امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران ایک پیشکش تیار کر رہا ہے تاہم کسی بھی پیشرفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران عملی طور پر کیا پیش کرتا ہے۔
رائٹرز سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پابندیاں یا رکاوٹیں ختم کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ایران کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کا مکمل جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس سوال کا جواب بعد میں دینا ہوگا، پہلے دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا پیش کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستانی قیادت سے ملاقات کے دوران میزبان کی ثالثی و سفارتی امور پر تبادلہ خیال ہوگا، ایرانی وزارت خارجہ
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق امریکی حکام اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات میں ان افراد سے رابطے میں ہیں جو بااختیار حیثیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس امریکا سے صورتحال کی نگرانی کریں گے، وائٹ ہاؤس کا پاکستان کو خراجِ تحسین
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر پر مشتمل 2 رکنی وفد کو اسلام آباد بھیجا جائے گا جو پاکستان کے دورے پر گئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کرے گا۔














