مگر آج مارشل لا باقی ہے نہ مارشل لا لگانے والے نہ شاہ کے وہ مصاحب جن کے ہاتھ میاں صاحب کے خون میں رنگین ہیں۔‘
مزید پڑھیں: ذوالفقار علی بھٹو کا مصور دوست
مظہر علی خان جنھوں نے اخبار پر قبضے کے بعد پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر کی حیثیت سے استعفا دے دیا تھا، ان کے بقول ’ہر انسان کی طرح شاید میاں افتخار الدین میں بھی عیوب اورکمزوریاں رہی ہوں گی ، لیکن سب سے بڑھ کر انہیں ایک ایسے سیاسی وجود کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے، اور یاد رکھا جاے گا جن کا سا جرات مندانہ وژن ان کے ہم عصروں میں سے بیش تر کے پاس نہیں تھا اور جن میں اپنے مقصد کے حصول کے واسطے ایک مستقل مزاج لگن موجود تھی اور اس کے لیے وہ اس وقت تک کوشش کرتے رہے جب تک انہیں گھیر کر ، منتقم مزاجی سے پیچھا کرکے ان کی قبر تک نہ پہنچا دیا گیا۔‘
میاں افتخار الدین کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن اس قلمی ذخیرے میں فیض احمد فیض کی ان کی یاد میں کہی گئی غزل ہمیشہ زندہ رہے گی جس کے شعر تو ہمارے وردِ زبان رہتے ہیں لیکن ان کا شان نزول ہم نہیں جانتے۔
آغا ناصر اپنی کتاب ’ہم جیتے جی مصروف رہے‘ میں لکھتے ہیں:
’بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ فیض صاحب کی یہ مشہور غزل دراصل میاں افتخار الدین کا مرثیہ ہے۔ میاں صاحب فیض صاحب کے بہت عزیز دوست تھے۔ ان کی اچانک وفات کا اثر فیض صاحب پر بڑی شدت سے ہوا ۔ ایک پرانے دوست، ہم خیال سیاستدان اور سرپرست کا جدا ہوجانا ان کے لیے قیامت سے کم نہ تھا‘۔
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تنِ داغ داغ لٹا دیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
ادھر ایک حرف کہ کشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













