مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی طلب نے چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں چپ بنانے والی کمپنیوں نے اپنی پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے سیمی کنڈیکٹرز پر بھاری ٹیرف عدائد کرنے کا اعلان کردیا
صنعتی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی ترقی کے لیے زیادہ طاقتور چپس، جدید پیداواری مراکز اور مضبوط سپلائی نیٹ ورک کی ضرورت بڑھ رہی ہے، جس نے چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت کو عالمی مسابقت میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافہ ابتدائی اندازوں سے بھی زیادہ رفتار سے ہو رہا ہے کیونکہ عالمی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
عالمی پیداوار میں چین کا بڑھتا حصہ
شنگھائی میں منعقد ہونے والی سیمی کان چائنہ2026 کانفرنس کے دوران صنعت کے رہنماؤں نے بتایا کہ درمیانے درجے کی چپس کی عالمی پیداوار میں چین کا حصہ نمایاں حد تک بڑھنے والا ہے۔
صنعتی تنظیم سیمی کے اندازے کے مطابق 22 نینو میٹر سے 40 نینو میٹر چپس کی پیداواری صلاحیت 2026 میں 37 فیصد سے بڑھ کر 2028 تک 42 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ چپس گاڑیوں، اسمارٹ فونز اور صارفین کی الیکٹرانک مصنوعات میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔
چپ ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ میں تبدیلی
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نے چپس کے ڈیزائن، ٹیسٹنگ اور پیکیجنگ کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کے باعث تیز رفتار ڈیٹا کنیکشنز اور زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت بڑھ رہی ہے، جس سے ہائی پرفارمنس سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا کو پچھاڑنے کے لیے کوشاں
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے آپٹیکل انٹرکنیکٹ مارکیٹ کو بھی فروغ دیا ہے، جو جدید ڈیٹا سینٹرز کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پیش رفت سے چین کو اس اہم شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے۔
عالمی سپلائی چین کو درپیش چیلنجز
طلب میں اضافے کے باعث عالمی سپلائی چین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ضروری خام مال اور جدید پرزہ جات کی فراہمی محدود ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے صنعت میں لاگت اور پیداوار کے توازن کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔
سرمایہ کاری اور پیداواری توسیع
چینی کمپنیاں نئی فیکٹریاں قائم کر رہی ہیں اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ بڑی چپ ساز کمپنیوں کے سپلائرز بھی عالمی سطح پر اپنی سرگرمیاں وسیع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی مصنوعی ذہانت میں اہم پیشرفت، بائٹ ڈانس کی چیٹ بوٹ کے صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز
اگرچہ چین کی مقامی صنعت تیزی سے ترقی کررہی ہے، تاہم مخصوص تکنیکی شعبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی کمپنیوں کی تکنیکی مہارت اور بعد از فروخت خدمات ابھی تک چینی کمپنیوں پر سبقت رکھتی ہیں، تاہم چین اپنی مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو تیزی سے بہتر بنا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ کے باعث سیمی کنڈکٹر صنعت مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرنے جارہی ہے، جس میں چین کا کردار مسلسل مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔














