سعودی عرب رواں برس حج کے انتظامات جدید ترین ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے کررہا ہے، یوں تو اس ضمن میں سعودی حکومت کوئی حتمی اعداد وشمار کا اعلان تو نہیں کیا، تاہم اس سال کا حج صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ نگرانی، ڈیجیٹل خدمات اور انسانی سہولت کے امتزاج کی عملی مثال بننے جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ: ’حرا کلچرل ڈسٹرکٹ‘ میں زائرین اور عازمین حج کا تانتا، تاریخِ اسلام سے آگاہی کے لیے خصوصی دورے
سعودی حکومت نے حج انتظامات کو وژن 2030 کے اہداف سے جوڑتے ہوے اس سال کئی نئی سہولیات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد عازمینِ حج کو زیادہ محفوظ، منظم اور آسان حج تجربہ فراہم کرنا ہے۔

وزارت حج وعمرہ، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی، وزارت صحت، وزارت داخلہ اور دیگر ادارے ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، جہاں لاکھوں عازمین کی نقل وحرکت، صحت، رہنمائی اور سیکیورٹی کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
اس سال مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی حج انتظامات کا مرکزی حصہ بن چکی ہے، سعودی حکام نے منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید سینسرز، اسمارٹ کیمروں اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز نصب کیے ہیں۔
مزید پڑھیں: مکہ روٹ انیشی ایٹو: حجاج کی سہولت کے لیے جدید اے آئی سسٹمز کا جائزہ
یہ نظام ہجوم کی رفتار، رش کے دباؤ اور غیر معمولی صورتحال کا فوری تجزیہ کرتے ہیں، مرکزی کنٹرول رومز کو مسلسل ڈیٹا موصول ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر راستوں کی تبدیلی، نقل وحرکت کی تقسیم اور سیکیورٹی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
رواں سال نسک کارڈ کو حج نظام کا بنیادی ستون قرار دیا جا رہا ہے، یہ کارڈ ڈیجیٹل اور پرنٹ دونوں شکلوں میں عازمین کو فراہم کیا جا رہا ہے اور اسے حج اجازت نامے، رہائش، ٹرانسپورٹ اور شناختی معلومات سے منسلک کیا گیا ہے۔

سعودی وزارت حج کے مطابق اسمارٹ سینسرز کو بھی نسک کارڈ کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ عازمین کی نقل وحرکت کو منظم انداز میں کنٹرول کیا جا سکے، حکام کا کہنا ہے کہ اس سے گمشدگی، غیر مجاز داخلے اور غیر منظم ہجوم کے خطرات کم ہوں گے۔
اس سال ڈیجیٹل رہنمائی کے نظام کو بھی نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے، توکلنا ایپ کے ذریعے عازمین 19 عالمی زبانوں میں حج خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اس ایپ میں اجازت نامے، طبی معلومات، رہنمائی، ٹرانسپورٹ، ہنگامی خدمات اور دیگر حکومتی سہولیات کو یکجا کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: 1800 سے زیادہ علما عازمین حج کی رہنمائی پر مامور، ڈیجیٹل اور فیلڈ سسٹم بھی فعال
سعودی حکام کے مطابق توکلنا اب 13 سو سے زائد ڈیجیٹل خدمات فراہم کر رہی ہے، جس سے عازمین کو مختلف اداروں سے الگ الگ رابطے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
غیر ملکی عازمین کے لیے اس سال ایک اہم سہولت مکہ روٹ انیشیٹو کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے، جس کے تحت کئی ممالک میں سعودی امیگریشن اور سفری مراحل روانگی سے پہلے ہی مکمل کیے جا رہے ہیں، اس عمل کو بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جوڑا گیا ہے تاکہ عازمین سعودی عرب پہنچتے ہی براہ راست اپنے رہائشی مقامات کی جانب منتقل ہو سکیں۔

شدید گرمی کے پیش نظر صحت کے شعبے میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ 50 ہزار سے زائد طبی عملہ حج سیزن میں خدمات انجام دے گا۔
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے بعض نظام عازمین کی صحت کی صورتحال، ہیٹ اسٹروک کے خدشات اور ہجوم والے مقامات پر طبی دباؤ کا اندازہ لگا رہے ہیں تاکہ فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے، بزرگ اور معذور عازمین کے لیے خصوصی نقل وحرکت سہولیات، اسمارٹ رہنمائی اور معاون خدمات بھی بڑھا دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں عازمین حج کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں میں اضافہ
سعودی عرب نے اس سال مواصلاتی نظام کو بھی غیر معمولی حد تک اپ گریڈ کیا ہے، زین سعودی عرب سمیت مختلف کمپنیوں نے اے آئی سے چلنے والے اسمارٹ نیٹ ورک پلیٹ فارمز متعارف کرائے ہیں، جو 5جی ٹاورز کے ذریعے حقیقی وقت میں نیٹ ورک دباؤ، خرابیوں اور صارفین کی ضروریات کا تجزیہ کرتے ہیں، حکام کے مطابق یہ نظام بغیر انسانی مداخلت کے کئی تکنیکی مسائل فوری حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حج 2026 میں سفری اور سامان کی منتقلی کے شعبے میں بھی نئی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، سعودی ایئرلائن نے حج بغیر سامان سروس کو وسعت دیتے ہوے 4 لاکھ عازمین تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، اس نظام کے تحت عازمین کو ایئرپورٹس پر سامان اٹھانے اور منتقل کرنے کے مراحل سے بڑی حد تک آزاد کیا جا رہا ہے، جبکہ بارکوڈ اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے سامان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب: حج انتظامات کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام ’نسک مسار‘ متعارف
حرمین شریفین میں روبوٹس اور خودکار صفائی نظام بھی اس سال نمایاں توجہ حاصل کر رہے ہیں، مسجد الحرام اور دیگر مقدس مقامات پر جدید صفائی روبوٹس، جراثیم کش نظام اور اسمارٹ نگرانی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ لاکھوں عازمین کے باوجود صفائی اور صحت کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق رواں سال حج انتظامات اس بات کی علامت ہیں کہ سعودی عرب بڑے انسانی اجتماعات کے نظم و نسق میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے، اگرچہ حج کی روحانیت اپنی جگہ برقرار ہے، مگر اس کے انتظامی ڈھانچے میں جدید ٹیکنالوجی تیزی سے شامل ہو رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ حج 2026 کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے اسمارٹ مذہبی اجتماع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔













