ڈیجیٹل ٹوئن (جڑواں) ایک ایسا تصور ہے جس میں کسی فرد کا ایک مصنوعی اے آئی بیسڈ ورژن بنایا جاتا ہے جو اس کی معلومات، سوچنے کے انداز اور کام کرنے کے طریقے کو نقل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے
برطانیہ کے ریسرچ کنسلٹنٹ رچرڈ سکیلیٹ نے ’ڈیجیٹل رچرڈ‘ کے نام سے اپنا اے آئی ٹوئن تیار کیا ہے جو گزشتہ 3 سال سے ان کی ملاقاتوں، دستاویزات، کالز اور پریزنٹیشنز کا تجزیہ کر کے ان کی طرزِ فکر کے مطابق فیصلے کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
یہ ڈیجیٹل ورژن صرف کام تک محدود نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ذاتی زندگی جیسے فیملی اور انتظامی امور میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو اب کمپنیوں میں بھی آزمایا جا رہا ہے جہاں ملازمین کے ڈیجیٹل ٹوئنز ان کی غیر موجودگی میں کام سنبھال لیتے ہیں۔
مثال کے طور پر کسی ملازم کی ریٹائرمنٹ یا چھٹی کے دوران اس کا اے آئی ورژن کام جاری رکھ سکتا ہے جس سے کمپنیوں کو اضافی اسٹاف رکھنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹس آپ کو بے وقوف بنا سکتے ہیں، نئی تحقیق نے خبردار کردیا
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے کام کی رفتار اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور اسے ’سپر ورکر‘ بنانے والی ٹیکنالوجی بھی کہا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ کئی قانونی اور اخلاقی سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں جیسے کہ اے آئی ٹوئن کی ملکیت کس کے پاس ہوگی، اس کے فیصلوں کی ذمہ داری کون لے گا اور کیا اس کے ذریعے ہونے والے اضافی کام پر ملازمین کو زیادہ معاوضہ ملنا چاہیے یا نہیں۔
ڈیجیٹل ٹوئن کیا ہوتا ہے؟
ڈیجیٹل ٹوئنز کا مقصد صرف ڈیجیٹل سطح پر مدد فراہم کرنا ہے نہ کہ فزیکلی دفتر میں بیٹھ کر کام کرنا۔ یہ ایک مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی سسٹم ہوتا ہے جو آپ کی سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کے طریقے اور کام کرنے کے انداز کو سیکھ کر آپ کی مدد کرتا ہے۔
آپ کا یہ جڑواں کسی روبوٹ کی طرح فزیکلی آپ کے دفتر کی کرسی پر نہیں بیٹھتا بلکہ کمپیوٹر یا موبائل اسکرین کے ذریعے آپ کی مدد کرتا ہے۔ اس کا بنیادی کام آپ کے کاموں کو بہتر اور تیز بنانے کے لیے مشورے دینا یا آپ کے کاموں کا بوجھ کم کرنا ہوتا ہے جیسے ای میلز کا جواب دینا یا دستاویزات کا تجزیہ کرنا۔
کیا مستقبل میں ’آپ کا جڑواں‘ فزیکلی آپ کی جگہ نظر آئے گا؟
اس وقت یہ سسٹم فزیکلی کام نہیں کرتا اور نہ ہی اسے روبوٹ ورکر کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے جو آپ کی جگہ آ کر کام کرے۔ تاہم اگر مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی تیار ہو جاتی ہے جس میں اے آئی سسٹم نہ صرف ڈیجیٹل بلکہ فزیکلی بھی کام کرنے لگے تو یہ انسانوں کے کام کرنے کے طریقے کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی رواں سال ساڑھے 3 ہزار نئی بھرتیاں کرے گی
فی الوقت یہ صرف ایک ڈیجیٹل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے جو آپ کے کاموں میں مدد دیتا ہے اور آپ کی موجودگی کے بغیر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔














