بلغاریہ کے سابق صدر اور روس کے حامی سمجھے جانے والے رہنما رومین رادیف پارلیمانی انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جبکہ ایگزٹ پولز میں ان کی جماعت کو واضح برتری حاصل دکھائی گئی ہے۔
ایگزٹ پولز کے مطابق رادیف کی جماعت ‘پروگریسو بلغاریہ’ کو 44 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے، جبکہ سابق وزیراعظم بوئیکو بوریسوف کی جماعت 12.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹک ٹاک پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے روس نواز پروپیگنڈا، برطانیہ کا ماسکو پر الزام
اگر یہ نتائج برقرار رہے تو بلغاریہ میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری سیاسی عدم استحکام ختم ہونے کا امکان ہے، جہاں 5 سال میں 8 مرتبہ انتخابات کرائے جا چکے ہیں۔
رومین رادیف نے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ امید، آزادی اور اخلاقیات کی فتح ہے۔
رادیف نے صدارتی منصب چھوڑ کر پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ وہ یوکرین جنگ میں روس کے خلاف فوجی حمایت کے مخالف رہے ہیں اور ماسکو کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہنگری میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وزیراعظم کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ، اپوزیشن کی تاریخی فتح
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق رادیف کو حکومت سازی کے لیے یورپ نواز جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا پڑ سکتا ہے۔ بلغاریہ کو اس وقت بدعنوانی، مہنگائی، سیاسی بحران اور مستحکم حکومت کے قیام جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ حتمی انتخابی نتائج پیر کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔














