وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کے لیے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے مفت باردانہ، گندم کی بہتر قیمت اور فوری ادائیگی سمیت متعدد اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ کاشتکاروں سے گندم کی خریداری فوری طور پر 3500 روپے فی من کے نرخ پر شروع کی جائے۔ رجسٹرڈ کاشتکاروں کو پرچیز سنٹرز سے فی ایکڑ 10 بوریاں باردانہ فراہم کیا جائے گا۔
حکومت نے کسان کارڈ ہولڈرز سے ترجیحی بنیادوں پر گندم خریدنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا ہے، جبکہ 3500 روپے فی من کے حساب سے گندم کی قیمت کی ادائیگی 72 گھنٹوں کے اندر یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے وفاقی حکومت نے کسانوں کے لیے بلا ضمانت زرعی قرضہ اسکیم کا آغاز کر دیا
گندم خریداری کے عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے صوبائی اور ڈویژنل سطح پر اسٹریٹجک مینجمنٹ کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کے زرعی منصوبوں پر 88 فیصد کسانوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر مریم نواز شریف نے ’ورک ود پنجاب گورنمنٹ‘ پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا، جس کے تحت ایگریکلچر گریجویٹس سمیت دیگر نوجوانوں کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جن کی 99 فیصد وصولی بھی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ 9 لاکھ کاشتکار اس اسکیم کے تحت رجسٹر ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مریم نواز کے کسان دوست ویژنری اقدام سے صوبے کے کاشتکاروں کے مقدر بدلنے لگے
گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت 30 ہزار ٹریکٹرز فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جن میں سے 20 ہزار ٹریکٹرز پہلے ہی کاشتکاروں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی میکانائزیشن کے فروغ سے مقامی صنعت کو بھی تقویت مل رہی ہے، جبکہ ڈسکہ میں ہارویسٹر کی مقامی تیاری کے لیے مینوفیکچررز سرگرم ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسانوں کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور زرعی ترقی کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 سال میں اللہ کے فضل سے صوبے میں حقیقی زرعی انقلاب کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔














