مئی 2025 کی جنگ میں شکست کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے، اور اب اپنے ہی شہریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
بھارتی پولیس نے مختلف کارروائیوں میں فضائیہ کے ایک اہلکار سمیت متعدد افراد کو پاکستان کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھنے والا بھارت منظر سے غائب، پاکستان کے عالمی سطح پر چرچے
پولیس کے مطابق آسام کے چابوا فضائی اڈے پر تعینات 36 سالہ اہلکار سومیت کمار کو مشترکہ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا، جس میں راجستھان کی انٹیلی جنس اور فضائیہ کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے حصہ لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم 2023 سے مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے میں تھا اور رقم کے عوض حساس معلومات فراہم کرتا رہا۔
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ سومیت کمار نے دورانِ پوچھ گچھ اعتراف کیا کہ وہ فضائی اڈے سے متعلق اہم تفصیلات، جنگی طیاروں کی لوکیشن، میزائل سسٹمز اور عملے کے بارے میں معلومات اکٹھی کرکے سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کرتا تھا۔ اسے مزید تفتیش کے لیے جے پور منتقل کردیا گیا ہے اور اس کے خلاف سرکاری راز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کی کڑیاں جنوری میں جیسلمیر سے گرفتار ایک مشتبہ شخص جھبرا رام سے ملتی ہیں، جس کی تفتیش کے دوران سومیت کمار کا نام سامنے آیا تھا، جس کے بعد اس پر نظر رکھی جا رہی تھی۔
دوسری جانب غازی آباد میں بھی پولیس نے ایک مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 6 کم عمر افراد سمیت 18 نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں ملوث، فوجی ترجمان نے ثبوت پیش کردیے
پولیس کے مطابق یہ افراد اہم مقامات، ریلوے اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر بیرون ملک بھیجتے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک گزشتہ 2 سال سے سرگرم تھا اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً انسٹاگرام کے ذریعے بھرتی کیا جاتا تھا، اور انہیں اس کام کے عوض رقم دی جاتی تھی۔














