وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے بھارتی عدالت کی جانب سے کشمیری رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی 2 ساتھی خواتین کو سنائی گئی سزاؤں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے سیاسی دباؤ قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آسیہ اندرابی کو عمر قید جبکہ فہمیدہ صوفی اور نہیدہ نسرین کو 30،30 سال قید کی سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر نشانہ بنانا نظام میں موجود جانبداری کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی معروف خاتون رہنما آسیہ اندرابی دہشتگردی کیس سے بری، دیگر الزامات میں مجرم قرار
انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پرامن سیاسی جدوجہد کو سزا کے ذریعے دبایا جارہا ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے خلاف ہے۔
I strongly condemn the sentencing of Asiya Andrabi, along with Fehmida Sofi and Nahida Nasreen, by an NIA court in New Delhi. These verdicts are not about justice—they are instruments of political coercion aimed at silencing dissent in occupied Jammu and Kashmir.
1/3 pic.twitter.com/savQx5q5EM— Faisal Mumtaz Rathore (@PMofAJK) March 24, 2026
وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔
’یہ سزائیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاسی انتقام کی عکاسی کرتی ہیں‘
دریں اثنا مہاجرین جموں و کشمیر کے نمائندہ رہنما عزیر احمد غزالی نے بھی فیصلے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سزائیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاسی انتقام کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کا واحد قصور حق خودارادیت کے لیے جدوجہد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل قید اور حالیہ سزاؤں نے متاثرہ خواتین کی ذاتی اور تعلیمی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما الطاف احمد بٹ نے بھی اس مقدمے کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کشمیری قیادت کو دبانے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قید رہنماؤں کو طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے اور انہیں سخت حالات میں رکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی عدالت کی آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا، کشمیریوں کا جدوجہد آزادی سے دستبردار نہ ہونے کا عزم
رہنماؤں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے، کشمیری قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔
یاد رہے کہ بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے کشمیر کی خاتون آزادی پسند رہنما آسیہ اندرابی کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کے نام نہاد مقدمے میں عمر قید کی سزا سنادی۔
عدالت نے انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے آسیہ اندرابی کی 2 ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو بھی 30، 30 سال قید کی سزا سنائی۔
تینوں خواتین کو رواں سال 14 جنوری کو ایک کالعدم تنظیم دختران ملت سے وابستگی اور سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کا قریبی ساتھیوں اور کشمیری عوام کے نام خط، کیا پیغام دیا؟
اس تنظیم کا مقصد جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرنا تھا اور اس کی بنیاد آسیہ اندرابی نے رکھی تھی۔
آسیہ اندرابی کو بعض حلقوں میں آئرن لیڈی قرار دیا جاتا ہے اور وہ 2018 سے قید کے باوجود کشمیری عوام، خصوصاً خواتین میں مقبول ہیں۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قید و بند کے باوجود ان کے نظریات ختم نہیں ہوئے بلکہ مزید لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
کشمیریوں کا مؤقف ہے کہ جیسے دیگر حریت رہنماؤں کی قید ان کی آواز کو خاموش نہیں کر سکی، ویسے ہی آسیہ اندرابی کی سزا بھی ان کے نظریے کو دبانے میں ناکام رہے گی، بلکہ اس سے مزید لوگوں میں اس سوچ کو تقویت ملے گی۔













