امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد سیکیورٹی خطرات، حملوں کی کوششوں اور مبینہ قتل کی سازشوں کا سامنا رہا ہے۔
امریکی حکام اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعات مختلف ریاستوں اور ممالک میں پیش آئے، جن میں براہ راست فائرنگ، مسلح افراد کی گرفتاری، زہریلے خطوط اور فضائی حدود کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:” واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار
تازہ ترین واقعہ آج یعنی 26 اپریل کو پیش آیا جب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ نے ہال میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ تقریب کے دوران باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب گولیوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد خفیہ سروس نے فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار کو گولی لگی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کے باعث وہ محفوظ رہا۔
فروری 2026 میں فلوریڈا کے علاقے مارا-لاگو میں ایک 21 سالہ شخص مبینہ طور پر مسلح حالت میں داخل ہوا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے پاس شاٹ گن اور مشکوک سامان موجود تھا۔ اس واقعے نے ٹرمپ کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا شخص کون تھا؟
مارچ 2026 میں اسی علاقے میں ایک طیارہ ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے امریکی فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔ حکام نے اسے سیکیورٹی خلاف ورزی قرار دیا اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
اکتوبر 2025 میں فلوریڈا میں ایئر فورس ون کے ممکنہ لینڈنگ ایریا کے قریب ایک مشکوک اونچا ڈھانچہ پایا گیا جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس سے صدر کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ اس پر ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کیں۔
اگست 2025 میں ورجینیا کے ایک گالف کلب میں ایک شخص غلطی سے لوڈڈ پستول لے آیا جبکہ ٹرمپ وہاں موجود تھے۔ اگرچہ اس نے خود اس بات کی اطلاع دی، لیکن اس واقعے کے بعد سیکیورٹی نظام پر سوالات اٹھے۔ اسی مہینے ایک اور کیس میں ایک خاتون کو آن لائن قتل کی دھمکیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
مئی 2025 میں ایک مبینہ جعلی خط سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کو ریلی کے دوران نشانہ بنایا جائے گا۔ بعد میں تفتیش میں معلوم ہوا کہ یہ خط ایک اور شخص نے سازش کے طور پر لکھا تھا تاکہ ایک گواہ کو متاثر کیا جا سکے۔
اکتوبر 2024 میں کیلیفورنیا کے علاقے کوچیلا کے قریب ایک ریلی کے باہر ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا گیا جس کے پاس جعلی نمبر پلیٹس، متعدد پاسپورٹس اور ہتھیار موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ: ’شدید صدمہ ہوا‘، وزیراعظم شہباز شریف
سب سے سنگین واقعہ ستمبر 2024 میں پیش آیا جب فلوریڈا کے گالف کلب کے قریب ایک شخص کو جھاڑیوں میں رائفل کے ساتھ دیکھا گیا۔ سیکیورٹی اہلکار نے فائرنگ کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گیا مگر بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کا مقصد ٹرمپ کو قتل کرنا تھا۔
جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کا بڑا واقعہ پیش آیا جس میں ٹرمپ کے کان پر گولی لگی جبکہ ایک شخص ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ حملہ آور کو موقع پر ہی مار دیا گیا۔ اس واقعے کو امریکی تاریخ کے سنگین ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔
2024 میں امریکی حکام نے ایران سے منسوب کئی مبینہ قتل کی سازشوں کا بھی ذکر کیا جن میں غیر ملکی نیٹ ورکس کے ذریعے حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ خطرناک مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے فائرنگ اسکواڈ بحال کریں گے، امریکی محکمہ انصاف
اس سے قبل 2020 اور 2018 میں بھی ٹرمپ کو زہریلے خطوط، مشکوک پیکجز اور سیکیورٹی خلاف ورزیوں کا سامنا رہا۔ 2016 میں انتخابی مہم کے دوران ریلیوں میں مسلح افراد کی کوششیں بھی رپورٹ ہوئیں، جنہیں سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنایا۔
امریکی خفیہ سروس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہیں سب سے زیادہ سیکیورٹی خطرات لاحق رہے ہیں، اور ان کی حفاظت کے لیے مسلسل ہائی الرٹ نظام برقرار رکھا جاتا ہے۔














