ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکا میں زیادہ تر کالج کے طلبا اپنے کورس ورک کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک بار مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز استعمال کرتے ہیں۔
سروے کے نتائج کے مطابق، 57 فیصد طلبا ہفتے میں کم از کم ایک بار مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ قریباً 20 فیصد طلبا روزانہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:اے آئی ایجنٹس یا میل ویئر؟ ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر دیا
سروے میں شامل زیادہ تر طلبا نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (AI) پیچیدہ مواد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، وقت بچاتا ہے اور تعلیمی کارکردگی بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔
جو طلبا کبھی مصنوعی ذہانت (AI) استعمال نہیں کرتے، ان میں سے 3 چوتھائی افراد اسے غیر اخلاقی یا نقل کے مترادف سمجھتے ہیں، اور قریباً اتنے ہی طلبا کالج میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کے حق میں ہیں۔
سروے میں 3,800 سے زائد طلبا نے حصہ لیا، جن میں سے 1,433 ایسوسی ایٹ ڈگری اور 2,368 بیچلر ڈگری کے طلبا تھے۔
سروے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ 42 فیصد طلبا کے مطابق ان کے ادارے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، 11 فیصد مکمل طور پر ممنوع قرار دیتے ہیں، جبکہ قریباً 40 فیصد ادارے کچھ حد تک استعمال کی ترغیب دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت نے اختلافی مضمون لکھ کر شائع بھی کردیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی
سروے کے مطابق طلبا مصنوعی ذہانت (AI) کو عام طور پر 3 وجوہات کے لیے استعمال کرتے ہیں: 86 فیصد کا کہنا تھا کہ یہ پیچیدہ مواد کو سمجھنے میں بہت مددگار ہے، 76 فیصد نے کہا کہ یہ وقت بچاتا ہے، اور 70 فیصد نے بتایا کہ اس سے تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔














