2025 پاکستان کے عروج اور بھارت کے زوال کا سال ثابت ہوا، مسعود خالد

جمعرات 16 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک کے نامور سفارتکار مسعود خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مئی 2025 کے معرکے میں بھارت کو شکست دے کر دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل کی اس طرح سالِ گزشتہ وطن عزیز کے لیے عروج اور بھارت کے لیے زوال و تضحیک کا سال ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بہترین سفارتکاری، دنیا میں ہمیں جو تحسین مل رہی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں گفتگو

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سفارتکار مسعود خالد نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کرنے سے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس سفارتی مقام کی بنیاد دراصل مئی 2025 میں پڑی جب پاکستان نے بھارت کو شکست فاش دی اور اس کے بعد عالمی برادری میں پاکستان کے کردار کو مزید اہمیت دی جانے لگی۔

سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ اس شاندار کامیابی کے باعث نہ صرف پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے بلکہ دنیا بھر میں اس کا سفارتی رتبہ بھی بلند ہوا جبکہ اس کے برعکس بھارت مشکلات کا شکار ہو گیا۔

سابق سفیر نے کہا کہ آپریشن سندور کے بعد نہ صرف بھارت کے امریکا سے تعلقات خراب ہوئے بلکہ وہاں بین الااقوامی کوارڈ کانفرنس کا انعقاد بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور ابھی تک اس حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہے۔

’ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان آ سکتے ہیں‘

ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے امکانات روشن ہیں۔

مزید پڑھیے: معرکہ حق کی تاریخی فتح کے بعد ادارہ جاتی اصلاحات تیز، پاکستان کو مستحکم معیشت بنائیں گے، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے بھی عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ سب ہوجاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی اور عالمی سطح پر اس کا امیج مزید بہتر ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی امکان ظاہر کیا کہ اگر مذاکرات کے سلسلے میں پیشرفت تیز رہی تو کسی وسیع فریم ورک یا ابتدائی معاہدے کا اعلان بھی ممکن ہے جس کے بعد تفصیلی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مسعود خالد نے کہا کہ تقریباً 40 دن تک جاری رہنے والی ایران اور امریکا کی حالیہ جنگ کے دوران دونوں فریقوں کو جنگی تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف پیشرفت ممکن ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں طویل جنگیں نہ تو قابل عمل ہیں اور نہ ہی ان کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ عالمی حالات اور سیاسی و معاشی تقاضے فوری اور مؤثر حل کا تقاضا کرتے ہیں لہٰذا اسی تناظر میں فریقین نے یہ محسوس کیا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور پائیدار پیشرفت ممکن ہو سکے۔

4 دہائیوں کا تنازعہ ایک 2 نشستوں میں حل نہیں ہو سکتا

سابق سفیر نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات کے حتمی اور جامع نتائج فوری طور پر سامنے آنا ممکن نہیں تاہم حالیہ پیشرفت کو ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔

مسعود خالد کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تقریباً 4 دہائیوں پر محیط کشیدگی اور اختلافات ایک یا 2 نشستوں میں حل نہیں ہو سکتے لیکن باقاعدہ بات چیت کا آغاز بذات خود ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے جو مستقبل میں مزید بہتری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان بار کونسل کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کامیابیوں کی تعریف

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس عمل میں مرکزی حیثیت اس لیے حاصل ہوئی کیونکہ اسے ایک غیر جانبدار، متوازن اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات اس کی سفارتی مضبوطی کا اہم پہلو ہیں جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ حالیہ برسوں میں بہتر ہوتے ہوئے روابط نے بھی اس کردار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے لہٰذا ان عوامل نے مل کر پاکستان کے لیے ایک ایسی اعتماد کی فضا قائم کی ہے جس کے تحت وہ دونوں فریقوں کے درمیان مؤثر رابطے اور پیشرفت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

سابق سفارتکار نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس سفارتی عمل میں معاون کردار ادا کرتے رہے ہیں اور تمام فریقین کی مشترکہ کوششوں سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول تشکیل پایا۔

ان کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کی جبکہ چین نے بھی پسِ پردہ رہتے ہوئے امن عمل کی حوصلہ افزائی اور تائید جاری رکھی جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملی۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی پاکستانی سفارتی کامیابی، بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی ہے، ششی تھرور کا اعتراف  

انہوں نے کہا کہ چین کے خطے میں وسیع معاشی اور توانائی سے متعلق مفادات موجود ہیں بالخصوص مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی مسلسل ترسیل اور ایران کے ساتھ اس کے معاہدے اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے چین خطے میں کسی بھی بڑے تنازع کے بجائے پرامن اور مستحکم حل کا خواہاں ہے تاکہ اس کے اقتصادی مفادات محفوظ رہیں اور علاقائی استحکام برقرار رہے۔

ایک سوال کے جواب میں مسعود خالد نے کہا کہ اس سفارتی عمل کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر سفارتی ساکھ میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی فورمز پر اس کا مؤقف بھی زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آئے گا۔

ان کے مطابق اس پیشرفت سے ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جبکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر انڈیا میں ماتم ہو رہا ہے، اسحاق ڈار کی اہم بریفنگ

مسعود خالد کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سفارتکاری کے میدان میں ماضی میں بھی ایک اہم اور تاریخی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان روابط کی بحالی میں پاکستان کی سفارتی کوششیں نمایاں رہیں جبکہ افغانستان سے متعلق جنیوا معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم مثال ہے جو پاکستان کی مؤثر سفارتکاری اور ثالثی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طلاق کے بعد پوجا بھٹ کی زندگی میں کیا بدلا؟ چونکا دینے والا بیان

ہزاروں سال پرانا فلکیاتی منظر: شہابی بارش 22 اپریل کو عروج پر ہوگی

پاور سیکٹر ملازمین کے مفت یونٹس ختم، اویس لغاری کا عدالتی فیصلے کا خیرمقدم

مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں حیران کن کمی

تفتان بارڈر: جعلی پاسپورٹ پر پاکستان میں داخل ہونے والا مسافر گرفتار

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟