ایران امریکا مذاکرات کے بعد پاکستان کی تیز ترین سفارتکاری، قیام امن کے لیے کن عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، رابطے کیے؟

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران امریکا امن مذاکرات کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل اور کنونشن سینٹر میں بنائے گئے میڈیا سینٹر پر اس وقت مایوسی کی چادر تن گئی جب 12 اپریل کی صبح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے بے نتیجہ خاتمے کا اعلان کر کے اپنے ملک واپس روانہ ہو گئے۔

نہیں ہوا تو پاکستان مایوس نہیں ہوا

مذکورہ صورتحال پر پاکستان کے قائدین بشمول وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر خود مایوس ہوئے نہ قوم کو مایوس کیا اور اس کے بعد بھی بھرپور سفارت کاری، مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ اور سیاسی قائدین سے مسلسل ملاقاتیں جاری رکھیں جو اب بھی جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات: ایران کے جواب نہ دینے پر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، امریکی میڈیا

دونوں متحارب گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اب بھی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کوششوں کا ایک نتیجہ ہم نے گزشتہ روز 21 اور 22 اپریل کی درمیانی شب دیکھا جب امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس کے بعد ایکس پر اپنے پیغام میں اپنی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

نیٹلی بیکر

بدھ کو بھی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر سے ملاقات کی ہے جو ایران امریکا مذاکرات کے کامیابی کے لیے پاکستانی کاوشوں کا تسلسل ہے۔

اس سے قبل 21 اپریل کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی نیٹلی بیکر سے ملاقات کی تھی جس میں امریکی ناظم الاُمور نے قیام امن کی کاوشوں اور مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی تھی۔

وزیراعظم کی 4 اہم ملاقاتیں اور ایک اہم فون کال

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز 22 اپریل کو ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات: اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی، ریڈ زون میں واقع ادارے آج بھی ’ورک فرام ہوم‘ کریں گے

اس سے قبل انہوں نے 15 سے 18 اپریل 3 ممالک کے دوروں کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، قطر کے امیر اور ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقاتیں کیں۔

ترکیہ میں اناطولیہ فورم میں انہوں نے صدر ٹرمپ کے مشیر برائے عرب و افریقہ مساد بولوس سے ملاقات کی جبکہ 19 اپریل کو اُنہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیاں سے بھی ٹیلی فونگ گفتگو کی۔

مزید پڑھیں: کیا آنے والے 2 سے 3 دن میں ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے؟

اس کے علاوہ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس عرصے میں وزیراعظم شہباز شریف کے امریکی حکام کے ساتھ بھی رابطے ہوئے ہیں۔

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی 3 اہم ملاقاتیں

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے 15 سے 18 اپریل ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ کیا جس میں وزیرداخلہ محسن نقوی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔

اُس دورے میں اُنہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیاں، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کیں جس کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا جو بعد میں امریکی ناکہ بندی کے بعد بند کر دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی 34 اہم ٹیلی فون کالز اور ملاقاتیں

12 اپریل کے بعد اسحاق ڈار نے 2 بار چینی سفیر، ایک بار ایرانی سفیر اور ایک بار امریکی ناظم الاُمور اور ایک بار برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کی۔ جبکہ 3 بار مصری وزیرخارجہ، 3 بار ترک وزیرخارجہ 2 بار سعودی وزیر خارجہ، 2 بار کینیڈین وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔

 12 اپریل کو ایران امریکا مذاکرات کے بے نتیجہ خاتمے کے بعد نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اُسی روز  3 اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی۔ سب سے پہلے مِصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبد العاطی سے رابطہ کیا اور مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات پر دنیا کی نظریں مگر اس میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

اُس کے بعد سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اُنہیں مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتّفاق کیا۔ اُسی روز اسحاق ڈار نے تُرک وزیر خارجہ خاقان فیدان سے ٹیلفونک رابطہ کیا۔

13 اپریل کو اسحاق ڈار نے 03 اہم ملاقاتیں اور ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اُنہوں نے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ سے ملاقات کی اور اُسی روز چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اور اُسی روز اسحاق ڈار نے برطانوی فارن سیکریٹری ایہویٹ کوپر سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔

14 اپریل کو اسحاق ڈار نے 5 اہم فون کالز اور ایک اہم ملاقات کی۔ کنیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند، یورپی یونین کی نائب صدر کایا کالس، کویتی وزیرخارجہ شیخ جراح جابر الصباح سے ٹیلی فونک گفتگو کی جبکہ اسلام آباد میں اُنہوں نے مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ افسران سے ملاقات کی۔ اُسی روز رومانیہ کی وزیرِ خارجہ اوآنا تویو نے اسحاق ڈار سے ٹیلفونک گفتگو کی اور قیامِ امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

14 اپریل ہی کو اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اور اُسی روز ایک بار پھر تُرک وزیرِ خارجہ خاقان فیدان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

16 اپریل کو اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ 3 ممالک کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں اُنہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امیر قطر اور ترک صدر رجب طیب اردگان اور دیگر رہنماؤں سے اناطولیہ فورم پر ملاقاتیں کی۔

اناطولیہ فورم میں اسحاق ڈار نے 17 اپریل کو جنوبی کوریا کے وزیرِ، شمالی قبرص، بنگلہ دیش، بوسنیا،آسٹریا، مصر، آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔

18 اپریل کو پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیا پر مشتمل 4 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ترکیہ کے شہر انطالیہ میں تیسرا اجلاس منعقد کیا جس میں مشرقِ وسطٰی کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم سعودی عرب اور فیلڈ مارشل ایران پہنچ گئے

19 اپریل کو اسحاق ڈار نے پولینڈ کے وزیرخارجہ رادوشیاف شکورسکی سے ٹیلی فونک بات چیت کی جنہوں نے قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ اُسی روز اُنہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ 19 اپریل کو اسحاق ڈار کی ایک بار پھر مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔

20 اپریل کو اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وانگ سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور اُسی روز اُنہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

21 اپریل کو اسحاق ڈار نے مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اور اُسی روز اُنہوں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ سے دوسری بار ملاقات کی۔ اور اُسی روز اُنہوں نے امریکی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر سے ملاقات کی۔ جبکہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر بات کی۔

مزید پڑھیے: وزیراعظم کو فرانسیسی صدر کا ٹیلیفون، ایران امریکا مذاکرات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار، پاکستانی کردار کی تعریف

22 اپریل کو اسحاق ڈار نے برطانوی سفیر جین میریٹ سے ملاقات کی اور اُسی روز  ترک وزیرخارجہ خاقان فیدان اور کرغیزستان کے وزیر خارجہ یینبیک کلوبائف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp