پاکستان کی وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مفادات کے تحت چلائی جانے والی پروپیگنڈا مہم قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات پر حملوں کی مذمت، پاکستان کا مکمل اظہارِ یکجہتی
وزارت داخلہ نے جن خبروں کی تردید کی ہے ان میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کو خاص طور پر نشانہ بنا کر ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ نے جمعے کو جاری بیان میں واضح کیا کہ یو اے ای یا کسی بھی دوسرے ملک میں پاکستانیوں یا کسی مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کوئی خصوصی مہم نہیں چلائی جا رہی۔
بیان کے مطابق جہاں کہیں بے دخلی کے واقعات پیش آتے ہیں وہ میزبان ممالک کے امیگریشن قوانین اور قانونی نظام کے تحت معمول کی کارروائی کا حصہ ہوتے ہیں جن کی وجوہات میں ویزا کی مدت ختم ہونا، غیر قانونی دستاویزات یا مقامی قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ یو اے ای سمیت کسی بھی ملک سے کسی مخصوص ملک یا مسلک کے افراد کی بے دخلی نہیں کی جا رہی۔
Deportations if any are a routine process in line with the host country regulations and legal system, violations of their laws and overstay / illegal documentation. At the same time Pakistani nationals, having fulfilled host country visa and work based requirements continue to
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) May 8, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ پاکستانی شہری جو ویزا، ملازمت اور رہائشی شرائط پوری کرتے ہیں، بدستور یو اے ای اور دیگر دوست ممالک میں بغیر کسی امتیاز کے سفر اور روزگار کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان
وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبریں اور گمراہ کن پوسٹس بدنیتی پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد عوام میں بے چینی پیدا کرنا اور مخصوص مقاصد حاصل کرنا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں سے متعلق کسی بھی مسئلے کو ہمیشہ انفرادی بنیادوں پر متعلقہ ملک کے ساتھ دفتر خارجہ کے قائم شدہ سفارتی ذرائع کے ذریعے اٹھایا جاتا ہے۔
اس سے قبل دفتر خارجہ نے بھی کہا تھا کہ یو اے ای سے بعض پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کی بنیادی وجوہات امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں اور دیگر قانونی معاملات ہیں نہ کہ سیاسی عوامل۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا 2 ارب ڈالر قرض واپس کر دیا، اسٹیٹ بینک کی تصدیق
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی آبادیوں میں شامل ہے جہاں تقریباً 18 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جبکہ یہ ملک پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔














