کتابوں کے بارے میں کتابیں اور مضامین میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ ان سے ہٹ کر فکشن میں وہ کردار بھی میری خاص توجہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں جو کتابوں کے رسیا ہوتے ہیں۔ ان میں ایک طرف ناول کے وہ مرکزی کردار ہیں جنہیں مطالعہ کا لپکا ہوتا ہے۔
اس طرح کے پُرشوق قارئین میں سب سے پہلے فلابئیر کے ’مادام بوواری‘ کی ایما کا خیال آتا ہے جسے ناول پڑھنے کی چاٹ تھی۔ ستاں دال کے ’سرخ و سیاہ‘ کے ژولیاں سے ناول میں ہماری پہلی ملاقات ایسے نوجوان کے طور پر ہوتی ہے جو مطالعہ میں غرق رہتا ہے۔ اردو میں ڈپٹی نذیر احمد کے ’توبتہ النصوح‘ میں کلیم کا کردار کون بھول سکتا ہے جس کی کتابیں نذرِ آتش کر دی جاتی ہیں۔
ناول کے مرکزی کرداروں کی کتابوں سے لگاوٹ کی چند مثالوں کے بعد دستوئیفسکی کے پہلے ناول ’بیچارے لوگ‘ کے ایک کردار پوکروفسکی کے بارے میں بات کرنا مقصود ہے جو ناول کا مرکزی کردار نہیں ہے۔
میں نے 20 برس پہلے ظ انصاری کے ترجمے کی صورت میں میں یہ ناول پڑھا تھا۔ پوکروفسکی کا کردار ہمیشہ میرے ذہن میں رہا جس کی بڑی وجہ کتابوں سے اس کی محبت تھی۔
اب طویل عرصے بعد یہ ترجمہ دوبارہ دیکھ کر پوکروفسکی کی کتاب دوستی کی بنیاد پر میری طبیعت کچھ لکھنے کی طرف آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں
ناول میں پکی عمر کے کلرک ماکار الیکسئی وچ دے وشکن اور نوجوان لڑکی واروارا دوبرو سیلووا کے درمیان مراسلت کے ذریعے کہانی بیان ہوتی ہے۔ ایک خط میں دکھیارے پوکروفکسی کا حوالہ بھی راہ پا جاتا ہے۔
باپ کے مرنے کے بعد دوبرو سیلووا اپنی ماں کے ساتھ ایک دور پرے کی رشتے دار آننا فیودروونا کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوئی جو بڑی چلتر عورت ہے۔ دوبروسیلووا کے باپ سے اسے کد ہے اور وہ ماں بیٹی کی خیر خواہ بن کر انہیں اپنے ہاں لے جاتی ہے اور جب اسے یقین ہو جاتا ہے یہ بیچاریاں اس کا در چھوڑ کر اور کہاں جائیں گی تو اس کی ستم رانیوں کا سلسلہ دراز ہو جاتا ہے۔ اس کھاتی پیتی عورت کے ذرائع آمدن مشکوک ہیں اور اس کے ہاں بھانت بھانت کے افراد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ 5 کمروں کے گھر میں 3 اس کے تصرف میں ہیں جہاں وہ یتیم لڑکی ساشا کے ساتھ رہتی ہے جسے اس نے گود لے رکھا ہے۔
ایک کمرے میں دوبروسیلووا اور اس کی ماں کو سر چھپانے کی جگہ ملی ہے۔ دوسرے کمرے میں مصیبت زدہ غریب طالب علم پوکروفکسی کی سکونت ہے جو ساشا کو پڑھانے پر مامور ہے۔ اس خدمت کے بدلے اسے کرایہ معاف ہے اور روٹی ٹکر بھی مفت ملتا ہے۔ ساشا کی عمر 13 برس ہے اور دوبروسیلووا 14 کے سن میں ہے۔
آفت کی پرکالہ یہ شاگرد لڑکیاں پوکروفسکی کی ناک میں دم کر دیتی ہیں۔ طرح طرح سے اسے دق کرتی ہیں۔ایک دفعہ وہ غریب رو ہی تو پڑا اور کہا : ’اف یہ کیسے ظالم بچے ہیں‘۔
پوکروفسکی کتابی کیڑا ہے، نایاب اور قیمتی کتابوں کا مالک، یافت کا معتدبہ حصہ ان کی خریداری پر صرف کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ دوبروسیلووا اس کی طرف ملتفت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ اپنے سلوک پر شرمندگی محسوس کرتی ہے۔ اسے وہ اپنی زندگی میں آنے والے مردوں میں سب سے اچھا لگتا ہے۔ اس کی ماں بھی اسے پسند کرتی ہے۔ دوبروسیلووا جانتی ہے کہ پوکروفسکی کو سب سے بڑھ کر کتابیں عزیز ہیں، اس لیے وہ ان سے تعلق استوار کرکے اس کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہے۔
اس کے بقول ’میں نے جی میں سوچا کہ اچھا تو میں بھی یہ ساری کتابیں ایک ساتھ پڑھ کر دکھا دوں گی ۔ ایک سرے سے سبھی پڑھ ڈالوں گی اور وہ بھی جلد سے جلد۔ شاید میرے دل میں یہ بات سما گئی تھی کہ اس شخص نے اب تک جتنا کچھ پڑھا ہے وہ سب کا سب میں پڑھ لوں گی تو اس کی دوستی کے قابل بن جاؤں گی‘۔
لیکن اس سمت میں اس کا پہلا قدم الٹا پڑتا ہے۔ وہ استاد کی غیر موجودگی میں اس کی الماری سے ایک کتاب نکال لاتی ہے کہ رات بھر اسے پڑھے گی لیکن وہ پرانی دھرانی کیڑے کھادی کتاب لاطینی زبان میں ہوتی ہے، اسے وہ دوبارہ اپنی جگہ پر رکھنے جاتی ہے تو وہ ٹھیک طرح جمتی نہیں، اسے زبردستی ٹھونسنے کی کوشش میں کتابوں کا پورا خانہ دھڑام سے نیچے آجاتا ہے اور وہ جہاں تہاں بکھر جاتی ہیں، اتنے میں پوکروفسکی کمرے میں آجاتا ہے۔ اسے کتابوں سے چھیڑ چھاڑ بالکل پسند نہیں اور ادھر کتابیں زمین پر ڈھیر ہیں۔ وہ شاگردہ کو کھری کھری سناتا ہے۔ ’تمھیں ایسے لونڈھیار پن سے شرم نہیں آتی‘۔
اس واقعے کے چند دن بعد دوبروسیلووا کی ماں بیمار پڑ گئی تو پوکروفسکی کی شخصیت کا مشفقانہ روپ سامنے آیا۔ اس نے ماں کی تیمار داری میں مصروف بیٹی کی طبیعت بگڑنے پر اس کا بڑا خیال رکھا۔ رات کو اسے کتاب دی کہ تنہائی میں اس کا جی لگا رہے۔ اس عنایت نے لڑکی کا دل خوشی سے بھر دیا۔ اس کی سرخوشی کو ظفر اقبال کے اس مصرعے کی صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے:
دیارِ دل میں عجب لہر بہر تھی اس دن
اس سلسلہ جنبانی نے لڑکی کو دل کی بات لبوں تک لانے کی ہمت دلائی
’بہاؤ میں سبھی کچھ کہتی چلی گئی کہ میں اس سے کیسی گہری دوستی کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے کس قدر محبت کرنے کی تمنا رکھتی ہوں، اس سے یک دلی کے ساتھ بسر کرنا چاہتی ہوں، اس کی آسائش کا کس قدر خیال رکھنا چاہتی ہوں اور مجھے کتنی فکر ہے کہ اس کی راحت کا سامان کروں، اسے آرام پہنچاؤں‘۔
اس دوران پوکروفسکی اس کے لیے کتابیں لاتا رہا جس کا اوّل اوّل تو مقصد یہ تھا کہ رات میں وہ ماں کے پاس بیٹھی پڑھتی رہے اور نیند کی آغوش میں جانے سے بچی رہی لیکن رفتہ رفتہ کتابوں کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوا اور ان میں اس کی دلچسپی بڑھنے لگی۔
مزید پڑھیے: جب بیٹرز کو باؤلر سے ہمدردی مہنگی پڑی
پوکروفسکی کی ماں کے مرنے کے بعد سوتیلی ماں نے اس سے بدسلوکی کی تھی۔ باپ بھی اچھے کردار کا مالک نہیں تھا، شراب کا دھتی، جس کے دوسری بیوی سے تعلقات خراب تھے۔ اس میں لاکھ خرابیاں سہی لیکن بیٹے پر جان چھڑکتا تھا۔
ایک دن گفتگو کے دوران اس نے بتایا کہ فرزند ارجمند کی سالگرہ کا دن قریب ہے اور وہ اس روز ضرور آئے گا، دوبروسیلووا نے یہ سن کر اسے تحفے میں کچھ دینے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے کتابوں سے بڑھیا تحفہ کیا ہوسکتا تھا کہ اسے وہی سب سے بڑھ کر عزیز تھیں۔ پشکن کی کلیات اسے دینے کا فیصلہ ہوا۔ سلائی کرکے 30 روبل اس نے جوڑے تھے کہ فراک خریدے گی لیکن اب یہ سب اس نے محبت کی راہ میں خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ادھر پشکن کے کلیات کی گیارہ جلدوں کی قیمت 60 روبل تھی۔ وہ کہنہ فروشوں کے ہاں گئی جن کے پاس پرانی کتابیں بہت اچھی حالت میں ہوتی تھیں اور بھاؤ تاؤ کے بعد آدھی قیمت پر مل جاتی تھیں۔ اتفاق سے پشکن کی ایک خوبصورت مجلد کلیات اسے مل گئی لیکن اس کے نرخ خاصے بالا تھے، اس نے ردّو کد سے دام کم کروا لیے۔ اس کے ہم راہ بوڑھی نوکرانی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر یہ چل کیا رہا ہے۔
’بیچاری متریونا کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر میں اتنی بے قرار کیوں ہوں؟ اتنی بہت سی کتابوں کا کیا کروں گی‘
قیمت کم ہونے پر بھی پیسے پورے نہیں تھے۔ کتابوں کے ایک اسٹال پر اسے پوکروفسکی کا باپ کو نظر آیا جو بیٹے کے لیے کتابیں خریدنے کی غرض سے ادھر پھر رہا تھا لیکن اس کی جیب میں اتنے دام نہیں تھے کہ اچھی کتاب خرید سکے، بوڑھے کی بے بسی دیکھ کر لڑکی نے اس کی دل جوئی کے لیے اس سے اڑھائی روبل لیے اور اپنے تیس روبل ملا کر گیارہ جلدی کلیات پشکن خرید لی۔
پوکروفسکی کے باپ نے سالگرہ کے دن یہ فارمولا پیش کیا کہ 10 کتابیں لڑکی اپنی طرف سے پیش کرے جبکہ ایک کتاب وہ تحفے میں دے۔ وہ بیٹے کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ بدل رہا ہے اور اس کی خاطر پیسے جوڑ کر کتاب خرید لایا ہے۔ لڑکی اسے یہ کہہ کر اسے حیران کر دیتی ہے کہ وہ تمام کتابیں بیٹے کو اپنی طرف سے پیش کر دے کہ پوکروفسکی اور اس کی خوشی میں ہی اس کی خوشی ہے ۔ اس نے بیٹے کو یہ کتابیں دان کرتے ہوئے جو کہانی گھڑی اسے سن کر دوبروسیلووا کی ہنسی اور چیخ نے سارا ماجرا کھول دیا۔ یہ خوشیوں بھرا دن شتابی سے ختم ہوا کہ بقول احمد فراز
تری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں
اس کے بعد اِدبار کی گھڑیاں شروع ہو گئیں۔
سالگرہ کے 2 مہینے بعد پوکروفسکی بیمار ہوا اور خاصی اذیت جھیلنے کے بعد مر گیا۔ اس کی علالت کے دوران دوبرو سیلووا نے اس کی بہت دیکھ ریکھ کی۔ اس کے گزرنے کے بعد آننا فیودروونا کی کمینگی مزید عیاں ہوئی۔ غریب کے کفن دفن پر جو خرچ ہوا اسے پورا کرنے کے لیے اس نے پوکروفسکی کی کتابیں اور دوسرا سامان ہتھیا لیا۔ غم زدہ باپ کے درد کو دستوئیفسکی نے یوں بیان کیا گیا ہے:
’جس قدر کتابیں وہ جھپٹ سکتا تھا اس نے جھپٹ لیں، انہیں اپنی جیبیوں میں بھرا ، اپنے ٹوپ میں رکھا اور تین دن تک انہیں اپنے سے جدا نہیں کیا، بلکہ انہیں چرچ بھی ساتھ ساتھ لے گیا۔ ان تمام دنوں میں بوڑھا بالکل حواس گم اور دم بخود رہا… وہ تابوت گاڑی کے ایک طرف سے دوسری طرف جھکائی کھاتا دوڑ رہا تھا۔ اس کے پرانے کوٹ کے دامن تھپ تھپ کر رہے تھے۔ کتابیں اس کی ساری جیبوں سے کھسک کر نکل پڑیں مگر اس نے سب سے بڑی کتاب کو بھینچ کر سینے سے لگا لیا… کتابیں اس کی جیبوں سے نکل نکل کر کیچڑ میں گرتی رہیں، جب لوگ اسے روک کر کہتے تھے کہ کتاب گر گئی ہے، اٹھا لو تووہ جھکتا، کتاب اٹھاتا اور گاڑی پکڑنے کے لیے پھر دوڑ پڑتا‘۔
کتابوں کا عاشق پوکروفسکی دنیا سے سدھارا لیکن وہ واروارا دوبروسیلووا کے دل میں مطالعہ کی وہ شمع روشن کر گیا جو اس کے بعد بھی لو دیتی رہی۔ اس نے ناول کے نمایاں کردار اور اپنی محبت میں گرفتار ماکار الیکسی وچ دے وشکن کو بھی اس راہ پر لگا دیا۔ اس کردار کے بارے میں ظ انصاری نے لکھا:
’ایک نہایت خستہ حال اور خود کو ہیچ پوچ سمجھنے والا کلرک ہے جسے زندگی کے مصائب نے اس درجہ کچل ڈالا ہے کہ اس میں یہ بھی مان لینے کی ہمت نہیں رہی کہ وہ ستم زدہ ہے‘۔
اس بیچارے کی زندگی میں خوشی کا مدار دوبرو سیلووا کی ذات پر تھا جسے وہ پیاری کبوتری کہتا ہے لیکن جس کی محبت اسے حاصل نہیں ہوتی اور وہ امیر کبیر شخص بیکوف کی ہو جاتی ہے۔
کسمپرسی کے باوجود وہ تحفے تحائف محبوبہ کی نذر کرتا رہتا تھا۔ اسے کتابیں فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی نبھاتا : ’میں آپ کو کتابیں بھیجوں گا۔ ضرور بھیجوں گا…جن کتابوں کی آپ کو ضرورت ہے وہ میں آپ کو لادوں گا‘۔
مزید پڑھیں: جنگ اور منٹو کا ’عید کارڈ‘
بیچارے لوگ میں پشکن کا حوالہ بار بار آتا ہے۔ اس کی کلیات کے بارے میں آپ اوپر دیکھ چکے ہیں۔ لڑکی کو اس کی کتاب ‘ایوان بیلکن کی کہانیاں’ بے حد پسند ہے اور وہ چاہتی ہے یہ اس کے دلبر کی نظر سے بھی ضرور گزرے۔ اس کے نام خط میں وہ لکھتی ہے:
’گر پڑھنا چاہیں تو پڑھئے لیکن اتنی مہربانی کیجیے کہ یہ کتاب میلی کچیلی نہ ہو اور دیر تک آپ کے پاس نہ اٹکی رہے۔ کتاب میری نہیں ہے۔ پشکن کی تصنیف ہے۔ 2 سال ہوئے جب میں نے اور اماں نے یہ کہانیاں ایک ساتھ مل کر پڑھی تھی، اب جو میں اکیلی پڑھتی ہوں تو دل بھر آتا ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی کتاب ہو مہربانی فرما کر مجھے بھیج دیجیے‘۔
یہ کتاب ماکار دے وشکن کو اچھی لگتی ہے۔ خاص طور پر ’گھوڑوں کی چوکی کا داروغہ‘ تو اسے اپنی کہانی معلوم ہوتی ہے۔
جوابی خط میں وہ لکھتا ہے:
’اب دیکھو وارنکا پیاری ، ایسی بات ہوئی کہ آدمی زندگی کا لمبا عرصہ کاٹ دیتا ہے اور اسے یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ بھئی بالکل ہاتھ کے پاس ایسی کتاب پڑی ہے جس میں آپ کی زندگی کی ساری کہانی ایک گیت کی طرح دھری ہوئی ہے جس پر آپ کی نظر پہلے نہیں پڑی تھی، اب اس پر نظر پڑنے لگتی ہے۔ چیزیں آپ کو یاد آنے لگتی ہیں، سمجھ میں آنے لگتی ہیں اور قیاس میں آنے لگتی ہیں‘۔
وہ اسے گوگول کی کہانیوں کا مجموعہ اس تاکید کے ساتھ ارسال کرتی ہے کہ وہ اس میں سے ’اوور کوٹ ضرور پڑھے۔ یہ کہانی اسے رنج میں مبتلا کرتی ہے۔ وہ اسے اپنے حال کی مناسبت کے باعث خود پر طنز سمجھتا ہے۔ اپنی ناراضی کا برملا اظہار کرتا ہے۔ یہ وہ مشہور کہانی ہے جس کے بارے میں دستوئیفسکی سے یہ بیان منسوب ہے کہ “ہم سب گوگول کے اوور کوٹ سے نکلے ہیں‘۔
میرا جی نے ’مشرق و مغرب کے نغمے‘ میں بتایا ہے کہ بہت عرصے تک روسی نقاد پشکن کو نظر انداز کرتے رہے لیکن پھر اس کی عظمت کو تسلیم کر لیا گیا۔ ان کے بقول
’جب سنہ 1880 میں روسی کے مشہور ناول نگار دستوئیفسکی نے ماسکو میں پشکن کی یادگار کی نقاب کشائی کی اور شاعر کی شخصیت کو خراج تحسین ادا کیا تو اس وقت اس کی آواز تمام روس کی آواز تھی اور اب سب نے مان لیا ہے کہ پشکن کا کلام نقادوں کے تعصبات سے بالا ہے کیوں کہ اس کی جگہ روس کے باشندوں کے دلوں میں ہے اور خصوصاً نوجوانوں کے ہونٹوں پر اس کے نغمے رقصاں ہیں‘۔
واروارا دوبروسیلووا جب بیکوف سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو ماکار دے وشکن ’اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا‘ کی پرملال کیفیت میں اسے خط میں لکھتا ہے:
’میرے پاس آپ کی وہ کتاب اب بھی موجود ہے، ایوان بیلکن کی کہانیاں۔ اسے مہربانی کرکے میرے پاس ہی رہنے دیجیے میری جان۔ یہ بات نہیں کہ میں اسے بہت زیادہ پڑھنا چاہتا ہوں بلکہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سردی کا موسم قریب ہے ، سردی کی راتیں بڑی طویل اور بڑی اداس ہوتی ہیں۔ بس یہی وقت ہو گا جب بیٹھ کر پڑھا جائے گا‘۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













