بھارتی ریاست منی پور کے ضلع کانگپوکی میں بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گاڑیوں پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
جس کے بعد نیشنل ہائی وے 2 پر فوری طور پر ناکہ بندی کر دی گئی اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
ہلاک ہونے والوں میں سابق منی پور بیپٹسٹ کنونشن کے جنرل سیکریٹری ریورنڈ وی سِٹلھو سمیت تھاڈو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن کے 3 چرچ رہنما شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست منی پور میں ہندو اور عیسائی برادریوں میں مسلح تصادم، 3 افراد ہلاک
دیگر 2 افراد کی شناخت ریورنڈ وی کائیگولن اور پادری پاؤگولین کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں کم از کم 5 دیگر افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
زخمیوں میں ریورنڈ ایس ایم ہاؤپو، ریورنڈ ہیکائی سمٹے، ریورنڈ پاؤتھانگ جبکہ 2 ڈرائیور لیلن اور گومانگ شامل ہیں۔
#Manipur | EFI expressed deep grief over the killing of church leaders in Manipur’s Kangpokpi district and urged authorities to conduct an impartial investigation.
Read here: https://t.co/bhec4z9HbF#ManipurAmbush #ManipurCrisis #EFI #Kangpokpi #ChurchLeaders #Justice #Kuki pic.twitter.com/AdadlHkq9H
— The Northeast Post (@thenepost) May 13, 2026
رپورٹس کے مطابق متاثرین 2 گاڑیوں میں ضلع چوراچاندپور سے کانگپوکی واپس جا رہے تھے، جہاں انہوں نے لمکا میں منعقدہ تھاڈو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
واپسی کے دوران راستے میں ان پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد کانگپوکی اور ملحقہ کوکی زو آبادی والے علاقوں میں بھی شدید کشیدگی پھیل گئی۔
واقعے کے بعد نیشنل ہائی وے 2 کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔ یہ شاہراہ منی پور کو ناگالینڈ اور بھارت کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی وزیراعظم کا 2 برس بعد منی پور کا دورہ، عوام کا شدید احتجاج، ’گوی مودی‘ کے نعرے
تھاڈو رہنما اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان مائیکل لامجاتھانگ تھاڈو نے چرچ رہنماؤں کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھاڈو برادری ایک الگ شناخت رکھتی ہے اور اسے کوکی گروپ کا حصہ نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ منی پور میں جاری تشدد کے دوران غلط شناخت کی وجہ سے ان کی برادری نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں۔
ادھر کوکی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (KSO) چوراچاندپور ضلع نے حملے کے خلاف بدھ دوپہر 12:30 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کا اعلان بھی کیا۔
مزید پڑھیں: بھارت، منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی
تنظیم نے واقعے کو بے گناہ چرچ رہنماؤں کا بہیمانہ قتل قرار دیتے ہوئے ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
تنظیم نے عوام اور مختلف اداروں سے ہڑتال میں تعاون کی اپیل کی، تاہم طبی ایمرجنسی، میڈیا، بجلی کی فراہمی اور مذہبی رسومات کو ناکہ بندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔













