نیوزی لینڈ: غیر ملکی طلبا کے لیے نئے ورک ویزا اور پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا میں کونسی سہولیات دی گئی ہیں؟

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیوزی لینڈ نے غیر ملکی طلبا کے لیے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 2026 کے آخر سے نئے قوانین نافذ کیے جائیں گے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد طلبا کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہتر مواقع فراہم کرنا اور انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے سے بچانا ہے۔ جس کے لیے قلیل مدت کام کا ویزہ متعارف کروا رہی ہے۔

قلیل مدت کام کا ویزہ کیا ہے؟

نئے فیصلے کے مطابق حکومت ایک قلیل مدت کا نیا کام کرنے کا ویزا متعارف کروا رہی ہے۔ یہ ویزا خاص طور پر ان طلبا کے لیے ہوگا جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود طویل مدت کے کام کے ویزا کے اہل نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ میں سمندری طوفان کی دستک، شمالی جزیرے سے بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات

واضح رہے کہ اس نئی سہولت کے تحت ایسے طلبا کو 6 ماہ تک ملک میں رہنے اور نوکری تلاش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس دوران وہ کسی بھی ادارے میں ملازمت کر سکیں گے، جس سے انہیں عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

اس ویزہ کو حاصل کرنے کی شرائط کیا ہیں؟

حکومت نے اس ویزا کے لیے کچھ واضح شرائط بھی مقرر کی ہیں۔ درخواست دینے والے طلبا کو مخصوص تعلیمی سطح مکمل کرنا ہوگی۔ اور کم از کم 24 ہفتے تک ملک میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے اخراجات کے لیے مناسب رقم کا ثبوت دینا ہوگا۔ یہ ویزا صرف ایک بار دیا جائے گا اور اس میں کسی قسم کی توسیع کی اجازت نہیں ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ طلبا کو اسی مدت میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

اس ویزہ پر کونسی پابندیاں ہیں؟

اس ویزا پر کچھ پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ طلبا خود کا کاروبار شروع نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی آزادانہ کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ مزید یہ کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کو اپنے ساتھ لانے کے اہل نہیں ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ویزا کا مقصد صرف ایک عارضی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ طلبا مستقل مواقع تلاش کر سکیں۔

پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی حکومت نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کرنے والے ویزا یعنی پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا کی شرائط میں آسانی کر دی ہے تاکہ اب زیادہ طلبا اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ پہلے کچھ طلبا، خاص طور پر گریجویٹ ڈپلومہ (لیول 7) کرنے والے، اس ویزا کے لیے اہل نہیں ہوتے تھے، لیکن اب ان کے لیے بھی اس ویزا کے دروازے کھل جائیں گے۔

اس نئے نظام کے تحت، طلبا اپنی تعلیم کی مدت کے برابر، زیادہ سے زیادہ 1 سال تک ملک میں رہ کر کام کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے نیوزی لینڈ میں 6 ماہ یا ایک سال کا کورس مکمل کیا ہے، تو وہ اتنی ہی مدت کے لیے ویزا حاصل کر کے قانونی طور پر کام کر سکتا ہے۔

مزید یہ کہ اس ویزا میں خاندان کے لیے بھی کچھ سہولتیں دی گئی ہیں۔ اس کے تحت شریک حیات اور بچے مخصوص شرائط کے ساتھ نیوزی لینڈ آ سکتے ہیں۔ شریک حیات کے لیے کام کرنے یا وزیٹر ویزا، اور بچوں کے لیے اسٹوڈنٹ یا وزیٹر ویزا کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ تبدیلی طلبا کے لیے بہت فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوری ملک چھوڑنے کے بجائے، کام کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں اور عملی تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، اس سے نیوزی لینڈ کو ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ میں سمندری طوفان کی تباہ کاریاں، ہزاروں افراد کی نقل مکانی، ریڈ الرٹ جاری

تعلیم اور روزگار کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غیر ملکی طلبا کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ اس سے انہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھنے کے لیے وقت ملے گا اور وہ بہتر ملازمت کے مواقع تلاش کر سکیں گے۔ ساتھ ہی یہ پالیسی نیوزی لینڈ کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے ہنر مند افراد کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ نئی پالیسی طلبا کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے، جس سے نہ صرف ان کے لیے مواقع بڑھیں گے بلکہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلیڈ مارشل، وزیراعظم اور وزیرخارجہ تاریخی کردار ادا کررہے ہیں، نواز شریف

ہواوے کا نیا فولڈیبل فون بڑی اسکرین اور طاقتور فیچرز کے ساتھ متعارف

الیکشن کمیشن نے مراد سعید کی نشست پر ضمنی انتخاب مؤخر کر دیا

واٹس ایپ کا نیا پریمیم پلان، صارفین کو ماہانہ کتنی فیس ادا کرنا ہوگی؟

غیر متوقع تعطیلات میں بھی عدالتی نظام جاری رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کے نئے ایس او پیز جاری

ویڈیو

لائیوایران امریکا جنگ بندی اختتام کے قریب، مذاکرات بحال ہونے کی امید، تہران کے مثبت اشارے

لائیوجے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ