وفاقی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت ایک اور بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین ایندھن کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ ہائی آکٹین فیول پر پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے تسلسل میں کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق اس پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور کسی بھی سرکاری محکمے کو سرکاری خرچ پر ہائی آکٹین ایندھن استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: لگژری گاڑیوں کے ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں بڑا اضافہ، امیر طبقہ اضافی بوجھ اٹھائے گا، وزیراعظم
تاہم اگر کسی مخصوص صورت میں ہائی آکٹین کا استعمال ناگزیر ہو تو متعلقہ افسر یا اہلکار اسے اپنی ذاتی جیب سے استعمال کر سکے گا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قومی وسائل کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا ہے۔
وزیراعظم نے تمام وفاقی محکموں، اتھارٹیز اور ذیلی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اس فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیں:عید کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں 50 فیصد کٹوتی کر چکی ہے جبکہ 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ بھی کیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات سے ہونے والی بچت کو عوام کو ریلیف دینے اور سستا تیل فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کفایت شعاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومتی اخراجات میں کمی لا کر عوامی وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس فیصلے کی مؤثر نگرانی کے لیے نظام وضع کیا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔














