خواتین سے متعلق فکری رائے کا باقاعدہ سفر افلاطون اور ارسطو کے دور سے شروع ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے خواتین کے متعلق ان 2 متصادم آرا نے جنم لیا جو آج بھی موجود ہیں۔ افلاطون کا کہنا تھا کہ عورت میں اگر صلاحیت ہو تو وہ مرد کی طرح حکمران فلسفی اور محافظ بن سکتی ہے۔ چنانچہ افلاطون خواتین کے لیے تعلیم کا دروازہ بھی کھلا رکھتے ہیں اور ریاست کو تجویز دیتے ہیں کہ اسے دونوں کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ افلاطون کے یہ خیالات اس زمانے کی سماجی روایت سے متصادم ہونے کے سبب غیر معمولی اہمیت رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی سوچ
اس باب میں ارسطو کے خیالات افلاطون سے بالکل مختلف تھے۔ پہلا فرق تو یہی تھا کہ ارسطو خواتین کو مرد سے کمتر سمجھتے تھے یعنی عدم مساوات کے قائل تھے۔ ارسطو کے نزدیک مرد حکمرانی اور عورت اطاعت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ وہ پہلے ہی انسانی ادارے ’خاندان‘ کی سطح سے اسے اطاعت کی ذمہ داری سونپتے ہیں اور مرد کو ہیڈ آف دی فیملی مانتے ہیں۔
یوں گویا آج کل کا یہ تاثر ہی لغو ہے کہ عورت سے متعلق 2 طرح کے متصادم خیالات کا آغاز اسلامی اور غیر اسلامی سوچ سے ہوا۔ یہ تصور اس حد تک لغو ہے صلیبی جنگوں کے دور میں مغرب کا اسلام کے خلاف سب سے بڑا بیانیہ ہی یہ تھا کہ یہ مسلمان اتنے جاہل کہ یہ غلام اور عورت کو بھی عزت دیتے ہیں۔ اور یہ ہم نہیں کہہ رہے کیرن آرمسٹرانگ کی تحقیق ہے۔
عورت سے متعلق افلاطون اور ارسطو کے ان متصادم خیالات کا مغرب میں جو نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ ارسطو کے خیالات کی داد و تحسین ہی نہ ہوئی بلکہ اسے علمی سند کے طور پر اپنی پہلے سے موجود سماجی روایت کی سپورٹ میں قبول کرلیا گیا۔ جبکہ افلاطون کے خیالات مسترد کردیے گئے۔ چنانچہ ارسطو کی تحریریں قرونِ وسطیٰ میں یورپی جامعات اور کلیسائی فکر کی بنیاد بن گئیں۔ ان کا یہ خیال کہ مرد فطری طور پر حکمران اور عورت تابع ہے، سماجی اور مذہبی جواز بن گیا۔ عورت کو عقل، سیاست اور قیادت میں کمتر سمجھنے کا یہ تصور صدیوں تک جاری رہا۔ حتیٰ کہ خاندان میں مرد کی بالادستی، عورت کی محدود تعلیم، اور سیاسی حقوق سے محرومی کو قدرتی نظام کہا گیا۔ آگے چل کر Thomas Aquinas جیسے عیسائی مفکرین نے ارسطو کے فلسفے کو عیسائی الٰہیات کے ساتھ جوڑا۔اس سے عورت کے بارے میں یہ تصور مضبوط ہوا کہ اس کا بنیادی کردار گھر، اطاعت اور بچوں کی پرورش ہے۔یورپ کے قانونی اور سماجی اداروں نے بھی اسی سوچ کو اپنایا۔ اور یہ سب صدیوں تک چلا۔
جب دور آیا رینسانس اور روشن خیالی کا تو پہلی بار وہاں عورت کے حق میں ہلکی پھلکی آوازیں اٹھنی شروع ہوئیں۔ یوں پہلی بار عورت سے متعلق افلاطون کے خیالات مثبت توجہ پانے لگے۔ چنانچہ اس دور میں Mary Wollstonecraft نے عورتوں کی تعلیم اور مساوی عقل کے حق میں لکھا۔
انہوں نے اس خیال کو چیلنج کیا کہ عورت فطری طور پر کم عقل ہے۔ اور اس طرح کی آوازیں بتدریج قوت اختیار کرتی چلی گئیں۔ 19ویں اور 20ویں صدی آئی تو نسوانی فلسفے نے ارسطو اور ان کے ہمنوا قدیم مفکرین کی درگت بنانی شروع کردی۔کہا گیا کہ ان کے نظریات فلسفہ سے زیادہ اس دور کے مردانہ سماج کی عکاسی کرتے تھے۔ مگر اس دور میں بھی کچھ طاقت آوازیں بدستور پرانے خیالات پر ہی قائم رہیں۔ مثلا آرتھر شوپنہاور نے لکھا کہ عورت عقل میں کمزور، جذباتی اور مرد پر انحصار کرنے والی مخلوق ہے۔ دی سوشل کنٹریکٹ جیسی کتاب سے انقلاب فرانس برپا کرنے والے ژاں ژاک روسو کا کہنا تھا، عورت کی اصل ذمہ داری مرد کو خوش رکھنا، گھر سنبھالنا اور بچے پیدا کرنا ہے۔ نطشے نے لکھا
’اگر عورت کے پاس جا رہے ہو تو کوڑا ساتھ لے جاؤ‘
مگر یہ آوازیں رفتہ رفتہ دبتی چلی گئیں۔ اور یہ کل ہی یعنی بیسویں صدی کی بات ہے جب مغرب میں مرد و زن کی مساوات تسلیم کی گئی۔یوں گویا مغرب کو عورت سے متعلق اپنے موجودہ تصور تک پہنچنے میں 24 صدیاں یعنی لگ بھگ ڈھائی ہزار سال لگے۔ مثلا 2 اہم چیزوں سے ہی اندازہ لگا لیجیے کہ وہاں خواتین کو حقوق کب ملے۔ حق ملکیت انہیں 19ویں صدی میں ملنا شروع ہوا جبکہ ووٹ کا حق بیسویں صدی میں۔ امریکا نے 1920، برطانیہ نے 1928، فرانس نے 1944 اور سویٹزرلینڈ نے 1971 میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا۔
اب آجایئے اس مسلم دور کی جانب جو افلاطون و ارسطو کے زمانےکے 960 سال بعد آیا۔جب عباسی دور میں یونانی لٹریچر کے تراجم ہوئے تو قبلہ ارسطو مسلم فلاسفر کے اتنے فیوریٹ ثابت ہوئے کہ انہیں ان کی جانب سے ’معلم اول‘ کا خطاب عطا کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم فلسفے پر سب سے گہرا اثر ارسطو کا ہی ہے۔ سو عورت سے متعلق بھی ارسطو کے خیالات مسلم علمیات کا حصہ بنتے چلے گئے۔ فارابی شاید پہلا مسلم فلسفی ہے جس نے عورت کی حکمرانی کے امکان کو ہلکا سا قبول کیا لیکن مجموعی رجحان فارابی کا بھی ارسطو کی ہی جانب رہا۔ ابن سینا نے بنیادی تصور ارسطو کا ہی قبول کیا مگر روح اور عقل کی بحث میں عورت اور مرد کو انسان ہونے کے ناطے ایک ہی مقام پر کھڑا کیا۔ ابن رشد کا معاملہ مختلف رہا۔ آپ انہیں اس دور کا ’ترقی پسند مسلم فلسفی‘ کہہ سکتے ہیں۔ عورت کے معاملے میں ان کا رجحان افلاطون کی طرف تھا۔
مزید پڑھیے: قصہ میگناکارٹا کا !
مگر عورت کے معاملے میں سب سے حیران کن وہ ابن عربی ہیں جو اپنے تصوف کے سبب بہت متنازع ہوئے۔ وہ بیک وقت صوفی و فلسفی دونوں ہیں سو انہوں نے عورت کو بالکل ہی الگ نظر سے دیکھا اور پیش کیا۔ وہ عورت کو صرف سماجی کردار کے حوالے سے نہیں بلکہ وجود، جمال، الٰہی تجلی، اور روحانی معرفت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ’عورت بطور مظہرِ جمالِ الٰہی‘ ابن عربی کا وہ نکتہ ہے جس پر ان کا پورا تصور عورت کھڑا ہے۔ ابن عربی کے نزدیک کائنات خدا کی صفات کا مظہر ہے، اور عورت جمالِ الٰہی کے ظہور کی ایک خاص صورت۔چنانچہ وہ یہاں تک لکھ گئے کہ مرد کے لیے خدا کی تجلی عورت میں سب سے کامل طور پر ظاہر ہو سکتی ہے۔ اور اپنی اس رائے میں وہ پوری مسلم علمی روایت میں ایک مکمل منفرد شخص ہیں۔ جہاں تک مرد و زن کی مساوات کے سوال کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ابن عربی کہتے ہیں کہ انسان کی اصل حقیقت روحانی ہے، محض جسمانی جنس نہیں۔ چنانچہ اسی نکتے کو ان کے شارحین نے مرد و زن کی مساوات کے تصور کے طور پر کھولا ہے۔
اگر آپ نے غور کیا ہو تو بنیادی تصادم یہ رہا افلاطون کا کیمپ خواتین کو گھر سے باہر کی سرگرمیوں میں بھی شریک کرنے کا حامی تھا اور ارسطو کیمپ انہیں گھر سنبھالنے پر مامور رکھنا چاہتا تھا۔ بظاہر افلاطون کی بات معقول لگتی تھی مگر اس پر عمل کے نتائج آج کے مغرب میں عیاں ہوچکے۔ آج کے دور کی ماڈرن عینک سے بظاہر ارسطو عورت دشمن نظر آتا ہے مگر اس کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بات سمجھانے میں ناکام رہا۔ ورنہ ہمارے خیال میں موقف اسی کا درست تھا۔
ہمارے نزدیک عورت مرد کا نصف بہتر ہے اور نہ ہی مرد عورت کا نصف بہتر۔ یہ 2 الگ وجود ہیں، اور اپنے اپنے مقام پر دونوں کی حیثیت ایک جیسی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں میں فرق برتری اور کمتری کا نہیں بلکہ کسی اور چیز کا ہے۔ پہلا فرق جسمانی ساخت کا ہے۔ کچھ اعضاء مکمل مختلف ہیں اور جو اعضاء یکساں مثلا ہاتھ پیر آنکھیں، کان اور ناک وغیرہ ایک جیسے ہیں بھی تو بناوٹ میں ایسا فرق کہ لگتا ہے مرد کو بس بنایا گیا ہے جبکہ خاتون کو بہت مہارت سے تراشا گیا ہے۔ دوسرا فرق دونوں کی ذہنی و نفسیاتی ساخت کا ہے۔ عورت کی نفسیاتی ساخت ہی نہیں بلکہ ذہنی صلاحیتیں بھی مرد سے یکسر مختلف ہیں۔
خود کو عورت پر مسلط رکھنے کی کوشش کرنے والا مرد جب صلاحیت کی بنیاد پر عورت سے اپنی برتری منوانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا سب سے بڑا حوالہ کیا ہوتا ہے؟ وہ اپنی جسمانی طاقت کو اپنی سب سے بڑی برتری باور کراتا ہے۔ مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ عورت کو طاقت کے بدلے ’توازن‘ دیا گیا ہے۔ ہم سب نے لاتعداد بار لوگوں کو گلی کوچوں اور فٹ پاتھوں پر ٹھوکر کھا کر یہ پھسل کر گرتے دیکھا ہے۔ کسی نے کبھی خاتون کو بھی گرتے دیکھا؟ گھر کے گیلے فرش پر جب بھی پھسلا مرد ہی پھسلا، کبھی گھر کی عورت کو پھسلتے دیکھا ؟ یہ توازن ہے جو اسے محفوظ رکھتا ہے۔ جس کی گود میں شیر خوار بچہ اور ہاتھ میں فرانس کے ٹی سیٹ کی ٹرے ہو وہ گرنا افورڈ کرسکتی ہے؟
مگر سوال تو یہ ہے کہ اسے طاقت دی کیوں جاتی؟ وزن اور بوجھ تو اللہ سبحانہ و تعالی نے سارے مرد پر لاد رکھے ہیں۔ کمائی کا بوجھ اور سیکیورٹی کا بوجھ ہی کچھ کم عذاب ہے؟ شوہر کی کمائی پر بیوی کا مکمل حق، اور بیوی کی کمائی پر شوہر کا حق صفر۔ ملکی دفاع کے لئے مرد پر جہاد فرض اور عورت اس سے مکمل مستثنیٰ۔ کیا یہیں سے واضح نہیں ہوجاتا کہ طاقت کی تقسیم کے پیچھے کیا فلسفہ کارفرما ہے؟
اسی طرح ذہنی صلاحیتیں دیکھیے۔ مرد کی منصوبہ سازی والی فیکلٹی زیادہ مؤثر جبکہ خاتون کا تخیل مرد سے برتر درجے کا۔ مرد تعمیر کا مستری، خاتون تزئین کی ملکہ۔ سو یہ بات اپنے ذہن سے نکال پھینکئے کہ مرد کو عورت پر کوئی جسمانی یا ذہنی برتری حاصل ہے۔ عورت طاقت میں مرد سے کم ہے تو مرد توازن میں عورت سے پیچھے۔ مرد منصوبوں میں عورت سے آگے تو عورت تخیل میں اس سے برتر۔ یہ ہم نے بس نمونے کے طور ایک مثال جسمانی اور دوسری ذہنی دی ورنہ یہ دائرہ بہت وسیع ہے۔
اب آجاتا ہے آخری سوال، صلاحیتوں کا یہ فرق کیوں؟ کیونکہ رول دونوں کا الگ ہے۔ آپ نے تہذب لفظ تو سنا ہی ہوگا۔ وہی جو یونانی، ایرانی، مصری اور چائنیز تہذیب وغیرہ کہلاتی ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے ان تہذیبوں کو مرد نے جنم دیا تھا؟ دنیا کی ہر تہذیب کی خالق عورت ہے۔ اس بات کو بنیادی اکائی یعنی گھرانے سے سمجھیے۔ ایک نیا شادی شدہ جوڑا کرائے کا مکان دیکھنے پہنچا تو لڑکا کہتا ہے، مجھے تو ٹھیک لگ رہا ہے، بات پکی کرلیں؟ لڑکی یعنی زوجہ کہتی ہے، نہیں یہ مکان ہوادار بھی نہیں اور روشن بھی نہیں، سامان منتقل ہونے کے بعد گھٹن محسوس ہوگی۔ مکان عورت کا وہ کینوس ہے جس پر اس نے اپنی فیملی کے رنگ جمانے ہوتے ہیں، سو اس کے رمز وہی بہتر سمجھتی ہے۔ اب اس گھر کو سیٹ کرنے کی جانب آجایئے۔ آپ دس لاکھ روپے کسی مرد کو اور 10 ہی کسی خاتون کو دے دیجیے۔ اور دونوں سے کہیے کہ صرف اپنا اپنا ڈرائینگ روم تیار کرکے دکھایئے۔ فرنیچر، کارپٹ، پردے، پینٹگز، گلدان سب ذہن میں رکھیے۔
مزید پڑھیں: 7مئی: انڈیا تین میں، نہ تیرہ میں
خاتون یہ مقابلہ بھاری مارجن سے جیتے گی، کیونکہ مرد کو جمالیات سیکھنی پڑتی ہے، اور عورت ذوق جمالیات ماں کے پیٹ سے بلٹ اِن لاتی ہے۔ کسی مرد و عورت کے چابی چین ہی دیکھ لیجیے لگ پتا جائے گا کہ جمالیات میں دونوں کے بیچ کتنا بعد المشرقین ہے۔ لیجئے صاحب گھر سیٹ ہوگیا، آرائش بھی اچھی ہے کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی فطری تخلیق کار یعنی عورت نے سجایا ہے۔ اگلے مرحلے میں اب یہ جوڑا صاحب اولاد ہے۔ بچوں کی تربیت یعنی انہیں اچھائی و برائی کے فرق سے لے کر، زبان سکھانے، اور اخلاقیات و اعلیٰ روایات سے آراستہ کرنے کا فریضہ کون انجام دیتا ہے؟ ظاہر ہے ماں انجام دیتی ہے۔ باپ تو دن بھر گھر سے باہر کمائی میں لگا رہتا ہے۔ شام کو آتا ہے تو بس کچھ ہی وقت کے لیے بچوں سے گھل مل پاتا ہے۔ بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو ایک روز مہمان گھر آگیا۔ بظاہر وہ دوست سے ملا مگر اس نے ڈرائینگ روم کی حسن ترتیب بھی نوٹ کرلی، بچوں کی صفائی ستھرائی اور طرز گفتگو و آمد و رفت بھی دیکھ ڈالے۔ یہ مہمان جب اپنے دیگر دستوں میں جاتا ہے تو کیا یہ کہتا ’ملک صاحب کی کیا ہی بات ہے، گھر بھی خوب سجا رکھا ہے اور ماشاءاللہ بچے بھی ایسے مہذب کہ کیا کہنے‘ نہیں بلکہ وہ کہتا ہے
‘۔ملک صاحب بہت خوش قسمت ہیں، اللہ نے انہیں کوئی بہت ہی باکمال خاتون عطاء کی ہیں، گھر کا سلیقہ اور بچوں کی تربیت کا جواب نہیں‘
بس اسی منظر کو اب گھر سے محلے، محلے سے ضلع، ضلع سے صوبے، صوبے سے ملک اور ملک سے تہذیب کی سطح پر پھیلا لیجیے۔ یوں ہر تہذب اس کی عورت کی تخلیق ہے۔ مرد کا کرادر تو بس چوکیدار اور محافظ والا ہے۔ گھر کی کوئی چیز خراب ہوئی تو زوجہ نے شوہر سے کہا، جاؤ کاریگر لے کر آؤ، ٹھیک کرواؤ۔ بچوں میں سے کسی نے بے قابو ہونے کی کوشش کی، یعنی ان روایات و اخلاقیات کو توڑنا معمول بنا لیا جو ماں نے سکھائی تھیں تو باپ کے آتے ہی اس محافظ کو رپورٹ کردیا کہ ہماری روایات خطرے میں ہیں، ان کی حفاظت کے لیے آپ کے ’ڈنڈے‘ کی ضرورت ہے۔ محافظ نے ڈنڈا اٹھایا اور کردیا باغی کو سیدھا۔ سو مرد اور عورت کے رول کا بنیادی فرق یہ ہے کہ عورت تہذیب کی خالق اور مرد اس کا محافظ ہے۔ اب یہ فیصلہ آپ ہی کر لیجیے کہ ان دونوں میں سے زیادہ اہم کون ہے؟ اور کیا نظام تہذیب کو برقرار رکھنا دانشمندی ہے یا اسے اس کے خالق سے محروم کرنا؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













