امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود آج پاکستان پہنچ رہے ہیں، جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کا ایران کے گرد امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج رات اسلام آباد پہنچیں گے، ان کے ہمراہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہوں گے جو ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ جبکہ امریکی وفد کی معاون ٹیم کے 23 ارکان پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جن میں سیکیورٹی ماہرین بھی شامل ہیں۔

اسی تناظر میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ملاقات ہوئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے اب تک کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام فریقین کی جانب سے امن اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قیادت نے تمام جانب سے دکھائے گئے تحمل کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دونوں فریقین کو پرامن مذاکراتی حل تک پہنچنے کے لیے سہولت فراہم کرے گا اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے اس عمل میں شامل فریقین کے عزم کو سراہا اور ان کی امن کے حصول کی کوششوں میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے آنے والے وفود کو اپنی دعوت کا اعادہ بھی کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی جانب سے انہیں بھرپور تعاون اور اعلیٰ ترین پذیرائی فراہم کی جائے گی۔
ایرانی وفد کی بھی آج رات اسلام آباد آمد متوقع
دوسری جانب ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج رات گئے اسلام آباد پہنچیں گے۔ اس سے قبل امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی تھی کہ مذاکراتی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستانی قیادت کو وفد کی آمد سے آگاہ کیا تھا۔
ادھر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے 9 اور 10 اپریل کے لیے ٹریفک پلان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سرینا چوک، نادرا چوک، خیابان سہروردی اور 9th ایونیو سمیت مختلف شاہراہوں پر ڈائیورژن کیے جائیں گے۔ جی-6، جی-5 اور ایف-6 کے علاقوں میں آنے جانے والوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ فیصل ایونیو، مری روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر بھی جزوی بندش متوقع ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون میں داخلے کے لیے سخت چیکنگ کی جائے گی جس کے باعث تاخیر ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تازہ معلومات کے لیے ایف ایم 92.4 اور سوشل میڈیا اپڈیٹس سے رہنمائی لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سکیورٹی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں امن کے قیام کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم اور امیر قطر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، شیخ تمیم کی شہباز شریف کو کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا کیا۔
انتہائی گرمجوش اور دوستانہ گفتگو کے دوران امیر قطر نے وزیراعظم کو پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر مبارکباد پیش کی جس کی بدولت ایران اور امریکا میں جنگ بندی ہوئی اور فریقین کے درمیان مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی مخلصانہ اور حقیقی ثالثی کی کوششوں کو سراہنے پر امیر قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے قطری قیادت کی دانشمندی اور تدبر کی تعریف کی، جس کی بدولت گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران مسلسل حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود مثالی تحمل کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا اور امیر کو یقین دلایا کہ دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں سے پورے خطے میں جلد امن واپس آئے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور جرمن چانسلر میں ٹیلیفونک رابطہ
وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کو وفاقی جمہوریہ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے ٹیلی فون کیا۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif received a telephone call from the Chancellor of the Federal Republic of Germany, His Excellency Friedrich Merz.
During their warm and cordial conversation, the German Chancellor appreciated the Prime Minister for Pakistan’s diplomatic… pic.twitter.com/ImhPSD5NtI
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) April 9, 2026
اپنی گرمجوش اور دوستانہ گفتگو کے دوران جرمن چانسلر نے وزیراعظم پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جن کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور اس ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا آغاز ہوا۔
جرمن چانسلر کا پاکستان کی مخلصانہ اور حقیقی ثالثی کی کوششوں کی توثیق پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ جنگ بندی کو جاری رکھنے کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے تاکہ مذاکرات کے کامیاب نتائج برآمد ہوں۔
دونوں رہنمائوں نے لبنان میں جاری مخاصمت پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے پورے خطے میں امن لوٹ آئے گا۔
اٹلی کی وزیراعظم کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، امن کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو اطالوی جمہوریہ کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے آج ٹیلی فون کیا۔
امریکا ایران جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم میلونی نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ امن مذاکرات کی میزبانی پر وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی۔
خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی پرخلوص خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت میں وزیراعظم میلونی سمیت اہم یورپی اور بین الاقوامی رہنماؤں کے جاری کردہ مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنمائوں نے لبنان میں جاری جنگ پر بھی اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا، اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا، تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، قیام امن کی کوششوں میں مملکت کے کردار کی تعریف
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں میں سعودی عرب کی مستقل حمایت پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دیرپا امن کے قیام کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا رابطہ، امریکا ایران جنگ بندی پر تبادلہ خیال
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل رابطہ اور سفارتی کوششیں انتہائی اہم ہیں، اور اس امید کا اظہار کیاکہ جنگ بندی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کا باعث بنے گی۔
اس موقع پر پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط اور برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی گئی، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
امریکا میں متعین پاکستانی سفیر کا سی این این کو انٹرویو
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو سفارت کاری اور مکالمے کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشرفت مسلسل سفارتی کوششوں اور عالمی تعاون کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اسلام آباد میں بڑی بیٹھک کی تیاریاں مکمل، امریکا اور ایران کا وفود پاکستان بھیجنے کا اعلان
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی سفیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف تھا، جن کا نتیجہ بالآخر جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کی صورت میں سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مثبت اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دی ہے اور یہ پیشرفت اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔

رضوان سعید شیخ نے واضح کیا کہ اس عمل میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا جبکہ فیصلے مکمل طور پر متعلقہ فریقین کے ہاتھ میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے رازداری انتہائی ضروری ہوتی ہے اور بغیر دباؤ کے بات چیت ہی دیرپا نتائج دے سکتی ہے۔
Watch | The Pakistani ambassador to the United States confirmed in an interview with CNN that Lebanon is included in the ceasefire agreement between the US and Iran. pic.twitter.com/Ub2xn9kUrj
— Quds News Network (@QudsNen) April 8, 2026
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس پیشرفت میں متعدد ممالک نے کردار ادا کیا، جن میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر اور چین شامل ہیں۔ ان کے مطابق چین نے ابتدا ہی سے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا، جبکہ پاکستان نے خلیجی ممالک کی قیادت سے مسلسل مشاورت جاری رکھی۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، اس لیے خطے میں امن کا قیام نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی معیشت اور سیاست کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات ایک مستقل اور پائیدار حل کی طرف پیشرفت ثابت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا جنگ بندی خطے میں قیام امن کے لیے اہم، پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، سعودی عرب
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، اور یہ کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچن اسٹوکر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے رواں سال فروری میں ویانا کے اپنے سرکاری دورے کے موقع پر ہونے والی حالیہ ملاقات کو خوشگوار انداز میں یاد کیا۔
وزیراعظم نے آسٹریا کے چانسلر کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کی بھرپور تائید و حمایت پر شکریہ ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی یقینی بنی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین جنگ بندی کی مکمل پاسداری کریں تاکہ کامیاب مذاکرات کے امکانات کو تقویت ملے، جو خطے اور اس سے باہر پائیدار امن اور استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایران کے گرد امریکی فوج بدستور موجود رہے گی، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا اپنی فوجی موجودگی ایران کے اطراف برقرار رکھے گا جب تک کسی حتمی معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔
سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار اضافی اسلحہ اور وسائل کے ساتھ ایران کے قریب تعینات رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے پر عمل نہ ہوا تو شدید اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور کارروائی کی جائے گی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں طے شدہ اصول کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج مکمل تیاری کے ساتھ موجود ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ’امریکا واپس آ گیا ہے‘، جو ان کے جارحانہ اور واضح پیغام کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا، صدر ٹرمپ
ٹرمپ نے میڈیا پر بھی کڑی تنقید کی، خاص طور پر نیویارک ٹائمز اور سی این این پر، جنہوں نے ایران مذاکرات کے بارے میں ایک دس نکاتی منصوبہ رپورٹ کیا تھا جسے صدر نے مکمل جھوٹ اور عوام کو گمراہ کرنے والا قرار دیا۔ انہوں نے اسے “ایول لوزرز” کہہ کر مسترد کیا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا عزم دہرایا۔
ساتھ ہی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے میں نیٹو نے ضرورت کے وقت مدد نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کرے گا۔ صدر کے یہ بیانات امریکی خارجہ پالیسی اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے عالمی سطح پر دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر پاکستان اور سعودی عرب کا اظہار تشویش
اسلام آباد میں پاکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گزشتہ شب فون پر بات چیت کی، جس میں خطے میں موجودہ کشیدہ صورتحال اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے جنگ بندی کا مکمل احترام اور نفاذ ضروری ہے۔ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کی پاکستان کی امن کی کوششوں میں مسلسل تعاون کی قدر دانی کی، جبکہ دونوں نے قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ بات چیت اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دی گئی ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے ٹیلیفون کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے امریکا ایران سیز فائر میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے قریبی دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا اعادہ کیا اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
جنوبی افریقہ نے امریکا ایران جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہا
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور جنوبی افریقہ کے وزیر رونالڈ لامولا کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جنوبی افریقی وزیر نے عارضی جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 held a telephone conversation today with South Africa’s Minister of International Relations and Cooperation, Ronald Lamola @RonaldLamola.
They discussed latest developments in the Middle East and the broader region. Minister Lamola… pic.twitter.com/CAzz3kH5zV
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 9, 2026
ترجمان نے بتایا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے علاقائی استحکام میں پاکستان کے کردار کی حمایت کی گئی ہے، اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
3 مسائل پر تنازع ہونے کے باوجود بنیادی معاملات پر بہت زیادہ ہم آہنگی موجود ہےنائب امریکی صدر جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ لبنان امریکی اور ایرانی جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہے، اور نہ ہی واشنگٹن یا اسرائیل نے اس پر کسی قسم کی رضامندی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے کی بات کے بعد اسرائیل نے تقریباً 100 فضائی حملے کیے، جن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔
They got the call from Tel Aviv. American politicians fear netanyahu more than anything. That’s what happens when you r*pe children on camera. Filthy nation pic.twitter.com/dh2mdlvBZ5
— Hadi (@HadiNasrallah) April 8, 2026
وینس نے مذاکرات کے دوران ابھرتے ہوئے چند اختلافات پر بھی بات کی اور کہا کہ اگرچہ کچھ نکات پر تنازع موجود ہے، زیادہ تر معاملات پر فریقین کا اتفاق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک 15 نکاتی منصوبہ یا 10 نکاتی منصوبہ گردش کر رہا ہے، اور 3 مسائل پر تنازع ہونے کے باوجود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی معاملات پر بہت زیادہ ہم آہنگی موجود ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات مذاکرات کے دوران بیانات کی وضاحت مشکل ہو جاتی ہے اور کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن یہ جزوی غلط فہمیاں ہیں اور بنیادی طور پر سب درست راستے پر ہیں۔ وینس نے جنگ بندی کے بعد ہونے والے حملوں کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایرانی اور اسرائیلی اقدامات کے بعد خلیجی ممالک نے بھی ردعمل دیا، اور یہ جنگ بندی کے دوران معمولی پیچیدگیوں کی مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی پاکستانی سفارتی کامیابی، بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی ہے، ششی تھرور کا اعتراف
وینس نے زور دیا کہ مقصد واضح ہے: بمباری کو روکنا اور تمام فریقوں کے لیے امن قائم رکھنا، اور انہوں نے کہا کہ ایران کو بھی مذاکرات کے تحت متعدد نکات قبول کرنے ہوں گے، لیکن امریکا کے پاس مضبوط موقف ہے اور وہ اس کا مؤثر استعمال کرے گا۔
وزیراعظم کو فرانسیسی صدر کا ٹیلیفون، ایران امریکا امن مذاکرات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران صدر میکرون نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کرانے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔
Received a warm and substantive telephone call from President Emmanuel Macron, this afternoon.
President Macron graciously congratulated Pakistan on its sincere efforts in facilitating the ceasefire between Iran and the United States, and for helping bring both sides to the…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 9, 2026
انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے بھی اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
صدر میکرون کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ تشدد اور خونریزی کا فوری خاتمہ ضروری ہے تاکہ پورے خطے میں امن بحال کیا جا سکے۔
بحرین کے بادشاہ کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم پاکستان کو خراج تحسین
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق گفتگو کے دوران شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کی کامیاب کوششوں پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہاکہ اس پیشرفت سے خطے میں دیرپا امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت پر شاہ بحرین کا شکریہ ادا کیا اور گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران حملوں کے تناظر میں بحرینی قیادت کی جانب سے دکھائے گئے مثالی تحمل کو سراہا۔
انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران بحرین میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
آسٹریلیا کا مشرق وسطیٰ جنگ بندی کا خیرمقدم، شہباز شریف کا شکریہ اور پاکستان کے کردار کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر پاکستان اور سعودی عرب کا اظہار تشویش
اس سے قبل آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا تھا۔
Thank you Prime Minister @AlboMP for your endorsement of Pakistan’s sincere efforts for peace.
We will continue to work tirelessly with our friends and partners in our shared pursuit of lasting peace in the region. https://t.co/LZkCBslKuq
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 9, 2026
آسٹریلیا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے، اور یہ جنگ بندی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی جانب اہم پیشرفت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی عملی بندش اور توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا اور تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: لبنان امریکی اور ایرانی جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل نہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
آسٹریلیا نے کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور خطے میں دیرپا امن قائم ہوگا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر کی ملاقات، مذاکرات کے انتظامات پر گفتگو
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکا کی سفیر نیٹلی بیکر نے اہم ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور خطے میں پاکستان کے مثبت و مؤثر سفارتی کردار کو سراہا۔
اس موقع پر اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے انتظامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پر بات چیت۔ جنگ بندی کا خیر مقدم ۔پاکستان کے مضبوط سفارتی کردار کی تعریف
اسلام آباد میں کل ہونے والے اعلی سطح کے مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال @iamabidmalik @alihamzaisb pic.twitter.com/VuiQRHz8LO— Media Talk (@mediatalk922) April 9, 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر پاکستان کے خصوصی مہمان ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام غیر ملکی مہمانوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے جامع منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کی برطانوی حکام سے ملاقات، کچھ پاکستانی شہریوں کی حوالگی پر تبادلہ خیال
امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے اس موقع پر خطے میں امن کے لیے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا اور جاری سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔
غیرملکی وفود کی آمد کے باعث سیکیورٹی اور ٹریفک ایڈوائزری جاری
اسلام آباد پولیس نے شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ غیرملکی وفود کی آمدورفت کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ایکسپریس ہائی وے پر ڈائیورشنز لگائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، ٹریفک پولیس کا ڈائیورژن پلان جاری
شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اضافی وقت کے ساتھ سفر کریں اور صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے تعاون سے فائدہ اٹھائیں۔

پولیس نے بتایا کہ ریڈ زون اور اس کے اطراف میں صرف سرکاری گاڑیوں کے لیے راستے کھلے ہوں گے اور دیگر ٹریفک کے لیے مکمل بندش ہوگی۔ شہری مزید معلومات اسلام آباد ٹریفک پولیس کے وٹس ایپ چینل اور سوشل میڈیا پیجز سے حاصل کر سکتے ہیں۔
کینیڈا کا پاکستان کے کردار کا اعتراف
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متعدد بار رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انیتا آنند نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے انہیں آگاہ کیا کہ رواں ہفتے مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں، خصوصاً 2 ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنانے میں کردار، کو سراہا۔
Over the last few days, I have spoken several times with my Pakistani counterpart, @MIshaqDar50, to discuss the evolving situation in the Middle East. He shared that new negotiations will take place later this week. I thanked him for Pakistan’s continued efforts, including its… pic.twitter.com/13sjtXgvDe
— Anita Anand (@AnitaAnandMP) April 9, 2026
انہوں نے کہا کہ کینیڈا ان مذاکرات کی حمایت کے لیے تیار ہے اور تمام فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور اسے لبنان تک توسیع دی جائے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ بندی: نوبیل انعام کا اصل حق دار پاکستان ہے، اٹلی
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مذاکرات کے عمل کے دوران قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستانی قیادت کا کردار قابل فخر ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بکٹی نے جیکب آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات پورے خطے پر پڑ رہے تھے، اور اس صورتحال کے دوران پاکستان کی قیادت نے قابل تحسین کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور صدر پاکستان کی کوششوں کی بدولت آج پاکستان کو وہ مقام حاصل ہوا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔

سرفراز بکٹی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات بھی اب بہتر ہیں اور حکومت کی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوشش پر بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا ہے اور آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان نے ایک ممکنہ تباہ کن جنگ کے خطرات کو مؤثر طریقے سے روکا، جس میں خدانخواستہ نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ پورے خطے میں تباہی کے امکانات موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:3 مسائل پر تنازع ہونے کے باوجود بنیادی معاملات پر بہت زیادہ ہم آہنگی موجود ہےنائب امریکی صدر جے ڈی وینس
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اس کامیابی میں قیادت کا کردار نہایت اہم اور قابل تحسین ہے، اور یہ بات نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعث فخر ہے کہ ملک نے عالمی سطح پر ایک ایسا کردار ادا کیا جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت مثال ہے۔
پاکستان: عالمی امن کا نیا محافظ
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو حقیقت میں بدلنے میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا، جس نے پوری دنیا پر چھائے ہوئے کشیدگی کے سائے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے ذریعے پاکستان کی قیادت نے ثابت کیا کہ ملک عالمی امن کے فروغ میں ایک قابل اعتماد اور مؤثر طاقت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود آج پاکستان پہنچیں گے، سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو فون
انگریزی اخبار میں شائع شینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی کی بلکہ چین، سعودی عرب، ترکی اور دیگر اہم کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر مذاکرات کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگ بندی کسی میڈیا ہائپ یا نمائشی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ خاموش اور مستقل سفارتی کوششوں کا ثمر ہے، جس میں پاکستان نے مؤثر ثالثی، باوقار قیادت اور امن کے لیے غیر مشروط شراکت فراہم کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی قیادت نے دن رات محنت کی، دونوں حریفوں کے درمیان اعتماد بحال کیا اور ایسے ماحول میں مذاکرات کو کامیاب بنایا جہاں دیگر ممالک اور کچھ کھلاڑی اس عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاکستان نے ایسی منفرد پوزیشن اختیار کی جس کی وجہ سے دونوں فریقین نے اس کی سچائی اور غیر جانبداری پر بھروسہ کیا۔ یہ جنگ بندی نہ صرف سفارتکاری کی کامیابی ہے بلکہ صبر و تحمل، بصیرت اور پاکستان کی پختہ اور متحدہ سول و عسکری قیادت کی بھی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرق وسطیٰ جنگ بندی پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
رپورٹ کے مطابق یہ ثالثی کسی سرکاری بیان یا خبروں کے لیے نہیں بلکہ خفیہ اور مستقل مذاکرات، حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات، توانائی کے انفراسٹرکچر اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ جیسے عملی اقدامات پر مبنی تھی۔ جیسا کہ ایک ماہر نے کہا کہ ’جب ہر کوئی جنگ کی بات کر رہا تھا، پاکستان یہ کہہ رہا تھا کہ اسے کیسے روکا جائے‘۔
پاکستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کا مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے مشرق وسطیٰ اور وسیع خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کی۔
مزید پڑھیں:کینیڈا کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرق وسطیٰ جنگ بندی پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
ازبک وزیر خارجہ نے پاکستان کی قیادت کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی تمام اقدامات، خصوصاً ابتدائی دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنانے میں کیے گئے کردار کے لیے ازبکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke with Foreign Minister Bakhtiyor Saidov @FM_Saidov to discuss the latest developments in the Middle East and the wider region.
FM Saidov appreciated Pakistan’s leadership and conveyed Uzbekistan’s full support for all… pic.twitter.com/30cMCSmNKf
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 9, 2026
دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسلسل کوششیں اور رابطے خطے اور اس سے باہر دیرپا امن اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
جنگ بندی: برطانیہ اور اتحادی ممالک کی پاکستان کی حمایت، وزیراعظم کا شکریہ
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت کی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے دوستوں اور شراکت داروں، بشمول برطانیہ، کے ساتھ مل کر خطے اور دنیا میں مستقل امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: ’مودی کو اسلام آباد مذاکرات کے لیے ویٹر کی نوکری مل گئی‘، سوشل میڈیا پر جنگ بندی کے بعد میمز کا طوفان
برطانیہ اور اتحادی ممالک کی جنگ بندی کی حمایت، پاکستان کے کردار کو سراہا
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی خوش آئند ہے اور اب مقصد جنگ کا پائیدار خاتمہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔
I appreciate Prime Minister @Keir_Starmer for his endorsement of Pakistan’s sincere efforts for peace.
We remain committed to working closely with our friends and partners including the United Kingdom, in our collective pursuit of enduring peace in the region and beyond. https://t.co/QzvSGuZvts
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 9, 2026
بدھ 8 اپریل 2026 کو جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ سمیت فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان نے اس 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان سمیت تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔

بیان میں کہا گیا کہ اب مذاکرات کے ذریعے جنگ کا جلد اور پائیدار خاتمہ ضروری ہے، اور یہ صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے۔ جنگ بندی ایران کے شہریوں کے تحفظ، خطے میں سیکورٹی کی بحالی اور عالمی توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہے۔
تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی شراکت دار تعاون جاری رکھیں گے۔
سعودی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے ٹیلیفونک کال موصول ہوئی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی امور پر گفتگو کی گئی۔
🇸🇦📞🇮🇷 | Foreign Minister HH Prince @FaisalbinFarhan receives a phone call from Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi. pic.twitter.com/13gMlSz6En
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) April 9, 2026
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی میں کمی لانے، سیکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی روابط کو فروغ دے کر مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
نواز شریف نے 2 مرتبہ ٹوٹتے مذاکرات کو بچایا: ابصار عالم
سینیئر صحافی ابصار عالم نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے امریکا، ایران اور پاکستان کے درمیان جاری حساس مذاکرات میں خاموش مگر نہایت اہم کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 2 مرتبہ مذاکرات ایران کے سخت مؤقف کے باعث ڈیڈلاک کا شکار ہوئے، تاہم نواز شریف کی مداخلت سے صورتحال کو سنبھال لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے دونوں مواقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے براہ راست رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کیا۔
سینیئر صحافی ابصار عالم نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے امریکا، ایران اور پاکستان کے درمیان جاری حساس مذاکرات میں خاموش مگر نہایت اہم کردار ادا کیا، اور 2 مرتبہ ٹوٹتے مذاکرات کو بچایا۔@AbsarAlamHaider @NawazSharifMNS @iamabidmalik @asifbashirch pic.twitter.com/uKYGyaBO2Z
— Media Talk (@mediatalk922) April 9, 2026
ابصار عالم نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان قریبی ذاتی تعلقات ہیں، جن کی بنیاد پر انہوں نے ایرانی قیادت کو قائل کیا کہ امن کا یہ موقع ضائع نہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کا مشرق وسطیٰ جنگ بندی کا خیرمقدم، شہباز شریف کا شکریہ اور پاکستان کے کردار کا اعادہ
ان کا کہنا تھا کہ اس مداخلت کے بعد مذاکرات دوبارہ بحال ہوئے اور پیشرفت ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی
سفارتی کوششیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ اعلیٰ سطح پر مختلف رہنماؤں کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں۔
ایران امریکا جنگ بندی: عمر عبداللہ پاکستانی کردار کے معترف
مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ماننا ہوگا پاکستان نے وہ کیا جو باقی نہیں کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی پاکستانی سفارتی کامیابی، بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی ہے، ششی تھرور کا اعتراف
سری نگر میں گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ چاہے اس میں پاکستان نے کردار ادا کیا، لیکن جنگ کا خاتمہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ایک حد تک کمزوری بنے، جبکہ اگر بھارت اس پوزیشن میں نہ ہوتا تو وہ بھی وہی کردار ادا کر سکتا تھا جو پاکستان نے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ دراصل اسرائیل کے مفادات کے گرد گھوم رہی تھی اور خطے میں کشیدگی میں کمی ایک ضروری امر تھا۔ ان کے مطابق جنگ بندی سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔














