بنگلہ دیش کے کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ ٹرانس نیشنل کرائم (سی ٹی ٹی سی) یونٹ نے ریاست کی اہم تنصیبات پر انتہا پسندانہ حملوں کے خطرے سے متعلق پولیس ہیڈ کوارٹرز کے الرٹ کے بعد عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے میڈیا سینٹر میں بریفنگ کے دوران سی ٹی ٹی سی کے جوائنٹ کمشنر منشی شہاب الدین نے صحافیوں کو بتایا کہ ایجنسی کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ موصول ہوا ہے اور ان کی سائبر انٹیلیجنس ٹیم اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے سرحدی سیکیورٹی مزید سخت کر دی، دیناج پور میں نئی بارڈر چوکی قائم
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
یہ یقین دہانی اس وقت سامنے آئی جب پولیس ہیڈ کوارٹرز نے 23 اپریل کو ملک بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک ’انتہائی اہم اور خفیہ‘ مراسلہ جاری کیا تھا، جس میں ایک کالعدم انتہا پسند گروپ کے حامیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کی وارننگ دی گئی تھی۔
خفیہ الرٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں قومی پارلیمنٹ کمپلیکس، شاہ باغ انٹرسیکشن، عبادت گاہیں، اور پولیس یا فوجی تنصیبات جیسی حساس جگہیں شامل ہوسکتی ہیں۔ اگرچہ حکام نے عوامی سطح پر ملوث تنظیم کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم بتایا جا رہا ہے کہ یہ وارننگ حال ہی میں گرفتار ہونے والے ایک مشتبہ عسکریت پسند اشتیاق احمد سمیع عرف سمیع سے ملنے والی معلومات کے بعد جاری کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر کو طلب کر لیا
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ مذکورہ مشتبہ شخص حملوں کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں فوج سے نکالے گئے دو اہلکاروں کے ساتھ رابطے میں تھا۔
سیکیورٹی حکام نے فی الحال تھریٹ لیول میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا لیکن واضح کیا ہے کہ حفاظتی اقدامات اور مانیٹرنگ کا عمل پوری سختی سے جاری ہے۔














