ایتھوپیا میں انسانوں اور لکڑ بگھوں کی انوکھی دوستی، شہروں کی صفائی اور بیماریوں کے خاتمے میں اہم کردار

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں لکڑ بگھوں (ہائناس) کو ایک خوفناک اور مکار شکاری کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن ایتھوپیا میں یہ جانور نہ صرف انسانوں کے دوست بن چکے ہیں بلکہ شہروں سے گندگی صاف کرنے والے ’قدرتی خاکروب‘ کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔

ایتھوپیا کے قدیم شہروں ہرار اور میکیلے میں لکڑ بگھے رات کے اندھیرے میں زیرِ زمین غاروں سے نکل کر شہر کے کچرا کنڈیوں کا رخ کرتے ہیں اور ہزاروں ٹن نامیاتی فضلہ کھا کر شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

صفائی کے قدرتی نظام سے لاکھوں ڈالرز کی بچت

 یونیورسٹی آف شیفیلڈ اور میکیلے یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، میکیلے شہر میں لکڑ بگھے، گدھ اور آوارہ کتے سالانہ تقریباً 5 ہزار میٹرک ٹن نامیاتی کچرا ٹھکانے لگاتے ہیں۔ اس قدرتی صفائی کے نتیجے میں شہر کی میونسپلٹی کو فضلے کو ٹھکانے لگانے کی مد میں سالانہ ایک لاکھ ڈالرز کی بچت ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے 90 فیصد کام تنہا لکڑ بگھے انجام دیتے ہیں۔ یہ جانور نہ صرف کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں بلکہ انتھراکس اور مویشیوں کی تپِ دق جیسی مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

لکڑ بگھا مین‘: ہرار کی قدیم روایت

ایتھوپیا کے مقدس شہر ہرار میں یہ رشتہ محض صفائی تک محدود نہیں بلکہ عقیدت اور روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ یہاں کے رہائشی عباس یوسف ان چند آخری لوگوں میں شامل ہیں جنہیں ’لکڑ بگھا مین‘ کہا جاتا ہے۔ وہ رات کے وقت ان خونخوار درندوں کو اپنے ہاتھ اور منہ سے گوشت کھلاتے ہیں۔

عباس نے یہ فن اپنے والد سے سیکھا تھا اور اب وہ ان جانوروں کو ان کے ناموں جیسے ’قمریہ‘ (چاند جیسی) اور ’چالتو‘ سے پکارتے ہیں۔

ہرار کی 16 ویں صدی کی قدیم دیواروں میں خاص طور پر ’لکڑ بگھوں کے سوراخ‘ بنائے گئے ہیں تاکہ یہ جانور رات کو شہر میں داخل ہو کر قصابوں کا پھینکا ہوا گوشت کھا سکیں۔

روحانی صفائی اور عوامی تحفظ کا تصور

ہرار کے مکینوں کا ماننا ہے کہ لکڑ بگھے نہ صرف ماحولیاتی بلکہ روحانی صفائی بھی کرتے ہیں۔ مقامی عقیدے کے مطابق یہ جانور ’جنوں‘ اور بدروحوں کا شکار کرتے ہیں، جس سے شہر کے لوگ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔

مقامی زبان میں انہیں ’واربا‘ یعنی ’خبر رساں‘ کہا جاتا ہے، جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ روحانی دنیا سے پیغامات لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے 72 فیصد گھرانے ان جانوروں کی موجودگی کو اپنے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور درپیش خطرات

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ دوستی صدیوں پرانی ہے، لیکن بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور جنگوں نے اس توازن کو متاثر کیا ہے۔ 2020

 سے 2022 کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران جب لکڑ بگھوں کو کچرے سے خوراک نہ ملی تو انہوں نے مویشیوں اور انسانی باقیات پر حملہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ جدید تعمیرات کی وجہ سے ان کے راستے مسدود ہو رہے ہیں۔ حکومت اب ہرار میں ایک ’ایکو پارک‘ تعمیر کررہی ہے تاکہ سیاح ایک محفوظ ماحول میں اس انوکھی دوستی کا نظارہ کر سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لکڑ بگھوں جیسے ’ایپکس سکوینجرز‘ (بڑے مردار خور) کو دنیا بھر میں ان کی بدنامی کی وجہ سے خطرات لاحق ہیں، لیکن ایتھوپیا کی یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ اگر ان کے کام کی قدر کی جائے تو یہ انسانی صحت اور ماحول کے لیے بہترین مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ عباس یوسف کا عزم ہے کہ وہ اس خوبصورت روایت کو اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کرتے رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق

ڈیزل اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمتوں میں 5،5 روپوں کی کمی کردی گئی

امریکا نے پولینڈ میں 4 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ڈاکٹر انعم فاطمہ پر ٹرولنگ، پی ٹی آئی کا خواتین کے ساتھ رویہ ایک بار پھر آشکار

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز