افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں، سخت پابندیاں اور خوف کا ماحول

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد سے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، جہاں مختلف رپورٹس میں خواتین، میڈیا، اقلیتوں اور سابق سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوامی مراکز کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے والے افغان طالبان کا پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا

 2021 کے بعد افغانستان میں شہری آزادیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ مبینہ طور پر نظام حکومت میں سخت کنٹرول، نگرانی اور خوف کے ماحول نے جنم لیا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث لاکھوں لڑکیاں اور خواتین تعلیمی اداروں سے محروم ہیں۔

رپورٹس کے مطابق طالبان حکام کے بعض اقدامات کے نتیجے میں خواتین کو سرکاری شعبے اور مختلف اداروں سے بھی باہر رکھا گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں خواتین کی نقل و حرکت اور روزمرہ سرگرمیوں پر بھی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مذہبی و سماجی امور کی نگرانی کرنے والے اداروں کی جانب سے عوام کے لباس، عبادات اور سماجی رویوں کی نگرانی کی جاتی ہے، جس کے دوران مختلف اوقات میں گرفتاریاں اور مبینہ بدسلوکی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

اسی طرح ثقافتی سرگرمیوں اور تہواروں پر بھی قدغنوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض مواقع پر عوامی اجتماعات اور تقریبات کو محدود یا روکے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں حملہ: شواہد افغانستان سے جڑے ہیں، دفتر خارجہ کی افغان طالبان کو وارننگ

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ عدالتی نظام میں سخت سزاؤں اور کوڑوں کی اطلاعات موجود ہیں، جبکہ بعض کیسز میں سرعام سزاؤں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

مزید یہ کہ سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بھی مختلف رپورٹس میں گرفتاریوں، تشدد اور ہلاکتوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متعدد نشریاتی اداروں اور صحافیوں کو پابندیوں، معطلی اور دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث آزاد صحافت کے دائرہ کار میں کمی آئی ہے اور کئی صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

رپورٹس میں مذہبی اور ثقافتی تنوع پر بھی پابندیوں اور دباؤ کے الزامات شامل ہیں، جس کے باعث مختلف کمیونٹیز میں تشویش پائی جاتی ہے۔

مجموعی طور پر مختلف مبصرین کے مطابق افغانستان میں موجودہ نظام حکومت پر انسانی حقوق، آزادی اظہار اور سماجی آزادیوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات برقرار ہیں، جبکہ صورتحال پر عالمی سطح پر نگرانی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘