اسرائیلی حکام نے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے امدادی بحری بیڑے کے سینکڑوں ارکان کو سمندر میں حراست میں لینے کے بعد اشدود کی بندرگاہ منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ نامی اس کاروان میں پاکستانی شہریوں سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 430 غیر ملکی رضاکار شامل ہیں، جنہیں بین الاقوامی پانیوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا، 2 تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تمام زیرِ حراست افراد کو اسرائیل منتقل کیا جارہا ہے جہاں انہیں ان کے ممالک کے قونصلر نمائندوں کے حوالے کیا جائے گا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی امداد روکنے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا ہے۔
RED ALERT!
Military vessels are currently intercepting our fleet and IOF forces are boarding the first of our boats in broad daylight.
We demand safe passage for our legal, non-violent humanitarian mission. Governments must act now to stop these illegal acts or piracy meant to… pic.twitter.com/4RmPuswZNo
— Global Sumud Flotilla (@gbsumudflotilla) May 18, 2026
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس امدادی مہم کو ناکہ بندی توڑنے کا ایک بدنیتی پر مبنی منصوبہ قرار دیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی اس کاروان کے 4 منتظمین پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
پاکستان، ترکیہ، اسپین اور انڈونیشیا نے بین الاقوامی سمندری حدود میں امدادی جہازوں پر حملے اور رضاکاروں کی گرفتاری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ امدادی قافلے کی ناکہ بندی، اقوام متحدہ کی اسرائیل پر کڑی تنقید
اس مہم میں انڈونیشیا کے نو شہری بھی شامل ہیں جن میں دو صحافی بھی موجود ہیں، جبکہ آئرلینڈ کے 15 شہریوں میں وہاں کی صدر کی ہمشیرہ مارگریٹ کونولی بھی گرفتار کی گئی ہیں۔
پاکستان اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں شروع کر دی ہیں اور اسرائیل سے تمام مغویوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
السفير محمد عليوة المصري الحر اللي اسرائيل اختطفته اليوم من احدى سفن اسطول الصمود المتجهة إلى غزة.
ربنا يحفظك ويرجعك بالسلامة يا سعادة السفير.. مصر والمصريين والله فخورين بيك pic.twitter.com/PLFybi6Ykv
— Ali Bakry (@_AliBakry) May 19, 2026
یاد رہے کہ غزہ 2007 سے اسرائیل کے سخت معاشی اور فوجی محاصرے میں ہے اور وہاں داخلے کے تمام راستوں پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔ گزشتہ ماہ بھی امدادی رضاکاروں کے ایک ایسے ہی بحری بیڑے کو یونان کے قریب سمندر میں روک کر ناکام بنا دیا گیا تھا اور بیشتر ارکان کو ڈیپورٹ کردیا گیا تھا۔














