بڑی عید پر عید اور ہفتہ وار چھٹیاں ایک ساتھ آنے سے یکم جون تک چھٹیاں ہوں گی، جس سے خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقوں میں رش گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
عید اور ہفتہ وار چھٹیاں ملا کر پورے ہفتے کی چھٹیاں ہوں گی، جس سے گھومنے پھرنے کے شوقین افراد کو زیادہ موقع ملے گا۔ اس کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے بھی پیشگی انتظامات کیے ہیں۔
ماہِ رمضان اور اس کے بعد ایران امریکا جنگ اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سیاحتی علاقوں میں رش معمول سے کم رہا، تاہم اب بڑی عید پر زیادہ چھٹیوں کے باعث سیاحتی علاقوں میں رش بڑھنے کا امکان ہے، جس کے لیے ہوٹل مالکان اور مقامی انتظامیہ نے انتظامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان اور وادی کاغان کا سفر کرنے والے سیاحوں کے لیے خوشخبری
ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان کے مطابق ماہِ رمضان میں سیاح کم ہونے سے انہیں ہوٹلوں میں ضروری مرمت اور دیگر انتظامات مکمل کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ اسٹاف کو رمضان میں چھٹیاں بھی دی جاتی ہیں۔ تاہم بڑی عید پر چھٹیاں نہیں دی جاتیں تاکہ آنے والے سیاحوں کو بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
سیاحتی علاقوں میں چھٹیوں پر سیاحوں کے لیے تیاریاں
خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقوں میں گرمی اور سردی، دونوں موسموں میں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ مقامی ہوٹل مالکان کے مطابق عید یا دیگر تقریبات کی چھٹیوں میں اس میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
شہزاد احمد کا سوات میں ہوٹل ہے۔ ان کے مطابق عید اور دیگر تقریبات کی چھٹیوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں سیاح خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، جس کے لیے پہلے سے تیاری کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیزن شروع ہو چکا ہے اور ملک کے دیگر علاقوں میں گرمی بڑھنے کے ساتھ سوات میں سیاحوں کا رش بھی بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ بھی بڑی تعداد میں سیاحوں نے مالاکنڈ ڈویژن کا رخ کیا، جس کی ایک وجہ چترال میں کلاش تہوار تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بڑی عید کے دوسرے روز سے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جو آخری چھٹی کے دن تک جاری رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار زیادہ سیاح آنے کی امید ہے کیونکہ بچوں کی اسکولوں کی گرمیوں کی چھٹیاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چترال کی کالاش وادیاں یونیسکو کی ‘ورلڈ ہیریٹیج ٹینٹیٹو لسٹ’ میں شامل
انہوں نے بتایا کہ اسٹاف عید کا دن گھروں میں گزارتا ہے جبکہ دوسرے دن ڈیوٹی پر پہنچ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عید پر آنے والے سیاحوں کو ہر ممکن بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔
عید پر کن سیاحتی علاقوں میں جا سکتے ہیں؟
خیبر پختونخوا میں مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سیاحت کے لیے مشہور ہیں اور ہر سال بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ سعید بن اویس، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے ڈپٹی منیجر میڈیا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام سیاحتی مقامات سیاحوں کے لیے کھلے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ویسے بھی سیزن شروع ہو چکا ہے اور عید کی اضافی چھٹیاں ملنے سے سیاحوں کی زیادہ آمد کا امکان ہے۔ سعید کے مطابق اس بار کاغان ناران بھی کھلے ہیں جبکہ بابو سر ٹاپ بھی کھلنے کا امکان ہے۔

’برف ہٹا کر کاغان ناران کو کھول دیا گیا ہے جبکہ بابو سر ٹاپ کے لیے مشینری کام کر رہی ہے۔ کوشش ہے کہ اسے عید سے پہلے کھول دیا جائے‘۔
سعید بن اویس کے مطابق ہزارہ، چترال، دیر، سوات، کالام، گلیات، ایوبیہ، ایبٹ آباد اور دیگر علاقے سیاحوں میں مشہور ہیں اور ان تمام علاقوں تک رسائی کے راستے کھلے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کاغان ناران، گلیات، ایوبیہ اور شواگرام تک سیاح جا سکتے ہیں کیونکہ راستے کھلے ہیں۔ سعید نے بتایا کہ دیر میں کمراٹ بڑی گاڑیوں کے لیے کھلا ہے جبکہ چترال اور کالاش ویلی کے تمام راستے بھی کھلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:250 سال پرانی مسجد جس کی تعمیر میں جنات نے بھی حصہ لیا
سعید بن اویس کے مطابق اپر چترال اور شندور ٹاپ روڈ کو بھی برف ہٹا کر کھول دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے سیاحوں کے لیے تمام انتظامات کیے ہیں اور ٹورازم پولیس اور ریسکیو اہلکار تعینات ہوں گے۔
سعید نے بتایا کہ گزشتہ چھوٹی عید پر ایک لاکھ سے زائد سیاحوں نے صوبے کے سیاحتی علاقوں کا رخ کیا تھا، جن میں سب سے زیادہ سیاح ہزارہ ڈویژن آئے تھے، جبکہ سوات، چترال اور دیر میں بھی بڑی تعداد میں سیاح آئے تھے۔
حکومتی انتظامات
عید کے موقع پر صوبائی حکومت بھی خصوصی انتظامات کرتی ہے۔ سعید کے مطابق ریسکیو اور ٹورازم پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور انہیں سیاحتی علاقوں میں ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جبکہ سیاحوں کے لیے قائم مراکز کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ ساتھ ہی سیاحوں کو موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔













