ناسا کے آرٹیمس II مشن کے خلا بازوں نے مقبول ٹی وی پروگرام ’دی ٹونائٹ شو اسٹارنگ جمی فالن‘ میں شرکت کے دوران اپنے تاریخی چاند مشن کے حیرت انگیز تجربات، خطرناک لمحات اور جذباتی یادیں شیئر کر کے ناظرین کو حیران کر دیا۔
ناسا کے آرٹیمس II مشن کے خلا بازوں نے اپنے حالیہ چاند کے گرد سفر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ واپسی کے دوران اورائن کیپسول شدید حرارت اور آگ کے حصار میں آ گیا تھا۔ مشن کمانڈر ریڈ وائزمین کے مطابق خلائی جہاز فضا میں داخل ہوتے وقت ایک جلتی ہوئی پلازما بال میں تبدیل ہو گیا تھا، جہاں ہر کھڑکی سے شعلے نظر آ رہے تھے اور جہاز کا بیرونی حصہ حد درجہ گرم ہو چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:تاریخی چاند مشن کی کامیاب واپسی، براک اوباما کا آرٹیمس II کے خلانوردوں کو خراج تحسین
مشن میں شامل دیگر خلا بازوں میں وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل تھے، جو چاند کے گرد پرواز کرنے والے پہلے کینیڈین خلا باز بھی بنے۔ یہ ٹیم تقریباً 10 دن تک خلائی جہاز میں رہی۔
خلا بازوں نے بتایا کہ اگرچہ لانچ کا مرحلہ دلچسپ ہوتا ہے، لیکن اصل امتحان زمین پر واپسی کا ہوتا ہے، جب خلائی جہاز آواز کی رفتار سے 39 گنا تیز رفتار سے فضا میں داخل ہوتا ہے۔
Your emotional support astronauts… are back. 🌕
On this week’s #HWHAP, we revisit a classic episode from 2023 with the @NASAArtemis II crew recorded just after their selection, to hear their first reactions and reflect on how far they’ve come. https://t.co/M7c4Qh8rmY pic.twitter.com/fXw19deVaP
— NASA's Johnson Space Center (@NASA_Johnson) May 1, 2026
مشن کے دوران خلا بازوں نے زمین کو دور سے ایک ’چھوٹی نیلی گیند‘ کے طور پر دیکھا، جسے وہ مزاحاً ’ٹائنی ارتھ‘ کہنے لگے۔ چاند کے دور والے حصے کا مشاہدہ بھی ان کے لیے ایک منفرد تجربہ تھا، جہاں انہوں نے چاند کی سطح کی غیر معمولی ساخت کو قریب سے دیکھا۔
اس مشن کا ایک جذباتی لمحہ وہ تھا جب خلا بازوں نے متفقہ طور پر ایک قمری گڑھے (کریٹر) کو کمانڈر وائزمین کی اہلیہ کی یاد میں منسوب کیا۔ وائزمین کے مطابق ان کی بیٹیوں کو بھی اس فیصلے کا پہلے سے علم نہیں تھا، اور اس واقعے نے ٹیم کو مزید مضبوطی سے جوڑ دیا۔
Missing updates from the Artemis II crew? We have other humans in space you can follow!
Meet the NASA astronauts currently aboard the @Space_Station in the thread below 👇 pic.twitter.com/5KzwdGyOOe
— NASA (@NASA) April 28, 2026
خلا بازوں نے یہ بھی بتایا کہ اورائن کیپسول کا اندرونی حصہ نہایت محدود تھا، جسے انہوں نے دو منی وینز کے برابر قرار دیا۔ 3 سال کی مشترکہ تربیت کے باعث ٹیم میں بہترین ہم آہنگی رہی، جہاں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور برداشت نے مشن کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق آرٹیمس II مشن انسان کی دوبارہ چاند کی جانب واپسی کی ایک اہم کڑی ہے، جو مستقبل میں مزید بڑے خلائی مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔













