کوئی بھی سرکاری ریلیف بلوچستان میں تاخیر سے کیوں ملتا ہے؟

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان حکومت نے حالیہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس کے بعد صوبائی حکومت نے توانائی کے تحفظ اور عوامی ریلیف کے لیے متعدد فیصلے کیے جن پر باضابطہ عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مارکیٹیں رات 8 بجے بند، بلوچستان میں حکومتی کفایت شعاری فیصلوں پر عملدرآمد شروع

محکمہ داخلہ بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز کے اوقات کار تبدیل کرتے ہوئے انہیں رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ریسٹورینٹ اور شادی ہال رات 10 بجے تک بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

البتہ دواخانوں، تندوروں اور نانبائیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

 https://Twitter.com/sadafzbaloch/status/20408066636958311091

اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان نے پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور گراں فروشی کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ لائن 1129 قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جہاں شہری پیٹرول کی مقررہ قیمت سے زائد وصولی یا بدعنوانی کی شکایات درج کرا سکیں گے۔

حکومت نے ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کے تحت مستحق طبقات کو براہ راست ریلیف دینے کے اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا فیصلہ

تاہم ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں ریلیف کے اقدامات نسبتاً بعد میں سامنے آئے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت نے 8 مارچ 2026 کو موٹر سائیکل مالکان کے لیے 2200 روپے فیول سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا جس سے تقریباً 15 سے 16 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی جبکہ بی آر ٹی کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اسی طرح 3 اپریل 2026 کو سندھ حکومت نے موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 2000 روپے سبسڈی دینے کے ساتھ ساتھ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے بھی مالی امداد کا اعلان کیا جبکہ موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

پنجاب حکومت نے بھی 3 اپریل کو عوامی ریلیف کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صوبے میں اورنج لائن، میٹرو بس، اسپیڈو اور گرین بس سروس کو مفت کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ موٹر سائیکل مالکان کو 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دینے اور کسانوں کے لیے ڈیزل پر سبسڈی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

مزید پڑھیں: افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، مہاجرین کو اب اپنے ملک جانا ہوگا، وزیر داخلہ بلوچستان

اس تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان حکومت نے سب سے آخر میں عوام کو ریلیف کیوں فراہم کیا؟

اس حوالے سے بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم شاہد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ بلوچستان حکومت نے ریلیف فراہم کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی۔

ان کے مطابق 5 اپریل کو صوبائی حکومت نے صورتحال کے پیش نظر اقدامات کا اعلان کیا اور وفاقی پالیسیوں کی روشنی میں عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا گیا، جس کی مثالیں ماضی میں بھی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا بلوچستان عوامی پارٹی لیگ ن میں ضم ہونے جارہی ہے؟

دوسری جانب سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جابر شاہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ریلیف کے فیصلوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت اکثر اہم پالیسی فیصلوں کے لیے وفاق کی جانب دیکھتی ہے۔

ان کے مطابق صوبے کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات محدود ہونے کے باعث کئی بڑے فیصلے وفاقی سطح پر طے کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں یہاں ریلیف اقدامات کا اعلان نسبتاً دیر سے سامنے آتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟