مذاکرات میں پیشرفت کے لیے سب سے اہم عنصر اعتماد سازی کے اقدامات یا سی بی ایمز ہوتے ہیں جبکہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے بقول مذاکرات کسی ایک واقعے کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب اس عمل کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونے کی امید ہے۔
ایرانی وفد کی اسلام آباد میں موجودگی اور امریکی وفد کی متوقع آمد ایک جامد صورتحال میں اچانک تبدیلی اور ایک مثبت پیشرفت کا عندیہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور اس کے بعد انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بات چیت کی جس کے بعد ایرانی وفد گزشتہ شب اسلام آباد پہنچ گیا۔
دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندگان اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی اسلام آباد پہنچیں گے۔
مزید پڑھیے: ایران معاملے کے حل کے لیے پیشکش تیار کر رہا ہے دیکھتے ہیں کیا سامنے آتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ذرائع کے مطابق امریکی اعلیٰ سطحی عہدیداران ہفتے کی شب اسلام آباد پہنچیں گے تاہم اس بار امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں فی الوقت شرکت کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔
12 اپریل کو مذاکراتی عمل کا حصہ بننے والی امریکی ٹیکنیکل ٹیمز پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہیں۔ اب جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذاکراتی عمل ممکنہ طور پر کس طرح سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
آگے کا روڈ میپ کیا ہو سکتا ہے؟
اسلام آباد ایک بار پھر خطے کی اہم ترین سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان ایک بار پھر بیک چینل اور فرنٹ چینل ڈپلومیسی کے اہم کردار میں داخل ہو چکا ہے۔ آگے کا ممکنہ روڈ میپ کیا بن سکتا ہے؟
پہلا مرحلہ
پہلا مرحلہ الگ الگ ملاقاتیں یا شٹل ڈپلومیسی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر امکان یہی ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرے گا۔ اس مرحلے میں حساس نکات پر براہ راست آمنا سامنا کرانے کے بجائے ’شٹل ڈپلومیسی‘ اختیار کی جائے گی جہاں پاکستانی حکام پیغامات، شرائط اور خدشات ایک فریق سے دوسرے فریق تک منتقل کریں گے۔ یہ مرحلہ اعتماد سازی سی بی ایمز کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔
دوسرا مرحلہ
دوسرا مرحلہ ممکنہ طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات یا ڈی ایسکلیشن کی صورت میں ہو گا۔ اگر ابتدائی رابطے مثبت رہے تو اگلا قدم کشیدگی کم کرنے کے عملی اقدامات ہو سکتے ہیں۔ اس میں محدود جنگ بندی یا اس میں توسیع، حساس علاقوں، خصوصاً آبی گزرگاہوں میں فوجی سرگرمیوں میں کمی اور اشتعال انگیز بیانات میں کمی کے حوالے سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یہ اقدامات مکمل معاہدہ نہیں ہوتے لیکن مذاکراتی عمل کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
تیسرا مرحلہ
تیسرے مرحلے میں ایجنڈا سیٹنگ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اصل مذاکراتی ایجنڈا طے کیا جائے گا جن میں ممکنہ طور جوہری پروگرام اور اس پر شفافیت، علاقائی سیکیورٹی، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ یا ان میں ممکنہ نرمی، قیدیوں کا تبادلہ یا انسانی بنیادوں پر اقدامات جیسے نکات شامل ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی قیادت سے ملاقات کے دوران میزبان کی ثالثی و سفارتی امور پر تبادلہ خیال ہوگا، ایرانی وزارت خارجہ
یہ مرحلہ سب سے پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ یہی طے کرتا ہے کہ مذاکرات آگے بڑھیں گے یا رک جائیں گے۔
چوتھا مرحلہ
چوتھے مرحلے میں محدود براہ راست رابطہ ممکن ہو سکا ہے۔ اگر پیشرفت ہوئی تو ممکن ہے کہ ابتدائی طور پر محدود یا غیر رسمی براہ راست رابطہ بھی ہو مثلاً ایک ہی مقام پر مختلف کمروں میں بیٹھ کر مذاکرات، یا ثالث کے ذریعے مشترکہ سیشن۔
5واں مرحلہ
اس کے بعد 5ویں مرحلے میں فریم ورک معاہدہ ہو سکتا ہے جس میں اصولی اتفاق، آئندہ مذاکرات کا شیڈول اور عملدرآمد کا طریقہ کار شامل ہوں گے۔
پاکستان کا کردار: سہولت کار یا اس سے بڑھ کر؟
پاکستان کی کوشش ہوگی کہ وہ خود کو ایک غیر جانبدار اور قابل اعتماد سہولت کار کے طور پر پیش کرے۔ تاہم اگر پیشرفت تیز ہوتی ہے تو پاکستان کا کردار محض میزبان سے بڑھ کر ضامن کا بھی بن سکتا ہے۔
چیلنجز کیا ہوں گے؟
دونوں فریقین کے درمیان شدید بداعتمادی اور کوئی بھی اچانک کشیدگی (مثلاً آبنائے ہرمز)، داخلی سیاسی دباؤ (خصوصاً امریکا اور ایران دونوں میں) اور علاقائی ممالک کا ردعمل بشمول ایسے ممالک جو ان مذاکرات کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے اور spoiler کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سفارتی مبصرین کی آراء اور قرائن
سفارتی ماہرین نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 2 روز قبل اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہو سکتے اور اس کے بعد اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے بھی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو مذاکرات کی راہ میں عملی رکاوٹ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس امریکا سے صورتحال کی نگرانی کریں گے، وائٹ ہاؤس کا پاکستان کو خراجِ تحسین
ایمبیسیڈر علی سرور نقوی کا کہنا تھا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دے تو مذاکرات کے آغاز کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔














