افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد سے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، جہاں مختلف رپورٹس میں خواتین، میڈیا، اقلیتوں اور سابق سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عوامی مراکز کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے والے افغان طالبان کا پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا
2021 کے بعد افغانستان میں شہری آزادیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ مبینہ طور پر نظام حکومت میں سخت کنٹرول، نگرانی اور خوف کے ماحول نے جنم لیا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث لاکھوں لڑکیاں اور خواتین تعلیمی اداروں سے محروم ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان حکام کے بعض اقدامات کے نتیجے میں خواتین کو سرکاری شعبے اور مختلف اداروں سے بھی باہر رکھا گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں خواتین کی نقل و حرکت اور روزمرہ سرگرمیوں پر بھی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مذہبی و سماجی امور کی نگرانی کرنے والے اداروں کی جانب سے عوام کے لباس، عبادات اور سماجی رویوں کی نگرانی کی جاتی ہے، جس کے دوران مختلف اوقات میں گرفتاریاں اور مبینہ بدسلوکی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
اسی طرح ثقافتی سرگرمیوں اور تہواروں پر بھی قدغنوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض مواقع پر عوامی اجتماعات اور تقریبات کو محدود یا روکے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنوں حملہ: شواہد افغانستان سے جڑے ہیں، دفتر خارجہ کی افغان طالبان کو وارننگ
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ عدالتی نظام میں سخت سزاؤں اور کوڑوں کی اطلاعات موجود ہیں، جبکہ بعض کیسز میں سرعام سزاؤں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
مزید یہ کہ سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بھی مختلف رپورٹس میں گرفتاریوں، تشدد اور ہلاکتوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متعدد نشریاتی اداروں اور صحافیوں کو پابندیوں، معطلی اور دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث آزاد صحافت کے دائرہ کار میں کمی آئی ہے اور کئی صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

رپورٹس میں مذہبی اور ثقافتی تنوع پر بھی پابندیوں اور دباؤ کے الزامات شامل ہیں، جس کے باعث مختلف کمیونٹیز میں تشویش پائی جاتی ہے۔
مجموعی طور پر مختلف مبصرین کے مطابق افغانستان میں موجودہ نظام حکومت پر انسانی حقوق، آزادی اظہار اور سماجی آزادیوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات برقرار ہیں، جبکہ صورتحال پر عالمی سطح پر نگرانی جاری ہے۔














