امریکی خلائی ایجنسی ناسا اپنا 322 فٹ بلند آرٹیمس II اسپیس لانچ سسٹم راکٹ دوبارہ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ پر منتقل کررہی ہے، تاکہ چار خلا نوردوں کی چاند کے گرد 10 روزہ پرواز کے لیے تیاری مکمل کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کے جہاز نیو ہورائزنز سے کھینچی پلوٹو کی تصاویر، سائنسدان ایک دہائی بعد بھی مسحور
یہ راکٹ اور اس کے اوپر اونین کیپسول، جو انسانی عملے کو لے کر جائے گا، تقریباً 4 میل کا آہستہ آہستہ سفر مکمل کرے گا۔ یہ مہم یکم اپریل کو شروع ہونے کا امکان ہے اور راکٹ کی نقل و حرکت کے لیے خصوصی ’کرالر ٹرانسپورٹر‘ پلیٹ فارم استعمال کیا جائے گا جو تقریباً ایک میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھے گا۔
یہ انسان بردار پرواز کے لیے آرٹیمس II کا دوسرا رول آؤٹ ہے۔ پہلی بار یہ راکٹ جنوری میں لانچ پیڈ پر لے جایا گیا تھا، مگر انجینئرز نے ہیلیم کے بہاؤ میں رکاوٹ پائی، جس کی وجہ سے راکٹ کو مرمت کے لیے واپس ہینگر میں لانا پڑا۔ ہینگر میں ہیلیم کی لائن میں سیل بدلنے کے ساتھ بیٹریاں اور دیگر ٹیسٹ مکمل کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا دوسرا چاند مشن بھی ناکام، ریزیلینس لینڈر چاند پر گر کر تباہ
آرٹیمس II کا عملہ 4 خلا نوردوں پر مشتمل ہے ناسا کے رید ویزمین، کرسٹینا کوچ، وکٹر گلوور اور کینیڈا کے جیرمی ہینسن پر مشتمل ہے، یہ مشن انسانی تاریخ میں زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک جانے کا موقع فراہم کرے گا۔
ناسا کے مطابق تمام تکنیکی مسائل کے حل کے بعد فلائٹ ریڈینس ریویو مکمل ہوا اور راکٹ اور اسپیس کرافٹ کو پرواز کے لیے مکمل طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔













