محفوظ عالم کی فیس بک پوسٹ، بنگلہ دیش سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے سابق حکومتی مشیر محفوظ عالم نے دعویٰ کیا ہے کہ پابندی کی شکار بنگلہ دیش عوامی لیگ مختلف سیاسی اور سماجی پیشرفتوں کے باعث ملک کے سیاسی منظرنامے میں مؤثر طور پر ’واپس‘ آ چکی ہے۔

جولائی تحریک کی حکمتِ عملی کے معماروں میں شمار کیے جانیوالے رہنما محفوظ عالم نے فیس بک پر اپنی ایک طویل پوسٹ می عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر پابندیاں کے باوجود ’سیاسی بحالی‘ کی تقریباً 20 وجوہات بیان کی ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس جماعت کی واپسی اس وقت شروع ہوئی جب ان کے مطابق ’آزادی مخالف قوتوں‘ نے 2024 کی سیاسی تحریک کو 1971 کی جنگِ آزادی کے جذبے کے خلاف کھڑا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نئے گنگا معاہدے پر بھارت سے تعلقات منحصر ہوں گے، بنگلہ دیش کا دوٹوک مؤقف

انہوں نے عبوری حکومت کے بعض عناصر پر بھی الزام لگایا کہ وہ دائیں بازو کی سیاست کے فروغ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور جمہوری اصولوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

محفوظ عالم نے الزام عائد کیا کہ قانون کی حکمرانی کی جگہ ’ہجوم کی حکمرانی‘ نے لے لی ہے۔

ان کے مطابق سیاسی عدم برداشت، مزارات پر حملے، مساجد میں اختلافی آوازوں کو دبانے اور مبینہ طور پر ہندو برادری پر حملوں پر خاموشی نے عوامی لیگ کے لیے سیاسی جگہ دوبارہ پیدا کی ہے۔

سابق مشیر نے مزید دعویٰ کیا کہ انتہا پسند گروہوں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ دی گئیں، جبکہ سیکولر سوچ رکھنے والے شہری دائیں بازو کے ریاستی سرپرستی میں ابھار پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے عبوری حکومت کے طرزِ حکمرانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت حد سے زیادہ بیوروکریٹک ہو چکی ہے اور چند افراد پر مشتمل ’کچن کابینہ‘ پر انحصار کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف لاوا پکنے لگا، اپوزیشن نے ’بارڈر لانگ مارچ تحریک‘ کی دھمکی دیدی

جس پر مبینہ طور پر مختلف بڑی سیاسی جماعتوں کے خفیہ حامی اثر انداز ہیں، جن میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اصلاحات پر عملدرآمد کی ناکامی، ریاستی اداروں کی سیاسی وابستگی، میڈیا اور ثقافتی اداروں پر حملے اور طلبہ تحریکوں میں بڑھتی ہوئی گروہ بندی نے عوامی لیگ مخالف سیاسی اتحاد کو کمزور کیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں مالی بحران، مرکزی بینک نے 5 مالیاتی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا

بعد ازاں فیس بک پر ایک وضاحتی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ان کے خیالات کو کسی جماعت کی حمایت نہیں بلکہ سیاسی تجزیے کے طور پر دیکھا جائے۔

انہوں نے تمام فاشزم مخالف قوتوں کے درمیان اتحاد کی اپیل کی اور کہا کہ انسانی حقوق کا دفاع سیاسی یا مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اقلیتوں اور مزارات پر حملوں کی تحقیقات، جولائی کے واقعات میں ہلاکتوں پر احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp