عمران خان کی رہائی کے لیے ممبر سازی مہم، کیا پی ٹی آئی پرتشدد مظاہروں کا راستہ اپنانے جارہی ہے؟

پیر 30 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے باقاعدہ ممبر سازی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ جو پی ٹی آئی کی عمران خان رہائی تحریک میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، اور صوبائی صدر جنید اکبر کے ساتھ باقاعدہ فارم بھر کر اس مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کے تحت پورے ملک میں عمران خان کی رہائی کے لیے ممبر سازی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے الیکشنز ترمیمی بل 2026 مسترد کردیا، اثاثے چھپانا جمہوریت پر حملہ قرار

پی ٹی آئی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عمران خان کی رہائی کے لیے اسٹریٹ مہم شروع کرنے کی غرض سے ’عمران خان رہائی فورس‘ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کی پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت ہوئی۔ بعد ازاں فورس کا نام تبدیل کرکے ’عمران خان رہائی ممبر سازی‘ رکھ دیا گیا۔

عمران خان کی رہائی کے لیے ممبر سازی کیوں؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق، عمران خان کی ہدایت پر انہوں نے رہائی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ دیگر 3 صوبوں کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ رہائی تحریک کو مزید تیز اور منظم بنانے کے لیے انہوں نے ایک علیحدہ فورس بنانے کا اعلان کیا تھا، جو صرف اس تحریک کے لیے کام کرے گی۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ ان کی رہائی کے لیے اسٹریٹ مہم شروع کی جائے اور ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اسٹریٹ مہم اور پرتشدد مظاہروں کے خلاف تھے اور مذاکرات کے حامی تھے، جبکہ سہیل آفریدی احتجاجی سیاست کے قائل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی عمران خان کے پیغامات اور ان کی بہنوں کے مشورے سے کام کر رہے ہیں، اور ان کی بھی خواہش ہے کہ حکومت اور اداروں پر دباؤ ڈالا جائے۔

ان کے مطابق اس ممبر سازی مہم کے تحت ملک بھر سے نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا، جو آگے چل کر احتجاج اور مظاہروں میں فرنٹ لائن پر ہوں گے، اور گلی محلوں سے لوگوں کو باہر نکالنے میں کردار ادا کریں گے۔ بنیادی طور پر اس میں نوجوان شامل ہوں گے، جو احتجاج اور مارچ کے دوران آگے ہوں گے، ممکنہ رکاوٹیں دور کریں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کریں گے۔

’فورس یا خصوصی گروپ بنانا اعلانِ جنگ ہے‘

پی ٹی آئی اس مہم کو پرامن قرار دے رہی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق کسی سیاسی جماعت کی جانب سے خصوصی گروپ بنانا ایک طرح کا اعلانِ جنگ ہے۔

پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی اس اقدام کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں سیاسی جماعت کے اندر کسی فورس بنانے کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی مخالفت کے بعد ’رہائی فورس‘ کا نام تبدیل کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئین اور قانون سیاسی جماعتوں کو ایسی فورس بنانے کی اجازت نہیں دیتے۔ سینیئر صحافی و تجزیہ کار عارف حیات کے مطابق ’دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں پرامن جدوجہد کرتی ہیں۔ ڈنڈے یا اسلحہ اٹھا کر احتجاج کرنا یا تصادم کی راہ اپنانا سیاسی جماعتوں کا طریقہ نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ صرف نام بدلنے سے ارادے تبدیل نہیں ہوتے، اور جو کام اس ممبر سازی کے ذریعے نوجوانوں سے لیا جائے گا، وہی اصل مقصد ہوگا۔ پی ٹی آئی اس وقت ایک بے قابو ہجوم کی شکل اختیار کر چکی ہے، اور اگر اسے سڑکوں پر نکالا گیا تو تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

نوجوان صحافی شہاب الرحمن کے مطابق اگر ان نوجوانوں کو صرف اسٹریٹ مہم اور آگاہی کے لیے استعمال کیا گیا تو پی ٹی آئی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی بڑے احتجاج یا مارچ کی تیاری کر رہی ہے، اور یہ ممبر سازی بھی اسی کا حصہ ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جذباتی نوجوان ڈنڈے یا اسلحہ لے کر نکل آئے تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے، اور پھر ذمہ داری کس پر ہوگی؟

ٹائیگر فورس سے رہائی مہم تک

پی ٹی آئی میں خصوصی فورس بنانے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے کورونا کے دوران بھی حکومت نے ایک رضاکار فورس قائم کی تھی، جسے ’ٹائیگر فورس‘ کہا جاتا تھا۔ اس فورس کا مقصد عوامی آگاہی، قیمتوں پر کنٹرول میں مدد اور راشن کی تقسیم تھا، تاہم اس کی کارکردگی پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی ایک بار پھر خصوصی فورس کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، جس کی مبینہ سرپرستی خیبر پختونخوا حکومت کرے گی۔

عارف حیات کے مطابق ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کی جانب سے فورس بنانے کا اعلان آئین اور قانون کے خلاف ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار حضرت خان مہمند نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو پرامن سیاسی جدوجہد کرنی چاہیے، نہ کہ نوجوانوں کو تصادم کی طرف دھکیلنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کا اعتراض: عمران خان کا طبی معائنہ فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر ناقابل قبول

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف آگاہی مہم چلانی ہے تو پارٹی کی موجودہ تنظیم کو فعال کیوں نہیں کیا جاتا۔ ممبر سازی کا آغاز خیبر پختونخوا سے کیا گیا ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں اس کا پھیلاؤ مشکل ہو سکتا ہے۔

ممبر سازی مہم

پاکستان تحریک انصاف نے جمعے کے روز پشاور میں عمران خان کی رہائی کے لیے باقاعدہ ممبر سازی مہم شروع کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس کی سربراہی کر رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق خیبر پختونخوا میں 170 سے زائد کیمپس قائم کیے جائیں گے، جہاں رجسٹریشن کی جائے گی، اور بعد میں اس مہم کو دیگر صوبوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے خلاف بات کی تو سپورٹ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر

بنگلہ دیش حکومت کا عوام کو ریلیف، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار

امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے

ایشین کپ کوالیفائرز: پاکستان کا خود کیخلاف گول، میانمار جیت گیا

راولپنڈی پولیس نے اغوا ہونے والا بچہ خیبرپختونخوا سے بازیاب کرالیا، ملزمان گرفتار

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا