کیا ’ڈیجیٹل جڑواں‘ آپ کو زیادہ کارآمد بنا سکتا ہے؟

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈیجیٹل ٹوئن (جڑواں) ایک ایسا تصور ہے جس میں کسی فرد کا ایک مصنوعی اے آئی بیسڈ ورژن بنایا جاتا ہے جو اس کی معلومات، سوچنے کے انداز اور کام کرنے کے طریقے کو نقل کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے

برطانیہ کے ریسرچ کنسلٹنٹ رچرڈ سکیلیٹ نے ’ڈیجیٹل رچرڈ‘ کے نام سے اپنا اے آئی ٹوئن تیار کیا ہے جو گزشتہ 3 سال سے ان کی ملاقاتوں، دستاویزات، کالز اور پریزنٹیشنز کا تجزیہ کر کے ان کی طرزِ فکر کے مطابق فیصلے کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

یہ ڈیجیٹل ورژن صرف کام تک محدود نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ذاتی زندگی جیسے فیملی اور انتظامی امور میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو اب کمپنیوں میں بھی آزمایا جا رہا ہے جہاں ملازمین کے ڈیجیٹل ٹوئنز ان کی غیر موجودگی میں کام سنبھال لیتے ہیں۔

مثال کے طور پر کسی ملازم کی ریٹائرمنٹ یا چھٹی کے دوران اس کا اے آئی ورژن کام جاری رکھ سکتا ہے جس سے کمپنیوں کو اضافی اسٹاف رکھنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹس آپ کو بے وقوف بنا سکتے ہیں، نئی تحقیق نے خبردار کردیا

ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے کام کی رفتار اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور اسے ’سپر ورکر‘ بنانے والی ٹیکنالوجی بھی کہا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ کئی قانونی اور اخلاقی سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں جیسے کہ اے آئی ٹوئن کی ملکیت کس کے پاس ہوگی، اس کے فیصلوں کی ذمہ داری کون لے گا اور کیا اس کے ذریعے ہونے والے اضافی کام پر ملازمین کو زیادہ معاوضہ ملنا چاہیے یا نہیں۔

ڈیجیٹل ٹوئن کیا ہوتا ہے؟

ڈیجیٹل ٹوئنز کا مقصد صرف ڈیجیٹل سطح پر مدد فراہم کرنا ہے نہ کہ فزیکلی دفتر میں بیٹھ کر کام کرنا۔ یہ ایک مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی سسٹم ہوتا ہے جو آپ کی سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کے طریقے اور کام کرنے کے انداز کو سیکھ کر آپ کی مدد کرتا ہے۔

آپ کا یہ جڑواں کسی روبوٹ کی طرح فزیکلی آپ کے دفتر کی کرسی پر نہیں بیٹھتا بلکہ کمپیوٹر یا موبائل اسکرین کے ذریعے آپ کی مدد کرتا ہے۔ اس کا بنیادی کام آپ کے کاموں کو بہتر اور تیز بنانے کے لیے مشورے دینا یا آپ کے کاموں کا بوجھ کم کرنا ہوتا ہے جیسے ای میلز کا جواب دینا یا دستاویزات کا تجزیہ کرنا۔

کیا مستقبل میں ’آپ کا جڑواں‘ فزیکلی آپ کی جگہ نظر آئے گا؟

اس وقت یہ سسٹم فزیکلی کام نہیں کرتا اور نہ ہی اسے روبوٹ ورکر کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے جو آپ کی جگہ آ کر کام کرے۔ تاہم اگر مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی تیار ہو جاتی ہے جس میں اے آئی سسٹم نہ صرف ڈیجیٹل بلکہ فزیکلی بھی کام کرنے لگے تو یہ انسانوں کے کام کرنے کے طریقے کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اوپن اے آئی رواں سال ساڑھے 3 ہزار نئی بھرتیاں کرے گی

فی الوقت یہ صرف ایک ڈیجیٹل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے جو آپ کے کاموں میں مدد دیتا ہے اور آپ کی موجودگی کے بغیر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ بار انتخابات، صدر سمیت اہم عہدوں کے امیدواروں کی عبوری فہرست جاری

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی