گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے گلگت میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون کو ہوں گے اور مجموعی طور پر 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدوار میدان میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: ’نہ پوسٹر، نہ بینر‘، ہنزہ کے نوجوان امیدوار ماحول دوست انتخابی مہم کیسے چلا رہے ہیں؟
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق گلگت حلقہ 1 سے 34، حلقہ 2 سے 58 اور حلقہ 3 سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

اسی طرح نگر 1 سے 38 اور نگر 2 سے 30 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار سیاسی قسمت آزمائی کریں گے، اسکردو 1 سے 33، اسکردو 2 سے 23، اسکردو 3 سے 18 اور اسکردو 4 سے 25 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔
اسی طرح کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اور نئے منصوبوں کا افتتاح
گانچھے 1 سے 15، گانچھے 2 سے 29 اور گانچھے 3 سے 15 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں،
استور 1 سے 19 جبکہ استور 2 سے 57 امیدوار مدمقابل ہوں گے، اسی طرح دیامر 1 سے 29، دیامر 2 سے 15، دیامر 3 سے 14 اور دیامر 4 سے 11 امیدوار میدان میں ہیں۔

غذر 1 سے 20، غذر 2 سے 42 اور غذر 3 سے 25 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں، گلگت 2 میں سب سے زیادہ 58 امیدواروں کے درمیان بڑا مقابلہ ہوگا، جبکہ دیامر 4 میں سب سے کم 11 امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہوں گے۔
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی: کب کس کی حکومت رہی؟
گلگت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں، جس کے لیے ووٹنگ 7 جون کو ہوگی، جبکہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔
مختلف اضلاع میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: پیپلز پارٹی نے ٹکٹ ہولڈرز کا اعلان کردیا، ن لیگ کی لسٹ بھی فائنل
گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے اور پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی جبکہ موجودہ گورنر مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے۔
اس کے بعد 2015 میں مدت ختم ہونے پر دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ن لیگ کو اکثریت ملی اور حافظ حفیظ الرحمان دوسرے وزیراعلیٰ بنے۔

ن لیگ کی حکومت نے بھی مدت پوری کی اور سال 2020 میں تیسرے عام انتخابات ہوئے جن میں اس وقت وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی اور خالد خورشید تیسرے وزیراعلیٰ بن گئے۔
تاہم پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور 2023 میں خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت ختم ہو گئی، بعد ازاں حاجی گلبر خان کی سربراہی میں نیا گروپ سامنے آیا اور مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بن گئے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: نواز شریف نے ٹکٹ ہولڈرز کے ناموں کی منظوری دیدی، باضابطہ اعلان
اب حاجی گلبر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد چوتھے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
سیاسی قائدین کے گلگت میں ڈیرے، ناراض ووٹرز کو منانے کی کوششیں
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے 7 جون کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد انتخابی مہم بھی تیز ہو گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین نے گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں پر مشتمل وفد گلگت کے دورے پر ہے، انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ناراض ووٹرز اور مقامی رہنماؤں کو منانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، اسی طرح ن لیگ کے مرکزی رہنما بھی گلگت میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ انتخابی مہم میں بھی مصروف ہیں۔
الیکشن میں کس کا پلہ بھاری؟
گلگت بلتستان الیکشن کے لیے تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں اور اسلام آباد کی اتحادی جماعتیں گلگت بلتستان میں مدمقابل ہیں، الیکشن میں پیپلز پارٹی، ن لیگ، عوامی استحکام پارٹی کے علاوہ مذہبی جماعتوں نے بھی امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے تمام 24 حلقوں سے امیدوار کھڑے کر کے سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ن لیگ نے 22 حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے ہیں اور 2 حلقوں میں اتحاد کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس مرتبہ انتخابی مہم میں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی، سی پیک منصوبے، معدنی وسائل، نوجوانوں کے روزگار اور انفرا اسٹرکچر جیسے مسائل اہم موضوعات بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران-امریکا تنازع: گلگت بلتستان کے عوام پُر اعتماد کیوں ہیں؟
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد یوسف سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اس بار بظاہر2 بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے زور و شور سے مہم شروع کی ہے اور سب سے زیادہ امیدوار بھی انہی دونوں جماعتوں نے کھڑے کیے ہیں۔
ان کے مطابق پہلی بار استحکام پارٹی بھی سرگرم نظر آ رہی ہے اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی سربراہی میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔
’اس بار تحریک انصاف کو انتخابی نشان جاری نہیں ہوا اور ان کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں، تحریک انصاف کے ووٹرز خاموش ہیں، وہ کس طرف جائیں گے، اس کا فی الحال اندازہ لگانا مشکل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مقابلہ نظر آ رہا ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں شخصی ووٹ بھی اثر انداز ہوں گے، جس سے استحکام پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
گلگت بلتستان الیکشن کا اسلام آباد حکومت سے کیا تعلق بنتا ہے؟
تجزیہ کار ممتاز گوہر کے مطابق گلگت بلتستان میں الیکشن پر اسلام آباد کا اثر ہوتا ہے اور جس جماعت کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے، ماضی میں اسی جماعت کو انتخابات میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3 انتخابات میں یہی دیکھنے کو ملا اور اس بار بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔
صحافی محمد یوسف بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ن لیگ کو اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ مرکز میں اس کی حکومت ہے۔’کچھ حلقوں، جیسے استور، سے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ امیدوار ہیں، جس سے ہمدردی کے ووٹ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔‘
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو ہوں گے، شیڈول جاری
ممتاز گوہر نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات باقی ملک کی نسبت ذرا مختلف ہوتے ہیں، یہاں رشتہ داری، برادری، مذہب اور علاقائیت کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ پارٹیوں کا ووٹ بینک بھی موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں ووٹرز تعلیم یافتہ ہیں اور کارکردگی پر بھی ووٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی مہم نہ ہونے کے برابر ہے اور اکثر رہنما یا تو روپوش ہیں یا پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔
ممتاز گوہر کے مطابق اس بار گزشتہ انتخابات کی نسبت مختلف نتائج کے امکانات ہیں اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت بننے کے آثار ابھی سے نظر آ رہے ہیں۔













