اوریکل میں ہزاروں برطرفیاں: نوکری کھودینے والے ملازمین دن رات کیا سوچتے ہیں؟

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل میں ایک سینیئر سافٹ ویئر افسر نے کمپنی میں حالیہ چھانٹیوں کے دوران جذباتی دباؤ اور تجربات کا ذکر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟

سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ گروپ مینیجر ہریشیکیش نرشا نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کا 16 سالہ کیریئر اچانک ختم ہو گیا۔ ان کا پیغام اس غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا کئی پروفیشنلز کر رہے ہیں جب کمپنیاں اپنے آپریشنز کو دوبارہ منظم کر رہی ہیں۔

نرشا نے اپنے معمولات میں اچانک تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کام کی معمول کی ذمہ داریوں کے بغیر جاگنا عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا دماغ اب بھی خود بخود ایسے پروجیکٹس کے لیے کام پلان کرتا ہے جو اب ان کے نہیں ہیں جس سے ملازمت ختم ہونے کے نفسیاتی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی رواں سال ساڑھے 3 ہزار نئی بھرتیاں کرے گی

تاہم نرشا نے اپنے طویل عرصے کے کیریئر کے مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے اوریکل کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ان کی قیادت کی صلاحیتوں کو نکھارا اور ساتھیوں اور پارٹنرز کا بھی شکر ادا کیا جو سالوں میں قریبی دوست بن گئے۔

واضح رہے کہ ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی اوریکل نے حالیہ گلوبل ری اسٹرکچرنگ کے دوران تقریباً 20 تا 30 ہزار ملازمین کو نکال دیا ہے جن میں بھارت کے تقریباً 12,000 ملازمین بھی شامل ہیں۔

کمپنی کے مطابق یہ اقدامات مشینی ذہانت یعنی اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے لیے مالی ضروریات پورا کرنے اور آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے ریسرچرز کی جاب کو سب سے زیادہ خطرہ، حیران کن دعویٰ

رپورٹس کے مطابق اوریکل نے اپنی مجموعی ورک فورس کا تقریباً 18 فیصد حصہ متاثر کیا ہے اور مزید چھانٹیوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp