پاکستانی صومالی بحری قزاقوں کی قید میں، حکومت پاکستان کی سفارتی کوششیں، مغویوں نے اہلخانہ کو کیا بتایا؟

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے ایک آئل ٹینکر پر حملے اور اس پر موجود پاکستانی عملے کو یرغمال بنائے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سفارتی رابطے شروع کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئل ٹینکر پر قزاقوں کا قبضہ، یرغمال عملے میں 11 پاکستانی بھی شامل

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے صومالیہ کے سفیر کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں بحری جہاز  آنر 25 پر موجود پاکستانی عملے کی فوری اور بحفاظت واپسی کے لیے صومالی حکومت سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں پاکستانی بحری عملے کی سلامتی پر گہری تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

صومالیہ کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی

دوسری جانب صومالی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیے: بحری قزاقوں کی جانب سے یرغمال 11 پاکستانی شہریوں کی بازیابی کے لیے حکومتی کوششیں تیز

صومالی حکام کے مطابق پاکستانی شہریوں اور جہاز سے متعلق تمام ضروری معلومات صومالیہ کے قومی سلامتی کے اداروں کو فراہم کر دی گئی ہیں۔

صومالی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جہاز اور عملے کی بازیابی کے حوالے سے ہونے والی ہر نئی پیشرفت سے حکومت پاکستان کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 کا تعلق پاکستان سے ہے۔

’ایم ٹی آنر 25‘ کی آپریٹنگ کمپنی ’وارف چارٹرنگ‘ انڈونیشیا میں رجسٹرڈ ہے۔ جہاز کا کپتان کا تعلق انڈونیشیا سے ہے جبکہ عملے میں بھی 4 انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

قزاقوں کی قید میں پھنسے ایک بے بس پاکستانی شہری کا پیغام

اغوا ہونے والے پاکستانیوں شہریوں میں سے ایک امین بن شمس کا ایک پیغام بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ جذباتی انداز میں اپنے اہلخانہ سے مخاطب ہوتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ امین کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ابو ہمیں بحری لٹیروں نے پکڑ لیا اور یہ میرا آخری پیغام ہے اور کیا پتا میں آپ سے اب بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ مارنے کے لیے لے کر جا رہے ہیں۔ ابو مجھ سے کوئی بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کردیجیے گا۔

مزید پڑھیں: ’یہ میرا آخری پیغام ہے، ہمیں مارنے کے لیے لے جا رہے ہیں‘، قزاقوں کی قید میں پاکستانی کی دل دہلا دینے والی آڈیو وائرل

امین شمس کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے والد ہیں جن میں 3 سال کی بیٹی اور 4 ماہ کا بیٹا شامل ہے۔ اغوا ہونے والے دیگر افراد میں سید کاشف، عمران اور حسین بھی شامل ہیں جو اپنے پیچھے کئی کم عمر بچے چھوڑ گئے ہیں۔ اہلخانہ شدید اضطراب میں اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے منتظر ہیں۔

اغوا کے بعد پاکستانی عملے کی مشکلات، اہلخانہ کے انکشافات

دریں اثنا بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اغوا کیے گئے پاکستانیوں کے اہلخانہ نے بتایا ہے کہ ابتدا میں جہاز پر خوراک کی کمی نہیں تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ اہلخانہ کے مطابق جہاز پر موجود تقریباً 50 قزاقوں کی جانب سے عملے کے اراکین پر تشدد بھی کیا جا رہا ہے اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

مغویوں کے اہلخانہ کے مطابق یہ آئل ٹینکر عمان سے صومالیہ کے لیے روانہ ہوا تھا جب 21 اپریل کو قزاقوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں تمام عملے کے موبائل فونز ضبط کر لیے گئے تھے تاہم بعد میں مختصر وقت کے لیے اہلخانہ سے رابطے کی اجازت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ

ایک مغوی کے کزن نے بتایا کہ 21 اپریل کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی جس میں مغوی نے اطلاع دی کہ جہاز اغوا ہو چکا ہے اور ان کی زندگیوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ اہلخانہ، حکومت اور متعلقہ کمپنی قزاقوں سے کیسے معاملات طے کرتی ہے۔ ایک اور اہلخانہ کے مطابق انہیں 23 اپریل کو اغوا کی اطلاع ملی جبکہ بعد ازاں قزاق عملے کو مختصر کال کے لیے مجبور کرتے ہیں۔

اہلخانہ کے مطابق 23 اپریل کے بعد سے بعض مغویوں کے فون بند ہیں اور مسلسل رابطہ منقطع ہے۔

اس جہاز پر موجود 10 پاکستانی سیلرز کو کراچی کی ہیلمزمین میننگ سروسز کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ اس کا کردار صرف عملے کی بھرتی تک محدود تھا جبکہ جہاز کے آپریشنل معاملات اور ہنگامی صورتحال کی ذمہ داری جہاز کے مالکان اور منیجرز پر عائد ہوتی ہے۔

صورتحال کی سنگینی

واضح رہے کہ صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں بحری قزاقی کے واقعات دوبارہ سر اٹھانے لگے ہیں جس سے بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

پاکستانی حکام اس وقت بین الاقوامی بحری اداروں اور صومالی حکومت کے ساتھ مل کر عملے کی غیر مشروط رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔

مزید پڑھیں: صومالیہ، انتہا پسند الشباب کا ساحل پر حملہ، 32 افراد ہلاک

وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ خود اس صورتحال کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور عملے کی واپسی تک سفارتی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp