گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے والے ایک نوجوان امیدوار اپنے خوبصورت سیاحتی علاقے کو ماحولیاتی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مہنگی اور ماحول کو خراب کرنے والی مہم کے بجائے ’پیپر لیس مہم‘ متعارف کرا رہے ہیں۔
حیدر بدخشانی گلگت بلتستان کے خوبصورت سیاحتی علاقے ہنزہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حلقہ ہنزہ 6 سے آزاد امیدوار ہیں۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: نواز شریف نے ٹکٹ ہولڈرز کے ناموں کی منظوری دیدی، باضابطہ اعلان
حیدر بدخشانی ماحول دوست سماجی کارکن اور ڈیولپمنٹ سیکٹر کے ماہر ہیں۔ انہوں نے اپنے کاغذات جمع کرانے کے بعد باقاعدہ انتخابی مہم شروع کردی ہے جو روایتی انتخابی مہم اور سیاست سے بالکل مختلف ہے۔
پیپر لیس انتخابی مہم کیا ہے؟
حیدر بدخشانی کے مطابق انتخابات کے دوران پورے علاقے میں گہماگہمی ہوتی ہے۔ ہر طرف امیدواروں کے پوسٹرز، بینرز، پینا فلیکس اور پمفلٹس کی بھرمار ہوتی ہے، جو امیدواروں کے لیے اپنا منشور گھر گھر پہنچانے کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ لیکن حیدر کا ماننا ہے کہ یہ پرانا اور روایتی طریقہ جہاں مہنگا ہے وہیں ماحول دشمن بھی ہے، جس کے برعکس انھوں نے اپنی ماحول دوست مہم شروع کی ہے جو روایتی مہم سے ہٹ کر ہے۔
حیدر بد خشانی ہر قسم کی آلودگی کے خلاف ہیں، چاہے شور کی ہو یا ماحولیاتی آلودگی، اسی وجہ سے انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی بھی خاموشی سے دو دوستوں کے ساتھ جمع کرائے اور کسی قسم کے شور، ڈھول، رقص یا جلوس نکالنے کو ترجیح نہیں دی۔
حیدر بدخشانی نے اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے جس میں نہ سڑکوں پر بڑے بڑے پینا فلیکس، نہ دیواروں پر پوسٹرز، نہ بجلی کے کھمبوں پر بینرز، اور نہ ہی گھر گھر پمفلٹس تقسیم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’ہم اپنی مہم میں کاغذ کا استعمال نہیں کررہے، یہ مکمل پیپر لیس کیمپین ہے۔‘
انہوں نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کا مقصد صرف ووٹ لینا نہیں بلکہ ہنزہ کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ رکھنا بھی ہے، اور اگر اسمبلی میں جانے کا موقع ملا تو کلائمیٹ چینج ان کی اولین ترجیح ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ پیپر لیس مہم کے لیے وہ سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں جبکہ ایک خصوصی ویب سائٹ بھی تیار کی ہے جس میں ان کا انتخابی منشور، ایجنڈا اور دیگر انتخابی مواد شامل ہے، جس کے ذریعے ان کے ووٹرز ان کے منشور کے بارے میں جان سکیں گے۔
سوشل میڈیا پر مہم
حیدر بدخشانی نوجوان اور تعلیم یافتہ ہیں اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس موجود ہیں جن کے ذریعے وہ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہنزہ میں قریباً ہر شخص سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے، اور یہ ووٹرز تک پہنچنے کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ ہے۔ ’سوشل میڈیا پر ہم صرف مہم نہیں چلا رہے بلکہ اپنے ووٹرز سے رابطہ بھی قائم رکھتے ہیں، ان کے سوالات کے جواب دیتے ہیں، لائیو آتے ہیں، اس طرح ووٹرز کو بھی اپنی بات سنانے کا موقع ملتا ہے۔‘
انتخابی ریلی، گاڑیوں کے بجائے پیدل مہم
حیدر بدخشانی کے مطابق خوبصورت پہاڑ، برف پوش چوٹیاں، جھیلیں اور سبز وادیاں گلگت بلتستان کی پہچان ہیں اور یہاں کی سیاحت کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے، لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات پر وہ پریشان ہیں۔
ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بے وقت بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلنے اور ماحولیاتی آلودگی جیسے خطرات کا سامنا ہے، جس میں حیدر بدخشانی کے مطابق معاشرے کا بھی ہاتھ ہے۔
حیدر نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا کے ساتھ روایتی ڈور ٹو ڈور مہم بھی چلا رہے ہیں، لیکن وہ بھی ماحول دوست انداز میں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی جیپ یا بائیک ریلیوں کے خلاف ہیں، جبکہ مہم میں بھی گاڑیوں کے بجائے زیادہ پیدل کمپین کو ترجیح دے رہے ہیں۔
’ہم کوئی ایسی مہم نہیں کررہے جس سے ہمارا ماحول آلودہ ہو۔ ہم پیدل گھر گھر جا رہے ہیں، اپنا منشور بتا رہے ہیں۔ کارنر میٹنگز میں کھانا یا کوئی ایسی چیز نہیں دے رہے جس سے گندگی پیدا ہو۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ دوست بھی ہیں جو گھر گھر ان کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ انتخابی مہم کے دوران ریلیوں سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور امیدوار ہر دوسرے دن جیپ ریلیاں نکالتے ہیں۔ ’ہم صرف مجبوری میں گاڑی کا استعمال کریں گے اور ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے ہنزہ کو نقصان پہنچے۔‘
’ہنزہ کو انتخابی آلودگی سے بچانا چاہتے ہیں‘
حیدر بدخشانی کہتے ہیں کہ ہنزہ دنیا بھر میں اپنی قدرتی خوبصورتی، صاف ماحول اور سیاحت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انتخابی مہمات کے دوران جب ہر طرف بینرز، پینا فلیکس اور پوسٹرز آویزاں کیے جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ علاقے کی خوبصورتی بھی متاثر ہوتی ہے۔
’ہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی محسوس کررہے ہیں۔ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، موسم بدل رہے ہیں، سیلاب آ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر ہم خود مزید آلودگی پیدا کریں تو یہ ہمارے اپنے علاقے کے ساتھ زیادتی ہوگی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اسی سوچ کے تحت انہوں نے فیصلہ کیاکہ ان کی انتخابی مہم مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگی۔ ’آج کے دور میں موبائل ہر شخص کے ہاتھ میں ہے، اگر پیغام ڈیجیٹل طریقے سے پہنچ سکتا ہے تو پھر ہزاروں پوسٹرز چھاپنے کی کیا ضرورت ہے؟‘
’انتخابی مہم یا ماحولیاتی بوجھ؟‘
گلگت بلتستان میں ہر انتخاب کے دوران لاکھوں روپے کے پینا فلیکس، پوسٹرز اور بینرز استعمال ہوتے ہیں۔ انتخاب ختم ہونے کے بعد یہی مواد کچرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو ندی نالوں، سڑکوں اور پہاڑی علاقوں میں بکھرا رہتا ہے۔
حیدر بدخشانی کے مطابق اگر ایک حلقے میں 10 امیدوار بھی روایتی انداز میں مہم چلائیں تو صرف اشتہاری مواد پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق پورے گلگت بلتستان میں یہ خرچہ ایک ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، جس سے نہ صرف مالی وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
’سیاست کے ساتھ شعور بھی‘
گلگت بلتستان ان علاقوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلاؤ، غیر متوقع بارشوں اور سیلابی صورتحال نے یہاں کے لوگوں کو پہلے ہی پریشان کر رکھا ہے۔
ان حالات میں حیدر بدخشانی کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران سیاسی سرگرمی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے متعلق آگاہی دینے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ سیاست صرف جیت کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے، اور انتخابی مہم ان کے لیے بہترین موقع ہے جس کے دوران لوگوں میں موسمیاتی تبدیلی اور لوگوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی پھیلائی جائے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اور نئے منصوبوں کا افتتاح
حیدر بدخشانی کا مؤقف ہے کہ دیگر امیدوار بھی ماحول دوست انتخابی مہم چلائیں تاکہ گلگت بلتستان کو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچایا جا سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ انتخابات کے بعد وہ صفائی مہم بھی چلائیں گے اور علاقے میں نصب پینا فلیکس، بینرز اور پوسٹرز اتار کر ٹھکانے لگائیں گے تاکہ ہنزہ صاف ستھرا رہے۔













