چینی صدر شی جن پنگ نے دنیا کی 2 سب سے بڑی معیشتوں چین اور امریکا کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں کو مقابل نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا دورہ چین: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چینی سرکاری دورے کے موقعے پر گریٹ ہال آف دی پیپل میں شاندار عشائیے کے ساتھ استقبال کیا۔ اس موقعے پر چینی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ساتھ امریکی کاروباری شخصیات بشمول ایلون مسک اور ٹم کُک بھی موجود تھیں۔
President Xi offers a toast at the state banquet dinner in Beijing: "To the bright future of China-U.S. relations, and the friendship between the two peoples, and to the health of President Trump and all of the friends present." pic.twitter.com/VmJeU4Xk1f
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 14, 2026
شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کو اپنے تعلقات کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے اور اسے برباد نہیں کرنا چاہیے۔
Chinese President Xi Jinping on Thursday held a banquet at the Great Hall of the People in Beijing to welcome U.S. President Donald Trump on his state visit to China.
"Looking back at the course of China-U.S. relations, whether or not we could have mutual respect, peaceful… pic.twitter.com/lCHGa49aFR— China Xinhua News (@XHNews) May 14, 2026
چینی صدر نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں چی امریکا تعلقات سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اسے کامیاب بنانا ہوگا اور اسے خراب نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا جبکہ تصادم دونوں اقوام اور عالمی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ شی نے زور دیا کہ ہم دونوں ممالک کو شراکت دار بننا چاہیے نہ کہ حریف۔
تعمیراتی چین امریکا تعلقات
شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں فریقین نے چین امریکا تعلقات میں اسٹریٹجک استحکام کی بنیاد پر تعمیری تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ تعلقات کی مستحکم، صحت مند اور پائیدار ترقی ممکن ہو اور دنیا میں زیادہ امن، خوشحالی اور ترقی لائی جا سکے۔
Chinese President Xi Jinping on Thursday held a banquet at the Great Hall of the People in Beijing to welcome U.S. President Donald Trump on his state visit to China.
Addressing the banquet, Xi said the China-U.S. relationship is the most important bilateral relationship in the… pic.twitter.com/fHmPZi3m3Z— China Xinhua News (@XHNews) May 14, 2026
چینی صدر نے کہا کہ چین امریکا تعلقات کا تعلق دونوں ممالک کے 1.7 ارب سے زائد عوام کی فلاح و بہبود سے ہے اور یہ دنیا کے 8 ارب سے زائد افراد کے مفادات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام
انہوں نے زور دیا کہ دونوں فریقین کو اس تاریخی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور چین امریکا تعلقات کے بحری جہاز کو درست سمت میں مستحکم طریقے سے آگے بڑھانا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مثبت مذاکرات کی تعریف
عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کا تعلق دنیا کا سب سے اہم دوطرفہ تعلق ہے اور دونوں ممالک کو تعاون بڑھانا چاہیے تاکہ دنیا کے لیے بہتر مستقبل قائم کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کو انتہائی مثبت قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے شی اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کو 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔
دورے کی خاص باتیں
ٹرمپ کا بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان حل طلب تجارتی اور جغرافیائی سیاسی مسائل کے باوجود شاندار استقبالیہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پہلے دن کا اختتام گریت ہال آف دی پیپل میں ایک شاندار عشائیے کے ساتھ کیا جہاں سرخ قالین، رسمی گارڈز اور پھول و جھنڈیاں لہراتے بچے موجود تھے۔
.@POTUS delivers remarks at the state banquet dinner at the Great Hall of the People: "It was a fantastic day, and in particular, I want to thank President Xi, my friend, for this magnificent welcome… and for so graciously hosting us on this very historic state visit." pic.twitter.com/lcFTC7wUY9
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 14, 2026
عشائیے میں بیجنگ روسٹ ڈک، پوروک بنز اور تیرامیسو جیسی ڈشیں پیش کی گئیں اور روایتی سرخ لباس میں سٹاف میزوں کے درمیان مصروف دکھائی دیا۔
یہ بھی پڑھیے: چین نے ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں
جمعے کے دن مزید اعلیٰ سطحی مذاکرات اور چائے کی تقریب ہوگی جس کے بعد صدر ٹرمپ ایئر فورس ون کے ذریعے واشنگٹن واپس روانہ ہوں گے۔














