کامران ٹیسوری کو کیوں ہٹایا؟ وزیراعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کا سوال

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی سیاست میں انتظامی امور اور آئینی ترامیم کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان کراچی میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

ملاقات میں کون کون شریک تھا؟

وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرنے والے ایم کیو ایم کے وفد کی سربراہی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی، جبکہ وفد میں کامران ٹیسوری، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، امین الحق اور سینیٹر فیصل سبزواری شامل تھے۔

حکومتی ٹیم میں اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ جیسے اہم وزراء موجود تھے۔ اس ملاقات کا مرکز ملکی سیاسی صورتحال، کراچی کے ترقیاتی منصوبے اور بلدیاتی نظام میں اصلاحات تھیں۔

 ایم کیو ایم کا بڑا مطالبہ کیا تھا؟

ملاقات میں ایم کیو ایم کی جانب سے 28 ویں آئینی ترمیم لانے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے ایم کیو ایم پاکستان کا 28ویں ترمیم کے ذریعے عوام کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے موقف اختیار کیا کہ مقامی حکومتوں (لوکل باڈیز) کو بااختیار بنانے کے لیے ان کی مجوزہ ترامیم کو آئین کا حصہ بنایا جائے۔ ایم کیو ایم کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ آرٹیکل 140-A کو مزید واضح اور مضبوط کیا جائے تاکہ میئر اور مقامی نمائندوں کو مالی و انتظامی اختیارات مل سکیں، جس کا براہِ راست اثر کراچی کی موجودہ بلدیاتی قیادت پر پڑ سکتا ہے۔

گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کے تحفظات پر وزیراعظم نے کیا کہا؟

ملاقات کے دوران سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی اچانک تبدیلی اور نہال ہاشمی کی بطور نئے گورنر تعیناتی پر ایم کیو ایم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ کامران ٹیسوری ایک فعال گورنر تھے جنہوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھولے اور کئی فلاحی منصوبے شروع کیے۔

یہ بھی پڑھیے 28ویں آئینی ترمیم ایم کیو ایم پاکستان کے لیے سیاسی بقا کا معاملہ کیوں؟

وزیراعظم شہباز شریف نے کامران ٹیسوری کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں انتہائی فعال شخصیت قرار دیا، تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ گورنر سندھ کی تبدیلی ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ وزیراعظم نے نئے گورنر نہال ہاشمی کو بھی ہدایت کی کہ ایم کیو ایم کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔

اگلی ملاقات کی اہمیت

وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مطالبات پر غور کے لیے آئندہ ہفتے ایک اور ملاقات طے کر دی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ بلدیاتی اختیارات اور 28 ویں ترمیم پر حکومت کسی بڑے فیصلے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ فعال حکمت عملی کا حصہ، محض مالی یا وقتی تعلق نہیں‘

اسپیکر ایاز صادق کی ہدایت پر پارلیمنٹ ہاؤس میں ارتھ آور کی تقریب، ایک گھنٹے کے لیے روشنیاں بند

اپوزیشن اتحاد کا حکومت کو مذاکرات کا گرین سگنل، قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ

عمران خان رہائی موومنٹ محض ٹوپی ڈراما ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

جنیوا کانفرنس: پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بھارتی ایجنڈے کو تقویت دینے والا گروپ بے نقاب

ویڈیو

عمران خان رہائی موومنٹ محض ٹوپی ڈراما ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟