انٹرنیٹ اب غیر معمولی طور پر یکساں لگنے لگا ہے۔ لنکڈ ان پر پوسٹس کارپوریٹ ٹیمپلیٹس جیسی نظر آتی ہیں۔ انسٹاگرام کی کیپشنز بہت زیادہ منظم محسوس ہوتی ہیں۔ عام ای میلز میں عجیب و غریب رسمی انداز اور غیر ضروری ’ایم ڈیش‘ دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟
یونیورسٹی آف ساؤدرن کیلیفورنیا (یو ایس سی) کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ یہ صرف اس لیے نہیں ہے کہ انٹرنیٹ پر مشینی گفتگو کی بھرمار ہے بلکہ انسان بھی اب مشینوں کی طرح لکھنا سیکھ رہے ہیں۔
یہاں انٹرنیٹ کو یکساں بنانے سے مراد یہ ہے کہ اے آئی کے اثر کی وجہ سے لوگوں کے لکھنے اور بولنے کا انداز آہستہ آہستہ ایک جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس، ای میلز اور آن لائن تحریروں میں اب زیادہ تر صاف، منظم، رسمی اور حد سے زیادہ (غیرقدرتی) پالش شدہ زبان استعمال ہو رہی ہے جس سے مختلف لوگوں کی منفرد تحریری پہچان کم ہوتی جا رہی ہے۔ یعنی پہلے ہر شخص کا انداز بیان الگ محسوس ہوتا تھا لیکن اب اے آئی کے زیر اثر بہت سی تحریریں ایک ہی طرز اور لہجے میں لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی کے متعارف ہونے کے بعد سائنسی جرائد، علاقائی اخبارات اور سوشل میڈیا پر تحریروں میں انداز کی تنوع میں اچانک کمی آئی۔
مزید پڑھیے: چیٹ بوٹس کی غلط معلومات کی روک تھام میں پیشرفت، مصنوعی ذہانت ’مجھے نہیں معلوم‘ کہنا سیکھ گئی
اس کے علاوہ، میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے انسانی ترقی کے محققین نے 740,000 گھنٹے سے زیادہ کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد پایا کہ ڈیلو، بوٹسٹ، میٹیکیولس کمپری ہینڈ جیسے الفاظ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا۔
کیا انسان اے آئی کے لہجے اپنا رہے ہیں؟
بڑے لینگویج ماڈلز وضاحت، ساخت، شائستگی، اور حفاظت کے لیے بہتر ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تحریر گرامر کے لحاظ سے درست لیکن جذباتی طور پر سادہ ہو جاتی ہے۔ جملے ہموار انداز میں بدلتے ہیں اور دلائل منظم طریقے سے پیش ہوتے ہیں۔
لہجہ ہمیشہ متوازن اور ڈپلومیٹک رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ، یہ صاف ستھرا انداز انسانی قارئین کو بلاواسطہ متاثر کرتا ہے جسے لسانیات میں ’ایکسپوزر ایفیکٹ‘ کہتے ہیں۔
یو ایس سی کے پروفیسر مرتضیٰ دہقانی کے مطابق لوگ زبان کو اس کے مثالی انداز میں استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ اثرانداز یا معتبر لگتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ انداز ان کی تحریروں میں جیمیل، آفس ایپس، اور سوشل میڈیا پوسٹس میں شامل ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: جنوبی افریقہ کی اے آئی پالیسی کینسل، مصنوعی ذہانت کا کونسا کارنامہ اس کی وجہ بنا؟
یہ انداز بالآخر اس ڈیجیٹل دنیا میں سرایت کر جاتا ہے جہاں لوگ روزانہ کام کرتے ہیں خواہ انہوں نے کبھی چیٹ جی پی ٹی استعمال نہ کیا ہو۔
جان بوجھ کر غلطیاں کرنا
آج کل لوگ جان بوجھ کر ٹائپوز، چھوٹے حروف اور غلط گرامر استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی انسانی پہچان ثابت کر سکیں۔ کچھ افراد اپنی تحریروں کو اے آئی ڈیٹیکشن سائٹس پر چیک کرتے ہیں کہ آیا اس میں انسانی غلطیاں ہیں یا نہیں اور اگر نہیں تو خود اس میں تبدیلی کر لیتے ہیں۔
یہ مثبت یا منفی؟ فیصلہ آپ کا
اے آئی کے اثر سے انٹرنیٹ پر لکھنے اور بولنے کا انداز زیادہ صاف، منظم اور پروفیشنل ہوتا جا رہا ہے جو ایک مثبت بات سمجھی جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے ای میلز، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر تحریریں سمجھنے میں آسان ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی بات بہتر انداز میں لکھنے میں مشکل محسوس کرتے تھے اب اے آئی کی مدد سے زیادہ مؤثر اور شائستہ انداز اپنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اعلیٰ تعلیم کے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کرے گی، چیئرمین ایچ ای سی
تاہم اس کا ایک منفی پہلو بھی سامنے آ رہا ہے۔ جب زیادہ تر لوگ ایک جیسے الفاظ، لہجے اور اندازِ تحریر استعمال کرنے لگتے ہیں تو انسانی انفرادیت اور قدرتی اظہار کم ہونے لگتا ہے۔ پہلے ہر شخص کی تحریر میں اس کی اپنی شخصیت، جذبات اور انداز نمایاں ہوتا تھا لیکن اب بہت سی تحریریں ایک جیسی حد سے زیادہ پالش شدہ اور مصنوعی محسوس ہونے لگی ہیں جس سے انٹرنیٹ کی فطری رنگا رنگی متاثر ہو سکتی ہے۔












