اکادمی ادبیات پاکستان نے سال 2024 کے کمالِ فن اور قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کر دیا۔ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ معروف ادیب عطا الحق قاسمی کو ان کی عمر بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمالِ فن ایوارڈ 2024 کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
کمالِ فن ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی اعزاز ہے، جس کے تحت 10 لاکھ روپے انعام دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ 1997 سے ہر سال کسی ایک ممتاز پاکستانی اہلِ قلم کو دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: جب کہانی ’عبداللہ حسین‘ کے گلے پڑ گئی
اس سے قبل احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز، شوکت صدیقی، منیر نیازی، ادا جعفری، سوبھو گیان چندانی، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک، عبداللہ جان جمالدینی، محمدلطف اللہ خان، بانو قدسیہ، محمد ابراہیم جویو، عبداللہ حسین، افضل احسن رندھاوا، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، امر جلیل، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خاں، ظفر اقبال، حسن منظر اور افتخار عارف کو ’کمال فن ایوارڈ ‘ دیے جا چکے ہیں۔

اس موقع پر قومی ادبی ایوارڈز 2024 کا بھی اعلان کیا گیا۔ اردو فکشن میں سعادت حسن منٹو ایوارڈ حفیظ خان کی کتاب ’ہر ایک جنم کی جانما‘ کو دیا گیا، جبکہ نان فکشن میں مشتاق احمد یوسفی ایوارڈ محمد اظہار الحق کی کتاب ’سمندر جزیرے اور جدائیاں‘ کے نام رہا۔
تحقیقی و تنقیدی ادب میں بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ڈاکٹر واحد بخش بزدار، اردو شاعری میں علامہ اقبال ایوارڈ جلیل عالی، پنجابی شاعری میں سید وارث شاہ ایوارڈ صغیر تبسم اور پنجابی نثر میں افضل احسن رندھاوا ایوارڈ اکمل شہزاد گھمن کو دیا گیا۔
مزید پڑھیں: عینی آپا تھیں تو پاکستانی
سندھی شاعری میں شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ امداد حسینی جبکہ سندھی نثر میں مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ ڈاکٹر فہمیدہ حسین کے نام رہا۔ پشتو، بلوچی، سرائیکی، براہوئی اور ہندکو زبانوں میں بھی نمایاں ادبی خدمات پر مختلف ایوارڈز دیے گئے۔
اکادمی ادبیات پاکستان نے 2024 کے ایوارڈز کا اعلان کردیا، عطاالحق قاسمی کو عمر بھر کی ادبی خدمات پر کمالِ فن ایوارڈ دیا گیا۔ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے مطابق یہ ملک کا سب سے بڑا ادبی اعزاز ہے، جس کے ساتھ 10 لاکھ روپے انعام دیا جاتا ہے۔ایوارڈ 1997 سےدیاجارہا ہے۔@YasirPirzada pic.twitter.com/FWdIYo5Hv5
— Media Talk (@mediatalk922) April 29, 2026
انگریزی نثر میں پطرس بخاری ایوارڈ فریال علی گوہر جبکہ انگریزی شاعری میں داؤد کمال ایوارڈ محمد اطہر طاہر کو دیا گیا۔ ترجمے کے شعبے میں محمد حسن عسکری ایوارڈ شوکت نواز نیازی کو ملا۔ ہر قومی ادبی ایوارڈ کے ساتھ 2 لاکھ روپے انعامی رقم دی جائے گی۔

اکادمی ادبیات پاکستان نے پہلی بار گلگت بلتستان کی زبانوں کے لیے بھی ادبی انعامات کا اجرا کیا ہے، جن کے تحت بلتی ناول ’شہ سر‘ کے مصنف افضل روش اور کھوار افسانوی مجموعے ’اورائے‘ کے مصنف فرید احمد رضا کو مشترکہ طور پر انعام دیا گیا، جبکہ دونوں کو ایک ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: داستاں سرائے، راجا گدھ اور بانو آپا
ایوارڈ کمیٹی اجلاس کی صدارت کشور ناہید نے کی، جبکہ جیوری میں ملک کے ممتاز ادیب اور دانشور ڈاکٹر انعام الحق جاوید، محمد اظہار الحق، محمود شام، اصغر ندیم سید، شعیب بن عزیز، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، محمد حفیظ خان، یاسمین حمید، محمد حمید شاہد، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، ڈاکٹر شیر مہرانی، ڈاکٹر بیزن بلوچ، احمد حسین مجاہد اور فریدہ حفیظ شامل تھیں۔














