سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں۔ ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے کینیڈا کے ہم منصب کا رابطہ، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
لیکن کیا یہ مذاکرات دوبارہ پاکستان ہی میں ہوں گے اس سوال کے جواب کے لیے وی نیوز نے سفارتی ماہرین سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔
ایمبیسیڈر علی سرور نقوی
پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات، برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا تذکرہ
علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔
ایمبیسیڈر وحید احمد
پاکستان کے سابق سفیر ایمبیسیڈر وحید احمد نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہونے اور پاکستان میں ہی ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
وحید احمد نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان بہت زیادہ ہے اور خطے کے دیگر ممالک جیسا کہ عمان کے بارے میں ایران کا تجربہ اچھا نہیں کیوں کہ مذاکرات کے دوران ہی حملہ کر دیا گیا تھا۔
اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسرا فیکٹر یہ ہے کہ پاکستان ایرانی قیادت کی حفاظت بھی کر سکتا ہے اور اگر ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان مؤثر جوابی کارروائی کرنے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذاکرات پاکستان ہی میں ہوں۔
مائیکل کوگلمین
جنوبی ایشیائی اُمور کے ماہر مائیکل کوگلمین فارن پالیسی میگزین میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کا اس قضیئے میں ثالث بننا کئی عناصر کے لیے حیران کن تھا کیونکہ پاکستان عالمی طور پر اُتنا اثر و رسوخ نہیں رکھتا اور نہ ہی اسے اس نوعیت کے پیچیدہ جھگڑے سلجھانے کا کوئی تجربہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ثالثی کرنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اس کے تمام فریقوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان مُذاکرات کی سہولت کاری میں ترکیہ، مصر، چین اور خلیجی ریاستیں بھی شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار سے چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی ملاقات، امریکا ایران مذاکرات کی ثالثی پر پاکستان کو خراج تحسین
مائیکل کوگلمین مزید لکھتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف مذاکرات کا سہولت کار بننے کا خواہشمند تھا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ اس کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔













