چینی صدر شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ اور دشمنی کا سلسلہ نہ رکا تو دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس جا سکتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے اس تنازع کو عالمی نظام کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا اس خطرے سے دوچار ہے کہ وہ دوبارہ طاقت کے بل بوتے پر چلنے والے نظام کی جانب لوٹ جائے، کیونکہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں اور طویل جنگیں بین الاقوامی اصولوں کو کمزور کر رہی ہیں۔
شی جن پنگ نے یہ بیان روسی صدر پیوٹن کے بیجنگ پہنچنے اور دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے موقع پر دیا، جبکہ خطے میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اور وسیع تر علاقائی بحران کے باعث توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
Chinese President Xi Jinping said further hostilities in the Middle East is "inadvisable", calling for a "comprehensive" ceasefire, as he spoke with his Russian counterpart Vladimir Putin in Beijing on Wednesday, state media reported. pic.twitter.com/vKvLK8wsoR
— The China-Global South Project (@ChinaGSProject) May 20, 2026
چینی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لڑائی کا خاتمہ ناگزیر ہے، جبکہ تیزی سے بگڑتی صورتحال میں مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے خاتمے سے توانائی کی فراہمی، عالمی تجارتی نظام اور معاشی استحکام کو لاحق خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ماسکو اور بیجنگ کی دوستی کسی کے خلاف نہیں، روسی صدر پیوٹن
یہ بیان فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے چین کی جانب سے سامنے آنے والے مضبوط ترین عوامی مؤقف میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
چینی صدر کا بیان خلیجی خطے میں طویل جنگ کے معاشی اثرات خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال پر بیجنگ کی بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد بحری راستوں پر نگرانی سخت کیے جانے کے باعث آبنائے ہرمز تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔
اس صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا جبکہ کئی ممالک کو اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کرنا پڑے۔
ٹرمپ کے دورۂ چین کا ذکر
شی جن پنگ کا یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے چند روز بعد سامنے آیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے تاکہ توانائی کی آزادانہ ترسیل جاری رہ سکے، جبکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: روس نے نیوکلیئر ہتھیار سے لیس سپر تارپیڈو کا کامیاب تجربہ کرلیا
وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کی۔
تاہم چین کے سرکاری بیان میں ایران یا ایٹمی ہتھیاروں کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا تھا اور صرف یہ کہا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ سمیت اہم عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
چین روس تعلقات پر زور
دوسری جانب شی جن پنگ نے پیوٹن کے ساتھ ملاقات میں چین اور روس کے درمیان تزویراتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
روسی صدر پیوٹن نے بھی شی جن پنگ کو اگلے سال روس کے دورے کی دعوت دی۔
مزید پڑھیں: روس-چین قربتیں، کیا دنیا، مغرب کے بغیر آگے بڑھنے کو تیار ہے؟
چین اور روس ایران تنازع کے دوران مسلسل قریبی سیاسی رابطے میں رہے ہیں اور دونوں ممالک خطے میں مغربی فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔
اگرچہ چین نے اب تک واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے سفارتی توازن برقرار رکھا ہے۔
تاہم شی جن پنگ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اب اس جنگ کے عالمی اثرات پر زیادہ سنجیدہ تشویش محسوس کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت اور روس چین کے گہرے تاریک سائے میں کھو گئے، ٹرمپ
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، تیل کی ترسیلی گزرگاہیں دباؤ کا شکار ہیں اور فوجی کشیدگی برقرار ہے۔
ایسے میں شی جن پنگ نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع نہ صرف خطے کے توازن بلکہ عالمی طاقت کے اصولوں کو بھی بدل سکتا ہے۔














